- الإعلانات -

اقراباسم ربک الذی خلق

قرآنِ کریم کے 30 ویں پارے کی سورِ مبارکہ ‘العلق’ کی ابتدامیں پروردگارِ عالم ارشاد فرماتا ہے اِقرا بِاسمِ ربک الذِی خلق'(پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا) قرآن حکیم فرقان مجید کی یہی وہ پہلی آئیہِ مبارکہ ہے ‘جوہمارے نبی برحق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم پر بطور وحی سب سے پہلے نازل ہوئی’ اِسی سورہِ العلق میں یہ ارشاد بھی فرمایا گیا (جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا) ،یہاں آج ہم اِسی فکروتدبرمیں مبتلا سوچ رہے ہیں کہ چودہ سوبرس سے زائدعرصہ بیت چکا اورگزررہا ہے’کیا ہم قرآن پاک پر پختہ یقین و ایقان رکھتے ہوئے ‘اللہ تبارک وتعالی کے حکم کی بجاآوری میں کسی کوتاہی کے مرتکب تونہیں ہورہے؟ کچھ پڑھ رہے ہیں یا نہیں؟ جوکچھ پڑھ رہے ہیں؟ کیا ہمارا وہ پڑھنا حکم قرآن حکیم کی روسے اس حکم خداوندی کے اعلی وارفع اوزان پرپورا اترتا بھی ہے یا نہیں؟ جیسا حکم اِسی سورمبارکہ کے ذیل میں ہم پربحیثیت مسلمان واجب قرار دیا گیا کیا ہمارے ہاتھوں میں ویسا ہی ‘قلم’ ہے’جس کی بابت اِسی سور کی آیت میں بیان ہوا ہے؟ ‘الذی علم با لقلم’ (جس نے قلم کے ذریعہ (علم) سکھایا ‘یہ سورہ صرف مسلمانوں سے مخالب نہیں’ بلکہ اشارہ ہے کہ انسان کے ‘ارذل عمر’ جوانی اور بڑھاپے کے ضعف تک پہنچنے والے ہرعمر کے انسان تک کو یہ بتانے اور یہ سمجھانے کی تعلیم دی گئی ہے’ کہ اپنی پیدائش یعنی گہوارے سے قبرتک موت کی گھڑی آجانے تک وہ ‘علم’ حاصل کرتا رہے’ دین اسلام سراسر اول و آخر علم و عمل کے بنیادی اور انتہائی مستحکم انفراسٹرکچر کے مبداپرقائم قرار دیا گیا ہے ‘مگر وائے افسوس! ہم کتنے غافل کس قدر بے پرواہ اور سرکشی کی حد تک آج اِس انتہائی پستی کے مقام تک آن پہنچے ہیں’ اور کیا مقام ہے ہمارا بحیثیتِ مسلمان ملت کے ‘جدید سائنسی ٹیکنالوجی کے حیرت انگیز عہد میں؟ علم وتحقیق اور علمی جستجو کو تج کیئے کتنی صدیاں بیت گئیں؟ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں، معنی پر غوروخوض کرنے کی ضرورت سے بالکل ناآشنا؟قرآن مجید کے 16 ویں پارے کی سورہ طحا کی 114 ویں آئیہِ مبارکہ میں اللہ تعالی کا ارشاد ہم روز پڑھتے ہیں ‘رب زدنی عِلما’ (پروردگار!میرے علم میں اضافہ فرما) خود ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا ہے، پھر علم میں اضافہ کیسے ہو جائے گا؟ امیرالمومینن حضرت علی نہج البلاغہ میں ارشاد فرماتے ہیں ‘وہ علم بہت بے قدروقیمت ہے، جوزبان تک رہ جائے اوروہ علم بہت بلند مرتبہ ہے جو اعضاجو جوارح سے نمودار ہو’ یہی تو آج امت مسلمہ کے سامنے ایک بڑی فکری تشویش ناک ابتری کی صورتحال بنی ہوئی ہے، مسلمان جس کو ابتداسے ‘علم اور قلم’ کی تعلیم دی گئی ہے، اس نے علم حقیقی علم کی تمنا کرنا ہی چھوڑی دی، جب علم حقیقی حاصل ہی نہیں کیا، تو پھر ‘قلم’ کا اس نے کیا کرنا تھا؟ ‘علم اور قلم’ کو چھوڑ کر دنیاوی خواہشات اور دنیاوی طمع و لالچ میں مبتلا ہونے والوں پر اگر آج ابتلا و آزمائش کے پہاڑ ٹوٹنے لگے ہیں تو اسے پہلی فرصت میں غور و فکر کرنے ‘ارض وسما’ بحروبر’ نباتات و حیوانات کی تخلیق کا مشاہدہ کرنے ‘اس پر تدبر کرنے’ اور اپنے گھوڑے اور اسلحہِ جنگ کو نت نئی جنگی ٹیکنالوجی سے ہم عصر بنانے کی جانب کل سے زیادہ کیا آج توجہ دینے کی ضرورت نہیں؟ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں ہر نئے سورج کی کرنوں کے ساتھ ترقی یافتہ انسانی عقل و خرد کو خیرہ کرنے والی دریافتیں کی جارہی ہیں، ایک زمانہ تھا جب مسلمان دنیائے علم و فن اور سائنسی علوم، طب و جراحت، طبیعات، کیمیاء، ارضیات اورعلم ہیت و افلاک میں دنیا کی قیادت کے منصب پر فائز تھے اس وقت یورپ اور امریکا جہالتوں کی تاریکیوں میں کہیں گم تھا، اس عہد میں اگراسلام کا پھر یرا عرب کے صحراوں سے نکل کر تابہ خاکِ کاشغر تک پہنچا تو یہ معجزہ ‘علم اور قلم’ کے ذریعے رونما ہوا تھا، شمشیر کی طاقت کا اِس میں کوئی کردار نہ تھا، مسلمانوں نے علوم کے حصول کی غرض سے دنیا کے دشوار ترین ممالک کا سفر کیا ،حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی رو سے اس عہد کے مسلمان علمانے چین تک پہنچنے کو یقینی بنایا، علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین تک ہی کیوں نہ جانا پڑے آج علم کی بدولت دنیا سمٹ کر کتنی محدود ہو گئی ہے، امریکا اور دیگر مغربی دنیا میں مسلم دنیا کی نسبت کہیں زیادہ علمی اور عملی تحقیق پردن رات کام ہورہا ہے یاد رہے کہ ‘علم مسلمانوں کی گمشدہ میراث ہے’ ہمیں بحیثیتِ مسلم امت کے ہر فرد کو پلٹ کر پھر کبھی واپس نہ ہو نے کے عہد وپیماں کے ساتھ کتابوں کی دنیا کی طرف آنا پڑے گا، چونکہ وہ محاورہ تو ہر مسلمان نے یقیناًسنا ہی ہو ا ہے ‘کتاب ایک بہترین دوست کی حیثیت رکھتی ہے لہذانہایت ہی فخر و انبساط سے ہم اپنے قارئین سے یہ اہم معلومات شیئر کرنا چاہیں گے کہ مسلم امہ کی ابھرتی ہوئی نسل کی رہنمائی کے لئے متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن المکتوم نے عالمِ اسلام کے اِس موجود درد کو بڑی شدت کے ساتھ محسوس کرتے ہوئے اِس جانب مسلم امہ کی توجہ مبذول کرائی ہے اور یہ انقلابی اعلان کیا ہے کہ اب مسلم خطوں کے سبھی ممالک اپنے فروعی اختلافات کو بھلا کر ‘مختلف عقیدوں اور مسلکوں کے خودساختہ حصاروں کوتوڑ کر ‘علم اور قلم’ کے حقیقی مآخذ رشتوں سے خود کو منسلک کرنے پر بہت تیزی رفتاری سے عمل پیرا ہوجائیں، دنیائےِ اسلام کے ہر اسلامی ملک کا ہر فرد ازخود اپنے اوپر یہ لازم کرلے کہ اس نے ہر قیمت پرعلم کی دسترس تک خود پہنچنا ہے، اس نے مواصلات کے جدید نظام تک اپنی رسائی کو ممکن بنانا ہے ‘انٹرنیٹ اور مصنوعی سیاروں کی پہنچ تک اپنی تحقیقی فکر دراز کرنی ہے تاکہ کوئی غیر مسلم مسلمانوں کو تنگ نظر ہونے کا طعنہ نہ دے، علم اور قلم سے دنیا کے ہر ایک لکھے پڑھے ہوئے مسلمان فرد کو اپنی علمی استعداد کو اور مزید دوآتشہ کرنے بڑھانے کی ترغیب کے پھیلاو کی غرض سے متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن المکتوم نے 11 لاکھ درہم کے انعامات کی رقم مختص کرکے اِس جانب پہلا اہم قدم رکھ دیا ہے، جس پر عالم اسلام کے بڑے نامور فقہاوفضلانے انہیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور اِس میں کوئی شک نہیں ہے، دیگر عالم اسلام کے اہم ممالک کو بھی اِس جانب اپنی فوری توجہ د ینی ہوگی اور شیخ رحید المکتوم کی پیروی کرتے ہوئے اپنے اپنے ممالک میں ‘علم اور قلم’ کی مہذب اور متمدن اعلی وارفع روش قائم کرکے اپنی علم دوست ذمہ داریوں کا بروقت احساس کر نا ہوگا ، یہاں خصوصی طور پر ہمارے پیش نظرہمارے اپنے ملک پاکستان کی سبھی سیاسی وسماجی طبقات کی توجہ اِس جانب مبذول کرنا اب اور بھی ازحد ضروری ہوگیا ہے ‘اعلی تعلیمی کمیشن’ جیسے ہنگامی منصوبے کوئی دیرکیئے بناجتنی جلد ہوسکیں شروع کردئیے جائیں، تاکہ پاکستان کے عوام کا ہر طبقہ اپنی دیگر غیر ضروری اور غیر پیشہ ورانہ بے مصرف مصروفیات کو چھوڑ کر اپنے آپ کو اعلی سطحی اور جدید سائنٹیفک تعلیم سے روشناس عالمی حلقوں سے منسلک کرنے میں اب کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرئے جی ہاں! یہی واحد راستہ واحد عزم بہت ہی زیادہ مستحکم اور تیزرفتار ترقی یافتہ پاکستان کے محفوظ مستقبل کیلئے ہر پاکستانی کو کافی سمجھ لینا چاہیے۔