- الإعلانات -

افغانستان میں امریکی قیام، خطے کے امن کیلئے خطرہ

امریکی قیادت میں اتحادی افواج گزشتہ 16 برسوں سے افغانستان میں بر سرِ پیکار ہیں اور اس طرح اِس جنگ کو طویل ترین امریکی جنگ کہا جا سکتا ہے۔ گو کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے چند ہفتوں میں افغانستان سے متعلق امریکی حکمتِ عملی پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے تاہم اپنی انتخابی مہم کے دوران اْنہوں نے بادلِ ناخواستہ یہ قبول کیا تھا کہ امریکی افواج ابھی افغانستان میں رہیں گی۔ امریکی جریدے وال سٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ ٹرمپ نے افغان صدر اشرف غنی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مزید فوجی افغانستان بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے سیکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی کے لیے تعاون اور اقتصادی شعبوں میں دو طرفہ تعلقات بہتر بنانے پر بات چیت کی ہے۔نیٹو فوجی اتحاد کے قریب 13،300 دستے افغانستان میں تعینات ہیں جن میں نصف کے لگ بھگ امریکی دستے ہیں۔افغانستان میں امریکہ کے دوبارہ قدم جمانے کی وجہ یہ بھی ہے کہ روس افغانستان میں طالبان کی نہ صرف حوصلہ افزائی کر رہا ہے بلکہ امریکی اثر ورسوخ کو کم کرنے اور نیٹو افواج کو شکست سے ہمکنار کرنے کے لیے سفارتی ڈھال بھی فراہم کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق روسی حکام نے حالیہ مہینوں میں تاجکستان اور ماسکو میں طالبان کے نمائندوں سے کئی ملاقاتیں کی ہیں۔ روسی حکومت نے ماسکو میں چین اور پاکستان کے حکام کے ساتھ افغانستان پر بات چیت کے لیے ملاقات کی میزبانی بھی کی تاہم ان مذاکرات میں افغان حکومت کو دعوت نہیں دی گئی تھی۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ جنرل افغانستان میں بدنام زمانہ امریکی سیکورٹی کمپنی بلیک واٹر کو بھیجنا چاہتا ہے۔ بلیک واٹر سیکورٹی کمپنی ہے جس کا ظاہراً مقصد افغانستان اور عراق میں پسند وناپسند عناصر کا خاتمہ اور سویلین شہریوں کی حفاظت ہے۔ لیکن 16 ستمبر 2001ء کو بغداد میں بلیک واٹر کے سیکورٹی گارڈز نے فائرنگ کر کے 14 عراقی شہریوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس وقت اس بلیک واٹر پر شدید تنقید بھی کی گئی تھی۔ بلیک واٹر سیکورٹی کمپنی کے آفیسر نے امریکی کورٹ میں تسلیم کیا تھا کہ اس نے کئی بے گناہ افراد کے قتل کا جرم کیا تھا۔ بلیک واٹر سیکورٹی کمپنی کے ایک ہزار سے تین ہزار لوگ امریکی سفارت کار کو مختلف ممالک میں تحفظ دے رہے ہیں۔ اس کمپنی نے افغانستان میں سیکورٹی کے نام پر بدعنوانیاں اور سویلین شہریوں کو بے گناہ قتل کیا ہے۔ لیکن افغانستان میں مزید فوجیوں کے ساتھ ساتھ بلیک واٹر کے مزید سویلین قاتل بھی تعینات کئے جا رہے ہیں۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ داعش سے وابستہ تمام دہشتگردوں کو خاص مقصد کے تحت افغانستان میں لایا گیا ہے۔ یہ امریکہ کا منصوبہ ہے۔ شام سے افغانستان میں ہزاروں داعشیوں کو بھیجا جاچکا ہے اورکہا جارہاہے کہ امریکہ چین اور روس میں باغیوں کو بھیج کر اپنے مقاصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے اور روس کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔داعش کے افغانستان میں آنے سے پاکستان کی ترقی اور افغانستان کے غیر مستحکم ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ حامد کرزئی نے کہا کہ افغانستان میں داعش کی حمایت کرنے کا مقصد صرف افغانستان کو نشانہ بنانا نہیں ہے بلکہ اصل مقصد ہمسایہ ممالک کے امن کو تباہ کرنا ہے۔ امریکہ افغانستان سے دہشت گردی کو ختم نہیں کرنا چاہتا ہے۔ اگر امریکہ کی نیت صاف ہوتی تو امریکی فوج کی موجودگی میں دن بہ دن افغانستان میں دہشتگردانہ حملوں میں اضافہ نہ ہوتا۔ امریکہ کی موجودگی سے داعش کو افغانستان میں پنپنے کا موقع مل رہا ہے۔خطے میں پاکستان روس اور چینی اتحاد کی ضرورت اس لئے پیش آرہی ہے کیونکہ امریکہ افغانستان میں امن و استحکام قائم کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آرہا ہے اور اسی خطرے کے پیش نظر ممکنہ طور پر پاکستان،روس اور چین ایک ایسا اتحاد بنانے جارہے ہیں جس سے مستقبل میں اس خطے میں بے مثال ترقی اور خوشحالی کو حقیقی شکل دی جاسکے اور افغانستان جیسے غیر مستحکم خطے کو مستحکم بنایا جاسکے۔دفاعی تجزیہ کار جنرل(ر) امجد شعیب نے کہا ہے کہ ’’انہی مجبوریوں سے نمٹنے کیلئے پاکستان نے روس اور خطے کے دوسرے ممالک کی طرف دیکھنا شروع کردیا ہے۔ امریکہ کسی بھی طور پر افغانستان میں استحکام لانے کیلئے تیار نہیں ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان پہلے ہی ٹرمپ حکومت کو پیغام پہنچا چکا ہے کہ اگر امریکی کی طرف سے افغانستان میں استحکام لانے کیلئے اقدامات نہ کئے گئے تو ہم روس اور چین کے ساتھ ملکر افغانستان میں یہ کام کریں گے‘‘۔پاکستان نے خطے کی امن و سلامتی اور تعمیر و ترقی کے لئے ہمیشہ مثبت رویہ اپنایا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ ہمیشہ بھارت کے ساتھ دوستانہ اورافغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔ پاکستان کے برخلاف بھارت زیادہ سے زیادہ روایتی اسلحے کے انبار اکٹھا کرنے اور غیرروایتی ہتھیاروں کی نئی صلاحیت حاصل کرنیمیں دن رات دیوانہ وار بھاگ دوڑ کر رہا ہے۔ امریکہ کا بھارت کے ساتھ لاجسٹک اور میری ٹائم معاہدہ خطرے کی گھنٹی ہے۔اس وقت بحر ہند میں بھارتی بحریہ کے علاوہ ساڑھے تین لاکھ امریکی افواج موجود ہیں۔ چین کے کسی ملک کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم نہیں مگر بھارت کسی انجانے خوف میں مبتلا ہو کر چین کو روکنے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ بھارت کایہ جنگی جنون خطے کی دونوں ایٹمی قوتوں، چین اور پاکستان کے خلاف ہے۔ بھارت کشمیر میں لائن آف کنٹرل پر اشتعال انگیزی کی کوئی نہ کوئی کارروائی کرتاہوا کھائی دیتاہے جبکہ افغان سرزمین کے راستے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی سرپرستی بھی کر رہا ہے۔ افغان قیادت کو بھارتی چال کی مکمل طور پر حوصلہ شکنی کرنی چاہئے۔ ہمیں مغربی محاذ بند کرنا ہوگا کیونکہ افغانستان میں پائیدار امن سے ہی روس اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کو سی پیک سے فائدہ ہوگا۔ نیز افغانستان کو باور کرانا ہوگا کہ یہ منصوبہ اس کیلئے بھی اقتصادی خوشحالی کی نوید ہے۔ سی پیک کے کثیر الجہات فوائد چین اپنے تک محدود نہیں رکھنا چاہتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت جنگی و دفاعی معاہدوں کی بجائے پاک چین راہداری منصوبے کاحصہ بنے اور خطے کو ایٹمی جنگ کی چتا بنانے کی بجائے امن و سلامتی اور ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بنائے۔
*****