- الإعلانات -

شہادت اور ہلاکت میں امتیاز

گزشتہ ہفتے آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور مسلم لیگ نون آزاد کشمیر کے صدر راجہ فاروق حیدر نے بوکھلاہٹ میں اپنے قائد میاں نواز شریف کی عدلیہ کے ہاتھوں تاحیات نا اہلی پر آزاد کشمیر کے الحاق کے حوالے سے متنازعہ ترین بیان دیا تو آزاد کشمیر اور پاکستان سے ہر طبقہ فکر نے اس کی کھلے لفظوں مذمت کی اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا گیا.موصوف مستعفی تو خیر کیا ہوتے کیونکہ ان کے رگ و پے میں نون لیگی مائنڈ سیٹ کا خون دوڑتا ہے الٹا بضد رہے کہ انہوں نے ایسا نہیں کہا اور عمران خان کے لتے لیتے رہے.آزاد کشمیر تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے.ایک ایسے وقت میں جب کشمیری نوجوان مودی راج کی بنیادیں ہلا چکے ہیں راجہ فاروق حیدر کا بیان جدوجہد آزادی کشمیر کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف تھا.شخصیت پرستی کے زہر میں ڈوبا یہ بیان یقیناًکشمیریوں پر بجلی بن کر گرا ہو گا.کشمیری نوجوانوں کی قربانیوں نے تحریکِ مزاحمت کو ایک اہم موڑ پر لاکھڑا کیا ہے.بھارت کشمیر کو ہاتھوں سے نکلتا دیکھ رہا ہے.اس لیے وہ اس جتن میں ہے کہ کسی طور اس ساری جدوجہد کو متنازعہ یا دہشت گردی سے جوڑ کر دنیا کو گمراہ کر سکے.اگرچہ دنیا بخوبی آگاہ ہے کہ کشمیریوں کو یہ راستہ ان کے سیاسی حقوق بزور طاقت دبانے اور عالمی معاہدوں سے فرار کے نتیجے میں اختیار کرنا پڑا مگر مزاحمتی تحریک سے زچ بھارت پروپیگنڈیکے ذریعے تاریخ کے دھارے کو موڑنے کی تاک میں ہے.مجاہدین کو دہشت گرد اور آزادی کی تحریک کو دہشتگردی قرار دلوانا مودی سرکار کے پروپیگنڈے کا مرکزی نکتہ اور مدعا ہے.جس تواتر کے ساتھ یہ پروپیگنڈ جاری ہے اس کا اثر پڑھے لکھے طبقے پر بھی ہونے لگا ہے،محسوس اور غیر محسوس طریقے سے دہشتگردی اور آزادی کی جدوجہد کو غلط ملط کیا جا رہا ہے۔یہ پڑھ اور سن کر دکھ ہوتا ہے کہ ہمارا دانشور طبقہ بھی مظلوم کشمیریوں کو کبھی باغی کبھی انتہا پسند کبھی شر پسند کبھی دہشت گرد لکھ یا پکار دیتا ہے،حتی کہ شہید کی بجائے ہلاک کہہ دیتا ہے۔یہ کتنی بد قسمتی کی بات ہے کہ وہ اپنے بنیادی حق ,آزادی کیلئے پرامن طریقے سے آواز بلند کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس کا جواب انہیں گولیوں میں دیا جا رہا ہے اور اگر کوئی اس پر سوال یا احتجاج کرے تو بھارت اسے پاکستان کی شرارت اور دہشت گردی قرار دے کر دنیا میں اپنی معصومیت کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے۔کسی بھی محکوم خطے کے عوام صرف اس وقت ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوتے ہیں جب ان کیلئے آزادی حاصل کرنے کے باقی سارے راستے بند کردیئے جاتے ہیں۔دنیا کے متعدد خطوں میں آزادی کیلئے لوگوں نے طویل مسلح جدوجہد کی ہے،مشرقی تیمور اور ڈارفر اس کی مثالیں ہیں مگر اب بین الاقوامی طاقتوں نے بھی معیار بدل لیے ہیں.مقبوضہ کشمیر میں فوجی بربریت سے اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کی جان و مال کی حفاظت کیلئے جان سے جانے والے دہشت گرد نہیں شہید اور مجاہد ہیں.سنن ابوداود میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو شخص اپنا مال(بچاتے ہوئے)مارا جائے وہ شہید ہے، جو اپنے گھر والوں کی حفاظت کرنے میں مارا جائے وہ شہید ہے، یا اپنے آپ کو بچانے میں یا اپنے دین کو بچانے میں مارا جائے وہ شہید ہے”۔کیا آج کا کشمیری نوجوان اپنی ماؤں بہنوں کی عصمتیں بچانے کیلئے جان ہتھیلی پر رکھے نہیں پھرتے.اگر مجبور کشمیری نوجوان دہشت گرد ہیں تو نہتوں پر حملے کرنے والی ان فورسز کو کیا نام دیا جائے گا۔کشمیر کے حالات ایک ایسے موڑ پر آگئے ہیں جہاں منزل دوگام پر دکھائی دیتی ہے،کشمیری قوم نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور وہ اپنا حق حاصل کرنے کیلئے جان کی بازی لگاچکی ہے۔اب فیصلہ اقوام عالم اور پاکستانی قوم کو کرنا ہے کہ تاریخ کے اس فیصلہ کن موڑ پر ان کا کردار کیا ہوگا؟اگر ہمارے دانشور طبقے کے حوصلہ شکن تجزیوں دہشت گرداور مجاہد کے کردار کو گڈمڈ کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو پھر تحریک آزادی کشمیر مظلوم کشمیریوں کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔بھارتی میڈیا تو مجاہدین کو باغی یا غدار لکھے تو بات سمجھ آتی ہے مگر یہاں افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس ضمن مسلم میڈیا بھی کم نہیں جسے شہادت اور ہلاکت میں بھی تمیز نہیں ہے.اس پر ظلم یہ کہ قابض بھارتی فوج کا کوئی اہلکار مارا جائے تو اسے martyr (شہید) لکھ دیا جاتا ہے.کوئی چند ماہ قبل Jordan Time کی ایک خبر پر سوشل میڈیا میں خوب لے دے ہوئی تھی.جس میں 13 فروری 2017 کو کشمیر بارے چھپنے والی ایک رپورٹ میں حق خودارادیت کے لیے شہید ہونے والوں کو دہشتگرد اور واصل جہنم ہونے والے بھارتی فوجی اہلکاروں کو شہید لکھا گیا.اسی طرح پاکستان کے بعض انگریزی اخبارات اس معاملے میں یہی کچھ کررہے ہیں.بابائے قوم کی تصویر اپنی پیشانی کے ساتھ سجانے والے میڈیا ہاوس کا تو یہ وطیرہ ہے کہ وہ پاک فوج کے حوالے سے بھی اسی طرح کی بددیانتی کا مظاہرہ کرتا ہے.اوپر جارڈن ٹائم کی جس رپورٹ کا ذکرکیا گیا ہے جب اخبار انتظامیہ سے بھارتی فوجیوں کو شہید لکھنے کی وضاحت طلب کی گئی تو اس نے حوالے کے طور پر پاکستان کے مذکورہ انگریزی اخبار کے تین لنک شیئر کردیئے جن سے خبر لی گئی.اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل خرابی اپنے گھر کے اندر موجود ہے. کشمیریوں کی جدوجہد کو اس طرح سبوتاژ کرنا قابل مذمت ہے.اس جدوجہد کو اقوام متحدہ کی قراردوں کی مکمل حمایت حاصل ہے جبکہ بھارتی افواج کی کارروائی کو جرم کہا جاتا ہے.مثلا” ستمبر 2015 میں ایک رپورٹ سامنے آئی تھی جس میں عالمی اداروں سے اپیل کی گئی تھی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے بھارتی مطالبے کو کشمیر میں لوگوں کے حقوق کو تسلیم کرنے اور ان کے تحفظ سے مشروط کیا جانا چاہیے.اس رپورٹ کو انسانی حقوق کی تنظیموں کے اتحاد کولیشن آف سول سوسائیٹیز نے دو سال میں تیار کیا تھا۔رپورٹ میں فوج، نیم فوجی اداروں اور پولیس کے 267 سینیئر افسروں سمیت 972 اہلکاروں کو انسانیت مخالف جرائم میں ملوث قرار دیا گیا تھا.بی بی سی نے اس رپورٹ پر اپنے تجزیہ میں لکھا تھا کہ 26 سالہ شورش کے دوران یہ پہلا موقعہ ہے جب کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق اس نوعیت کی ہمہ جہت رپورٹ تیار کی گئی۔ 2008 میں یورپی پارلیمنٹ میں ایک قرار داد کے ذریعے بھی یہی مطالبہ کیا گیا تھا۔800 صفحات پر مشتمل مذکورہ بالا رپورٹ امریکی دانشور اور سیاسی رضاکار ایلی ویزا کے اس قول سے شروع ہوئی کہ ظلم و ستم کے بیچ جانبداری ظالم کی طرفداری کے مترادف ہے اور خاموشی جابر کے ہی ہاتھ مضبوط کرتی ہے۔ایک طرف یہ عالم ہے کہ دنیا قابض بھارتی افواج کی کارروائیوں کو مجرمانہ قرار دے کر مذمت کررہی ہے تو اپنے میڈیا کے بعض مہربان بھارت کی ہمنوائی میں زمینی حقیقتوں کو پامال کر کے میر جعفروں کی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں. انہیں شاید نہیں معلوم کہ شہید کی موت قوموں کی حیات ہوتی ہے۔
****