- الإعلانات -

توانائی اور حکمرانوں کی ہوس زر

چند روز پہلے ڈاکٹر عطا الرحمن خان کا ایک مضمون نظر سے گزرا جس میں انہوں توانائی کے متبادل ذرائع پر ہونے والی تحقیق اور اس پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے دنیا بھر میں زیر زمین موجود تیل (fossil fuel ) کا کم ہوتا ہوا استعمال اور توانائی کے متبادل ذرائع کا استعمال بڑھ رہا ہے جن کا ایک بڑا سبب ان ذرائع کے استعمال سے ماحول میں آلودگی نہیں بڑھتی فوسل فیول چونکہ پیٹرولیم کی مصنوعات ہوتی ہیں جس میں دھوئیں میں موجود گندھک اور دیگر مسموم عناصر سے فضا میں آلودگی بڑھتی ہے اور ہر نوع کی زندگی خصوصا انسانی صحت پر اس کے نہایت منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں دنیا بھر میں اب فوسل فیول کے استعمال میں بتدریج کم لائی جاری ہے اسی وجہ سے دنیا میں پٹرول کی قیمتیں گر چکی ہیں اور بتدریج کم ہورہی ہیں دنیا تیزی سے بدل رہی ہے دنیا کے کئی ممالک سن 2026 کے بعد فوسل فیول سے چلنے والی گاڑیاں بنانی بند کردیں گے جن میں انڈیا بھی شامل ہے یوں 2026 کے بعد زیادہ تر گاڑیاں بجلی پر ہی چلیں گی اور فوسل فیول سے چلنے والی گاڑیاں بتدریج ختم ہو جائیں گی اور یوں ہمارا زمیں میں مدفون سونا دھرے کا دھرا رہ جائے گا لیکن پاکستان میں باوا آدم ہی نرالا ہے جہاں پورے پاکستان میں مقامی گیس اور پیٹرول نہایت وافر مقدار میں موجود ہے اور مقامی گیس پیدا کرنے والی کمپنیوں کی آفرکو جو 4 ڈالر فی یونٹ کی قیمت پر گیس فراہم کرنے کو تیار تھیں درخور اعتنا نہیں سمجھا گیا اس بہت سی وجوہات ہیں لیکن اہم وجہ کمیشن کا حصول ہے اور وہ بھی بھاری بھرکم اگر ملکی وسائل پر بھروسہ کیا جاتا تو ملک بہت آگے جاچکا ہوتا لیکن ہمارے حکمران بلا استثنا ماضی قریب کی تمام حکومتوں نے یہی وطیرہ اپنائے رکھا پچھلی دونوں حکومتوں نے اپنے حکمرانی کے پورے عرصے میں کسی ایک بلاک میں تیل اور گیس کی تلاش کا لائسنس جاری نہیں کیاگیا جب بہت سی درخواستیں بہت عرصے سے معرض التوا میں تھیں جن پر کوئی ایکشن نہیں ہوا وجہ وہی بھاری کمیشن آج بھی دعوی کیا جاسکتا ہے کہ اگر تیل اور گیس کی پاکستان میں تلاش کی اجازت دے دی جائے تو ہمیں تیل اور گیس کی بہت کم ضرورت رہ جائے گی بلوچستان اور بالائی سندھ تیل اور گیس سے مالامال ہے جہاں آج کئی دہائیاں قبل ڈہرکی کے قریب دوسو دڑی کے مقام پر تیل اور گیس نکل آئیچند روز تک جشن منایا گیا لیکن بعد میں بغیر وجہ بتائے اسے بند کردیا گیا اس کے بعد اس علاقے میں مزید کسی ادارے یا کمپنی کو گیس اور تیل کی تلاش کی اجازت نہی دی گئی ہماری ساحلی پٹی گھوڑا باری سے گوادر تک تیل اور گیس سے بھری پڑی ہے لیکن حکمرانوں کو کمیشن چاہئے جو صرف بیرونی سودوں ہی میں مل سکتا ہے ایران سے گیس کا سودا کیا گیا جن نہایت مہنگا تھا تقریبا 12 ڈالر فی یونٹ اور اس پر حکومت کی جانب سے ایسی اضافی ضمانتیں دی گئیں کہ اگر پاکستان نے گیس نہیں خریدی تو پاکستان کو کئی ملین ڈالر بطور جرمانہ ادا کرنا پڑے گا انہیں دنوں شیل گیس دریافت ہوگئی جس کی قیمت دو ڈالر سے زیادہ نہیں لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری قومی پالیسیاں کہیں اور بنتی رہی ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے قومی وسائل کو ترقی دینے کی بجائے ہماری قیادتوں نے ہمیشہ باہر کی جانب دیکھا پٹرول پہلے دن سے امپورٹ ہورہا تھا اور آج بھی ہورہا تھا اپنے ملکی میں گیس نکالنے کی بجائے قطر سے مہنگی ترین گیس کے سودے کئے گئے جن کی تفصیلات اب بھی پردہ اخفا میں ہیں یہ کیس بھی عدالت میں جا چکا ہے سماعت کے دوران تفصیلات سامنے آئیں تو نہایت ہوش اڑا دینے والی ہوں گی ہم پانچ دریاؤں کا ملک ہیں جہاں پانی وافر مقدار میں موجود ہیں کالاباغ ڈیم کو انڈیا کی فنڈنگ سے گالی بنادیا گیا جس میں اچھے خاصے پڑھے لکھے نام نہاد دانشوروں نے چند ڈالروں کے عوض اپنا ضمیر اور ایمان بیچ دیا زہریلے اور جھوٹ پر مبنی مضامین لکھ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جس کا سب سے بڑا نقصان سندھ کو ہوگا یاد رہے کہ حکومتی عدم دلچسپی کے باعث ہم دوروزقبل دو ڈیموں پر اپنا کیس ہار چکے ہیں جس کا کسی کودکھ نہیں بس اپنی سلطنت بچانا ہی ان کی سب سے بڑی priority ہے انڈیا کے ڈیم بنا کر ہمارا پانی روکے جانے کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں جیسے ہی انڈیا کے ڈیم بنانے کے جو منصوبے جوتکمیل کے مراحل طے کر رہے ہیں مکمل ہوئے تو پاکستان کے دریاؤں میں ریت اڑے گی جس کا نہری نظام دنیا کا سب سے بڑا نظام ہے دنیا بھر کے فنی ماہرین آج بھی اس بات پر متفق ہیں کہ کالاباغ منصوبہ ہر لحاظ سے قابل عمل اور نہایت منافع بخش منصوبہ ہے جس کی پاکستانی صنعت اور زراعت کے لئے بے انتہا اہمیت ہے لیکن ہمارے حکمران اپنے ذاتی مفادات میں مگن ہیں نہ کالا باغ ڈیم نہ داسو ڈیم نہ بھاشا ڈیم مکمل کیا جارہا ہے ڈیزل اور گیس کی مہنگے ترین پلانٹ لگائے جارہے ہیں دنیا بھر میں کوئلے سے چلنے والے پلانٹ انسانی صحت کی تباہی کے سبب ختم کئے جارہے ہیں لیکن وہی پلانٹ پاکستان میں لا کر دھڑلے سے لگا کر قوم کو اپنے نجات دہندہ ہونے کا تاثر دیا جارہا ہے قوم کے ساتھ اس سے بڑی غداری نہیں ہو سکتی ان تمام حرکتوں کے پیچھے کمیشن کے علاوہ ان طاقتوں کا ایجنڈہ ہے جو بخوبی جانتے ہیں کہ اگر پاکستان میں ایک سال کے لئے بھی اگر کوئی مخلص قیادت آگئی تو پاکستان ترقی یافتہ ملک بننے میں دیر نہیں لگائے گا بس غیر ملکی ایجنڈے کی حامل کٹھ پتلیوں سے جان چھٹنے کی دیر ہے ہمارا حکمران ٹولہ اپنے گھر بار بال بچے جائیدادیں ملک باہر رکھتا ہے اور عوام سے ہمدردی یا بھلائی سے بالکل غیر متعلق ہے یہ ملک ان کی شکارگاہ ہے یہ یہاں محض شکار کھیلنے آتے ہیں شکار کرکے اپنے گھر چلے جاتے ہیں جن کے اپنے محلات اور اثاثہ جات بھاری بھرکم بینک اکاؤنٹ جائیدادیں کاروبار دبئی امریکہ اسپین لندن ملائشیا اور دیگر ممالک میں ہیں جن میں سے کچھ اللہ کی پکڑ میں آچکے ہیں جو عوام کا مال بغیر ڈکار مارے ہضم کئے بیٹھے تھے باقی بھی احتساب کی زد میں ہیں نیب کی نہیں موجودہ نیب نے تو ہمیشہ مجرموں کو تحفظ فراہم کیا ہے ان شا اللہ اب احتساب کا عمل شروع ہو چکا ہے اور یقین ہے کہ یہ رکے گا نہیں اور عوام کی لوٹی ہوئی دولت واپس آئے گی ہم بحیثیت انسان بھول چکے ہیں دنیا ایک سرائے ہے یہ مال و متاع یہیں رہ جائے گا ساتھ صرف اعمال ہی جائیں گے اللہ ہمیں دنیا کی حقیقت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اللہ وطن اور اہل وطن کی حفاظت فرمائے ۔آمین