- الإعلانات -

الیکشن قوانین کا ترمیمی بل 2017

انتخابی قوانین کو بہتر بنانے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اختیارات کو وسعت دینے کے لیے الیکشن قوانین کا ترمیمی بل 2017 قومی اسمبلی کے رواں اجلاس کے دوران پیش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔دو سال کی مشاورت اور غور و خوض کے بعد اس مسود قانون کو آخری شکل دے دی گئی ہے اور چند اختلافی نوٹ کے ہمراہ اس بل کو اسمبلی کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔جمہوریت کے استحکام کے لیے جمہوری معاشرے میں انتخابی عمل میں اصلاحات ایک مسلسل عمل تصور کیا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں انتخابی اصلاحات کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے۔حزب اختلاف کی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات سامنے آنے کے بعد2014 میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نے وزیر خزانہ کی صدارت میں انتخابی قوانین میں ترامیم تجویز کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔اس کمیٹی نے تین ماہ کے عرصہ میں انتخابی اصلاحات پیش کرنا تھیں مگر تین سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی اب تک یہ معاملہ لٹکا ہوا ہے۔اب الیکشن قوانین کا ترمیمی بل 2017 قومی اسمبلی کے رواں اجلاس کے دوران پیش کیا جائے گا جو ایک خوش آئند بات ہے۔انتخابی اصلاحات کے اس بل کو حتمی شکل دینے کے لیے اس کمیٹی کے 118 اجلاس ہوئے جن میں سے 25 پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس تھے اور 93 وزیر قانون زاہد حامد کی سربراہی میں قائم ذیلی کمیٹی کے اجلاس ہوئے۔ان اجلاسوں میں پارلیمان میں موجود حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے موصول ہونے والی 631 مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔اس کمیٹی کے آخری اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف نے واک آؤٹ کیا جن کی عدم موجودگی میں مسود قانون کو آخری شکل دے دی گئی۔ملک میں آزادنہ، غیر جانبدارنہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمانی کمیٹی نے جو مسودہ تیار کیا ہے اس میں ماضی کے آٹھ مختلف قوانین کو شامل کرنے کیلئے علاوہ الیکشن کمیشن کو مزید اختیار دینے کے لیے نئی تجاویز بھی شامل ہیں۔نئی تجاویز انتخابی فہرستوں کی تیاری، انتخابی حلقہ بندیوں، کاغذاتِ نامزدگی کو آسان اور سہل بنانے، پولنگ اسٹیشنوں پر نگرانی کے لیے کیمروں کی تنصیب، خواتین ووٹر کی شمولیت، انتخابی عملے کے اختیارات، انتخابی عذرداریوں کو جلد نمٹانے اور انتخابی قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کو یقینی بنانے سے متعلق ہیں۔الیکشن اصلاحات 2017 کے مجوزہ مسودے میں جن موجودہ قوانین میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں ان میں الیکٹرول رول ایک مجریہ 1974، انتخابی حلقہ بندیوں سے متعلق ڈی لمیٹیشن آف کونسٹی ٹونسی ایکٹ 1974، سینیٹ الیکشن ایکٹ 1975، ریپریزنٹیشن آف پیپلز ایکٹ 1974، الیکشن کمیشن آرڈر 2002، عام انتخاب کے انعقاد سے متعلق 2002 کا قانون اور پولیٹیکل پارٹی آرڈر 2002 شامل ہیں۔ان اختیارات میں عام انتخابات سے چھ ماہ قبل الیکشن کمیشن کو جامعہ ایکشن پلان تیار کرنا ہو گا جس میں ان تمام انتظامی اور قانونی اقدامات کی تفصیل فراہم کی جائے جو عام انتخابات کے دوران لیے جائیں گے۔الیکشن کمیشن کو انتخابی نتائج کے اعلان کے لیے ایک شفاف ‘رزلٹ مینجمنٹ سسٹم’ بھی وضع کرنا ہو گا جس کے تحت ووٹوں کی تیزی سے گنتی، نتائج کو جمع کرنے اور نتائج کی تشہیر کو یقینی بنایا جائے گا۔ان اصلاحات کے تحت الیکشن کمیشن خواتین، غیر مسلم، جسمانی طور پر معذور اور خواجہ سراوں کے ووٹوں کو رجسٹر کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کرے گا۔اس کے علاوہ الیکشن کمیشن تمام انتخابی عملے کو انتخابی ذمہ داریوں کے لیے تعینات کرنے سے پہلے قانون پر سختی سے عملدرآمد کرنے کے لیے حلف بھی لے گا۔الیکشن ایکٹ 2017 کے مسودے میں نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کی تجویز پیش کی گئی ہے لیکن ان تمام اقدامات کیلئے بروقت قانون سازی اور فنڈز ضرورت ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کئی بار خبردار کیا جاتا رہا ہے کہ اگلے شفاف انتخابات کے انعقاد کا انحصار پارلیمنٹ کی بروقت قانون سازی اور دیگر انتظامی اقدامات پر ہے۔ انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ میں حائل رکاوٹیں بروقت دور نہ کی گئیں تو آزاد اور شفاف الیکشن کا انعقاد ممکن نہیں سکے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ وفاقی اور پارلیمنٹ اس بل کو جلد از جلد حتمی شکل دے2018کے انتخابات کیلئے اب وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ویسے تو اصلاحات کا یہ عمل بہت پہلے مکمل ہو کر منظور چکا ہوتا تو الیکشن کمیشن کا کام آسان ہو جاتا تاہم اب بھی وقت ہے بل کو اتفاق رائے سے منظور کیا جائے تاکہ انتخابات کا انعقاد بروقت نئی اصلاحات کے مطابق یقینی بنایا جا سکے۔
آئین اور قانون کی بالادستی کا عزم
پیر کے روز جی ایچ کیو راولپنڈی میں کور کمانڈرز کی معمول کی مگر اہم کانفرنس آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت ہوئی جس میں اندرونی اور بیرونی سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس کے دوران خطے اور بالخصوص افغانستان کی سیکورٹی صورتحال بھی زیر غور آئی اور علاقائی امن اور سیکورٹی کے حوالے سے عزم کا اظہار کیا گیا۔اس موقع پر ملک کی اندرونی سیاسی صورتحال کے پس منظر میں پاک فو ج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے دو ٹوک الفاظ میں اس عزم کا اظہار کیا کہ آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے فوج تمام قومی اداروں سے ملکر کام کرتی رہے گی،اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ملکی اداروں کے ساتھ ملکر جدوجہد جاری رہے گی، باہمی تعاون سے پائیدار علاقائی امن کی پالیسی کے مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں،انہوں نے واضح کیا کہ راجگال کے مشکل ترین علاقے میں آپریشن کے دوران کم سے کم نقصان پاک فوج کے اعلی پیشہ وارانہ معیار کا عکاس ہے۔انہوں نے آپریشن ردالفساد پر بھی اظہار کیا اور کہا کہ اس آپریشن کے مثبت نتائج مرتب ہورہے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہدایت کی ہے کہ دوسرے قومی اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی اور انتہا پسندی کو مکمل شکست دی جائے، قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کیلئے تمام قومی قوتیں مل کر کام کریں،دیرپا قیام امن کیلئے ہم افغانستان کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعاون کے خواہاں ہیں۔قومی سلامتی اور سیکورٹی کے حوالے سے پاک فوج کی خدمات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آرمی چیف نے دہشت گردی کو شکست دینے کیلئے مشترکہ کوششوں کو یقینی بنانے کی ہدایت کی-
لاہور دھماکا۔۔۔ذمہ داروں کی آنکھیں کب کھلیں گی
گزشتہ روز لاہور ایک بار پھر ایسے موقع پر دھماکے سے لرز اٹھا جب یہاں دو بڑی سرگرمیاں ہونے والی تھیں۔آٹھ اگست کو علامہ طاہرالقادری نے وطن واپسی پر ایک ریلی کی قیادت کی تو آج سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اسلام آباد سے ایک ریلی کی قیادت کرتے ہوئے لاہور پہنچ رہے ہیں۔یہ دھماکہ اسلام پورہ کے آؤٹ فال روڈ کی ایک پارکنگ میں کھڑے ایک ٹرک میں ہوا۔اللہ کا شکر ہے کہ اس دھماکے کے نتیجے میں انسانی جانوں کا ضیاع نہیں ہوا تاہم 46 افراد زخمی ہوئے۔پولیس انتظامیہ کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خوبانی کی پیٹیوں سے بھرے ٹرک کو سوات سے لاہور لایا گیا تھا جبکہ یہ ٹرک گزشتہ تین دن سے پارکنگ میں موجود تھا۔حکام کے مطابق ٹرک میں بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد موجود تھا جس کا وزن معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید یہ اگلے دو دن لاہور میں ہونے والی سیاسی ریلیوں میں استعمال ہونا تھا تاہم ابھی اس معاملے کا تعین ہونا باقی ہے۔اتنی بڑی مقدار میں بارود سے بھرے ٹرک کا سوات سے لاہور پہنچ جانا راستے کے پولیس ناکوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔لاہور پاکستان کا دل ہے مگر دہشت گردوں نے اسے اپنی آجگاہ بنا رکھا ہے آخر یہ کس کی ذمہ داری ہے کہ وہ آنکھیں کھول کر لاہور پر نظر رکھے اور اسے وزیرستان بننے سے بچائے۔