- الإعلانات -

افغان مہاجرین کی دوبارہ آمد اور امریکہ

asghar-ali

معتبر اخباری اطلاعات کے مطابق افغانستان سے مہاجرین کی پاکستان آمد کا سلسلہ دوبارہ نئے سرے سے شروع ہو چکا ہے اور روزانہ تقریباً ڈیڑھ سو خاندان پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات سے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں ۔ مبصرین کے مطابق اس صورتحال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کے اندر سلامتی کی صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے اور بظاہر قابل انتظامیہ کی گرفت ملکی معاملات پر کمزور پڑ رہی ہے ۔ دوسری جانب طالبان کی افغانستان کے اندر کاروائیوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور طالبان کے متحارب گروہوں کی باہمی چپقلش بھی خاصی بڑھ گئی ہے ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے غیر جانبدار تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ جدید عالمی تاریخ میں کسی بھی ملک نے اپنے یہاں اتنے مہاجرین کی میزبانی کا فریضہ انجام نہیں دیا جس قدر گذشتہ تیس برسوں میں پاکستان کے عوام اور حکومتوں نے اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ حقیقی بھائی چارے اور مذہبی اخوت کے جذبات کا مظاہرہ کیا مگر یہ بھی المیے سے کم نہیں کہ افغانستان کی موجودہ اور سابقہ حکومتوں نے حتی الامکان پاکستان کے ان برادرانہ جذبات کی خاطر خواہ ڈھنگ سے پذیرائی نہیں کی ۔ اس کے علاوہ افغان معاملات کے اصل کرتا دھرتا امریکہ نے بھی پاکستان کی حکومت اور عوام کے تئیں اس طرز عمل کا مظاہرہ نہیں کیا جس کے وہ مستحق تھے کیونکہ اس امر سے کون انکار کر سکتا ہے کہ کہ عالمی سطح پر امریکہ کو واحد بین الاقوامی طاقت کا درجہ دلانے میں پاکستان نے کلیدی کردار نبھایا ۔
یہ ایک الگ بحث ہے کہ پاکستان کی یہ پالیسی کس حد تک اس کے قومی مفاد میں تھی لیکن یہ امر بہر کیف طے ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے اور سوویت یونین کو منتشر کر کے امریکہ کو دنیا کی صف اول کی واحد بین الاقوامی قوت بنانے کا سبب پاکستان ہی بنا گویا
پہلے کہاں یہ ناز تھے یہ عشوہ و ادا
ہم کو دعائیں دو تمہیں قاتل بنا دیا
بہر حال یہ ایک کھلا راز ہے کہ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کے دور میں پاک افغان تعلقات بڑی حد تک کشیدگی کا شکا ر رہے جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ کرزئی اپنے پورے دورِ اقتدار میں اپنے بھارتی آقاﺅں کے اشاروں پر ناچتے رہے ۔ مگر ستمبر 2014ءمیں جب نئے منتخب صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے اقتدار سنبھالا ، تب سے دونوں ممالک بڑی حد تک اچھے تعلقات قائم کرنے پر آمادہ نظر آئے ۔
اس کی ایک مثال تو صدر اشرف غنی کا دورہ پاکستان تھا جس دوران وہ خصوصی طور پر ” جی ایچ کیو “ بھی تشریف لے گئے اور افواجِ پاکستان کی قیادت سے بھی سنجیدہ مذاکرات کیے ۔ اس کے علاوہ 16 دسمبر کو جب سانحہ پشاور پیش آیا تو اس کے اگلے ہی روز پاک فوج کے سربراہ ” جنرل راحیل شریف “ تمام پروٹوکول بالائے طاق رکھ کر افغانستان گئے اور وہاں صدر اشرف غنی سے ملاقات میں پاکستان میں کاروائیاں کرنے والے ان دہشتگردوں کی بابت ٹھوس شواہد مہیا کیے جو افغانستان کے مختلف علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور ان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ بھی کابل حکومت سے کیا گیا ۔
اس کے چند روز بعد افغان آرمی چیف جنرل ” شیر محمد “ اور ایساف کمانڈر نے بھی پاکستان کا دورہ کیا اور پاک عسکری قیادت سے ملاقات کی ۔ اسی عمل کے تسلسل میں آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ” رضوان اختر “ کابل گئے۔ اس کے بعد جب امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری پاکستان آئے( 12 تا 13 جنوری) تو ان سے بھی پاکستان کی عسکری اور سیاسی لیڈر شپ کی جانب سے ٹھوس الفاظ میں مطالبہ کیا گیا کہ وہ افغانستان میں چھپے ہوئے دہشتگردوں کے خلاف موثر کاروائی کریں ۔ باخبر ذرائع کے مطابق مولوی فضل اللہ کو بھی تبھی مطلوب ترین عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ۔
اس سے ظاہر ہوا کہ پاک افغان تعلقات نسبتاً بہتری کی جانب گامزن ہیں اور امریکہ کے ساتھ پاکستان کے روابط میں بھی 2 برس بیشتر والی تلخی نہ رہی ۔ یاد رہے کہ 2011 ، 2012 ءمیں ریمنڈ ڈیوس “ کے معاملے کے علاوہ ” اسامہ بن لادن “ کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے جیسی وجوہات کی بنا پر تلخی کا عنصر بہت غالب تھا جس میں قدرے کمی آ رہی ہے ۔
اس صورتحال کا مجموعی جائزہ لیتے ہوئے مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ 14 اگست کو پاکستان نے جب برطانوی اقتدار سے آزادی حاصل کر کے ایک نئی اور خودمختار مملکت کی حیثیت سے اپنے وجود کا آغاز کیا تو روزِ اول سے ہی پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ دنیا کے سبھی ملکوں خصوصاً ہمسایوں سے عدم مداخلت اور برابری کے اصولوں کی بنیاد پر تعلقات استوار کیے جائیں ۔ اور اپنے اس مقصد میں پاکستان کو بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی مگر بد قسمتی سے بھارت کی شکل میں اسے ایک ایسا ہمسایہ میسر آیا جس نے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کے جواب میں ہمیشہ توسیع پسندی کی روش اپنائے رکھی اور کشمیر دکن حیدآباد ، جونا گڑھ ، مناور کے علاوہ جموں کشمیر پر ناجائز تسلط جما لیا اور تا حال یہ غاصبانہ قبضہ جاری ہے ۔
دوسری طرف بھارتی حکمرانوں نے کرزئی کے دور میں افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ میں بڑی حد تک اضافہ کر لیا اور جلال آباد ، قندھار ، ہرات اور مزار شریف میں اپنے قونصل خانوں کے ذریعے پاکستان کے اندر دہشتگردی کو فروغ دینے کی قابلِ مذمت روز میں بہت شدت پیدا کر دی جس کے نتیجے میں پاکستان کے مخلتف حصوں خصوصاً بلوچستان میں دہشتگردی کو بہت فروغ ملا ۔ جب افغانستان میں سیاسی قیادت تبدیل ہو چکی تھی تو امید کی جا رہی تھی کہ پاکستان میں مداخلت میں بڑی حد تک کمی آئے گی اگرچہ اس تلخ حقیقت سے مکمل چشم پوشی بھی نہیں کی جا سکتی تھی کہ افغان نیشنل آرمی خصوصاً افغان انٹیلی جنس کے اداروں میں بھارتی اثر و رسوخ بہت سرایت کر چکا ہے اور خدشہ تھا کہ یہ عناصر بھارتی شہ پر اپنی کاروائیوں کو جاری رکھیں گے ۔اور ان خدشات نے تب حقیقت کا روپ دھار لیا جب مئی 2015ءکے بعد سے غنی حکومت نے بھی بھارتی اشاروں پر ناچنا شروع کر دیا اور آئے روز ایک جانب پاکستان کے خلاف الزام تراشی کی جانے لگی تو دوسری طرف وقتاً فوقتاً سرحد کے اس پار سے گولہ باری بھی معمول بن گئی۔ چند روز قبل بھی ” انگور اڈہ “ نامی علاقے میں افغانستان کی جانب سے گولہ باری کی گئی ہے ۔
اس کے باوجود توقع کی جانی چاہیے کہ امریکہ اور اشرف غنی کی حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے عمل کو ٹھوس بنیادوں پر آگے بڑھائیں گے ۔