- الإعلانات -

لبرل اور جمہوری پاکستان

Mian-Tahwar-Hussain

پاکستان کو معرض وجود میں آئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اڑسٹھ برس گزر چکے لیکن ہم اب تک نہ تو ایک اسلامی ریاست بن سکے اور نہ ہی صحیح معنوں میں جمہوری ملک کی داغ بیل ڈال سکے۔ سیاسی سربراہ کبھی یہاں سوشلزم کا پرچارکرتے ہیں کبھی اسلام کا نام بلند کیاجاتا ہے کبھی مساوات کا واویلا ہوتا ہے اور کبھی کچھ ۔ ریاست کبھی روشن پاکستان ہے اورکبھی جمہوری ملک اور اب لبرل ازم کی طرف مائل ہوگئے ہیں۔ حال ہی میں وزیراعظم نوازشریف نے سرمایہ کاری کانفرنس میں ارشاد فرمایا کہ اب پاکستان کا مستقبل لبرل اورجمہوری ہے۔ اس کا پہلا اظہار تو حضرت علامہ اقبالؒ کی پیدائش پر جو تعطیل ہوئی تھی اسے ختم کردیا جس سے لوگوں میں حیرانی اورتعجب کے ملے جلے تاثرات نے جنم لیا ۔ حضرت علامہ ؒ تو اجتہاد کے ذریعے نئے افکارکو پروان چڑھانے کے حامی تھے ۔ لبرل ازم کا دوسرا قدم دیوالی کی تقریبات میںشمولیت اور اس خواہش کا اظہار بھی کہ نہ صرف انہیں بلایا جائے بلکہ رنگوں کی بارش بھی ہو۔ کیا ہندوستان کے سربراہ مملکت نے کبھی ایسی خواہش کا اظہار کیا کہ اسے عید کے تہواروں میں شرکت کی دعوت دی جائے یا بقر عید ہرطرح کی گوشت سے بنی ڈشیںکھانے کا موقع فراہم کیا جائے اس سے پہلے وہ غیر ملکی دورے میں یہ بھی فرما چکے ہیں کہ ہمارا ر ہن سہن ثقافت طورپر طریقے یکساں ہیں۔ ہمارا مستقبل بھی ایک دوسرے کےساتھ جڑا ہے۔ فقط سرحد کی ایک لکیر درمبان میں حائل ہے۔ اسکے باوجود ایک اچھے ملکوں کی طرح ہم رہ سکتے ہیں۔اگرچہ دونوں ممالک پائیدار دوستی کے ذریعے خوشحالی لا سکتے ہیں ۔ موجودہ تنازعات بھی باہم گفت و شنید کے ذریعے اگر ہندوستان حل کرنا چاہے توحل ہوسکتے ہیں ۔ ایک قابل فخر تبدیلی آسکتی ہے لیکن سرحدوں کی مجبوری سمجھ کر انہیں ایک طرف رکھ کر ایسا نہیں ہوسکتا ۔2014ءمیں وزیراعظم نریندر مودی جب ہندوستان کے وزیراعظم بنے تو انکی تقریب حلف وفاداری میں شرکت کے لئے ہمارے وزیراعظم وہاں پہنچ گئے جو کہ دہلی میں منعقد کی گئی ۔ مقصد یہ تھا کہ بند دروازوں کوایک اچھے تاثر کے ذریعے کھولا جائے لیکن نریندر مودی کا جذبہ کہاں تک پاکستان اور مسلمانوں کے حق میں بدلا یہ ڈھکی چھپی بات نہیں۔ شیوسینا کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں حکومت ہندوستان کی پالیسیوں کی غماز ہیں۔ وہاں ہر طبقہ فکر کے لوگ بھارتی حکومت کی پالسیوں اور مسلمانوں اور اقلیت کش رویے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ حالیہ دورہ لندن میں جوپذیرائی ہوئی وہ بھی نریندر مودی کے منہ پر طمانچہ ہے کیا لبرل ازم کے ذریعے ہم ازلی دشمن کو دوست بنا سکتے ہیں جبکہ اس کے خمیر ہی میں مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف نفرت ہے مجھے 1993ءکی تقاریر جو وزیراعظم نے انتخابی معرکوں میں عوامی جلسوں میں کی تھیں یاد آرہی ہیں جب انہوں نے فرمایا تھا کہ آپ (ن) لیگ کو ووٹ دیں تو میں پاکستان میں نفاذ شریعت کے ذریعے ملک کو نظریاتی اساس بناﺅں گا ۔ پھر 1997ءمیںدو تہائی اکثریت ہونے کی وجہ سے پندرویں ترمیم پیش ہوئی جسکا مقصد یہ تھا کہ وزیراعظم کو زیادہ سے زیادہ اختیار مل جائیں تاکہ جرائم پیشہ افراد کو اسلامی قوانین کے ذریعے سزائیںمل سکیں۔ کہاں گئیں یہ سب سوچیں اور اسلامی نظام کو رائج کرنے والی باتیں۔ اب لبرل پاکستان کاخواب دیکھا جارہا ہے اسکا مطلب ہے ایسا پاکستان جہاں مذہب ذاتی ایشو اورشخصی آزادی بدرجہ اتم ہوگی۔ کیا پاکستان حاصل کرنے کیلئے جو نعرے لگائے گئے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ جو مقصد تھا ایک الگ ریاست حاصل کرنے کا وہ فرسودہ سوچ بن گئی ۔ پاکستان اڑسٹھ برس میں بھی اسلامی ریاست نہ بن سکا اسلامی قوانین رائج ہونا تو دورکی بات ہے۔ وہ معاشرہ ہی معرض وجود میں نہ آسکاجو اسلامی قوانین نافذ کرنے کاخواہش مند ہوتا وہ تمام شہادتیں رائیگاں جارہی ہیں جو پاکستان بنتے وقت وقوع پذیر ہوئیں۔ علامہ اقبالؒ کی سوچ اورقائداعظمؒ کی کاوشیںکبھی ضائع نہیں ہوسکتیں۔ تیسری بار ملک کا وزیراعظم بن کر انہیں کونسی وجوہات ہیں جو ملک میں اسلامی نظام رائج کرنے میں پابندی اورمشکلات پیداکررہی ہیں اورہم لبرل ازم کی سوچ پھیلانے کی خواہش پال رہے ہیں۔ اسی لبرل ازم نے یورپ کے ممالک میںشخصی بے لگام آزاد کی وبا نے وہاں اخلاقی طورپرک یا حال کردیا۔ مذہب کاتو حال ہی نہ پوچھیں ۔ ہمیںپاکستان کو ایک تجربہ گاہ نہیں بنانا چاہیے۔جن عوامل نے ہمیں پاکستان عطا کیا اورجس نظریے کے تحت ہم نے پاکستان کیلئے جدوجہد کی وہ نظریہ پاک وطن میںرائج کرنے کی خواہش میں ہیں وہ کامیابی ہمیں کیوں نہیں مل رہی۔ ہم کیوں مغربی ا فکار کی زد میںآنے کیلئے مچلتے ہیں۔ اسلامی نظام اورشریعت محمدی کو ہم کیوں نافذ نہیں کرتے۔ کوا چلا ہنس کی چال اور اپنیچال بھی بھول گیا والامعاملہ ہمارے ساتھ بنا ہوا ہے۔ مسلمان ہوکر ہم اپنی تعلیمات سے دور کیوں بھاگتے ہیں۔ اللہ ہمیںمخلق ازموںسے محفوظ رکھے اور اسلام ازم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے جس نے تمام دنیا پر رائج ہنا ہے اور شخصی آزادیوںکاعلمبردار بھی ہے ۔مجھے ایک واقعہ یادا ٓگیا آپ سے شیئرکرتا ہوں۔ ایک صاحب جن کا نظام دین تھاوہ لاہور سے کراچی جارہے تھے انہیں اسٹیشن پر خداحافظ کہنے کیلئے چھوٹا بھائی اسلام دین بھی پہنچ گیا چھوٹے بھائی کے پاس نظام دین کی ٹکٹ بھی تھی۔ وہ دونوںخوش گپیوںمیں مصروف تھے کہ گارڈنے وسل بجا دی گاڑی پلیٹ فارم پر رینگنے لگی اور پھر ہلکی سپیڈ پکڑ لی۔ نظام دین کو یاد آیا کہ ٹکٹ تو اسلام دین کے پاس ہی رہ گئی تو اس نے اپنے چھوٹے بھائی کو زور زور سے آوازیںدینا شروع کردیں اسلام اسلام اسلام لوگوں نے جواباً کہنا شروع کردیا زندہ باد زندہ باد نظام کہے اسلام اورلوگ کہیں زندہ باد پھرکیا تھا اسلام پلیٹ فارم پر ہی رہ گیا اور نظام نظروںسے اوجھل ہوگیا۔
یہی حال ہماراہے ہم نے ایک ملک تو حاصل کرلیا لیکن نظام حکومت کیا ہونا چاہیے اسے اب تک سمجھ نہیںسکے۔ مغربی افکار،مغربی تہذیب کی یلغار میںہم اپنا قبلہ بھول گئے۔ ابھی وقت ہے کہ ہم اپنا قبلہ درست کرلیںورنہ دنیا تو ضائع ہورہی ہے۔ آخرت بھی ہاتھ سے نہ نکل جائے ۔جمہوریت کے ثمرات ہیںکہ ٹڈی دل کی طرح لیڈرموجود ہیںاوروہ ملک پاکستان جس نے کسی زمانے میںجرمنی کو قرض دیا تھا آج جرمنی کہاں ہے اورہم کہاں ہیں۔ چور ڈکیت مجمع گیر لٹیرے اس ملک کے خزانوں کو بے دریغ لوٹرہے ہیں۔ مٹھی بھر بے ضمیر لوگ اکثریت کو بھیڑ بکریوں کی طرح آگے لگائے رکھتھے ہیںکیا جمہوریت اسی کا نام ہے کہ عوام پٹتے رہیںلٹتے رہیں اور ایک طبقہ حکمرانی کے مزے لوٹتا رہے۔ پاکستان علامہ اقبالؒ کے خواب کی تعبیر کب بنے گا ۔ شاید اس وقت جب ہم نے ہوں گے اورہر نسل یہ کہتے ہوئے گزرتی رہے گی۔