- الإعلانات -

تو ہی اچھا ہے تجھے معلوم گر اچھا ہوا

عائشہ گلالئی ان دنوں موضوع بحث بنی ہوئی ہیں۔ ہرجگہ ان کا تذکرہ ہے، نوجوان کیا باریش بھی استفسار کرتے نظر آتے ہیں کہ کیا بنا؟ عائشہ گلالئی نے تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان بدکردار شخص ہے۔ اس بد کردار شخص کی وجہ سے پارٹی میں ماؤں اور بہنوں کی عزت محفوظ نہیں۔بد کردار شخص ملک کا وزیر اعظم بنا تو پاکستان کا اﷲ ہی حافظ ہوگا۔ ایسے شخص پر آئین کا آرٹیکل 62|63 لاگو ہونا چاہیے۔ عمران خان اپنے آپ کو پٹھان کہتا ہے حالانکہ وہ دو نمبر پٹھان ہے، جو پارٹی میں مغربی کلچر کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کی حرکتیں کافی عرصے تک برداشت کرتی رہی۔ عمران خان کا بلیک بیری چیک کر لیں سب کچھ سامنے آجائے گا۔ وہ خواتین کو بھی کہتے ہیں کہ بلیک بیری رکھو، اس سے میسج ٹریس نہیں ہوتے۔ ان کے میسجز میں ایسے الفاظ تھے جو کسی کی غیرت برداشت نہیں کر سکتی۔ وہ غیر اخلاقی پیغامات بھجواتے رہے جس سے دکھ ہوا۔ میرا ایک پختون گھرانے سے تعلق ہے اس لیے میرے نزدیک عہدوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ میرے لیے میری عزت اور غیرت مقدم ہے۔ عمران خان دوسروں کو اسلام کا لیکچر دیتے ہیں جبکہ خود مغربی حرکتیں کرتے ہیں۔ ہم پاکستانی ہیں مگر وہ انگلینڈ کا کلچر لانے پر تلے ہیں۔ ویسے مغرب میں تو ہراسمنٹ کیلئے سخت قوانین موجود ہیں۔ ہراسمنٹ ہے کیا؟ چھیڑچھاڑکرنا،ہراساں کرنا، ایذا رسانی، غیراخلاقی بات کرنا، اشارے کرنا،تاڑنا، پیچھا کرنا وغیرہ۔ آپ کسی کو گھور کر دیکھ لیتے ہیں تو وہ بھی دھمکی اوربرے ارادے کے زمرے میں آئے گا۔ہمارا ماحول شائد ہراسمنٹ کیلئے زیادہ سازگار ہے۔ہمارے ماحول میں ہزاروں عورتیں روزانہ ہراساں ہوتی ہیں۔عائشہ گلالئی نے اگر پوری دنیا کے سامنے اتنی بڑی بات کی ہے تو کس بنیاد پر کی ہے اس پر انکوائری ہونی چاہیے۔ عائشہ گلا لئی کے بیان کے فوراً بعدتحریک انصاف کا میڈیا سیل متحرک ہوا۔ شیریں مزاری نے کہا، عائشہ گلا لئی نے عام انتخابات کیلئے پشاور کی NA 1کی نشست مانگی جو نہیں ملی تواس نے الزام تراشی شروع کر دی۔تحریک انصاف نے اس معاملے میں یہ موقف بھی اختیار کیا کہ عائشہ گلالئی نے پریس کانفرنس سے قبل امیر مقام سے ملاقات کی تھی۔ اس کے پیچھے مسلم(ن) کی سازش ہے اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پارٹی قائد کی کردارکشی کی جا رہی ہے۔اینکر کامران شاہد جو عائشہ گلالئی کی عمران خان کے ساتھ بنی گالہ میں ملاقات کے وقت موجود تھے کہا کہ انہوں نے دیکھا عمران خان نے عائشہ کو سختی سے ڈانٹا کہ وہ اسمبلی کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے نہیں جاتیں،زیادہ تر غیر حاضر رہتی ہیں اور ان کی پارلیمانی کارکردگی مایوس کن ہے۔سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کے دیگر ارکان اور خود عمران خان کی پارلیمانی کاکردگی کیا ہے؟ ان کا تو یہ حال ہے کہ جس شخص کو انہوں نے وزیر اعظم کیلئے پارٹی کی طرف سے امیدوار نامزد کیا اسے ووٹ دینے کیلئے بھی اسمبلی کے ایوان میں نہیں پہنچے۔انہوں نے اپنی پارٹی کے ارکان کو بھی سختی سے ووٹ ڈالنے کی ہدائت نہیں کی۔ تحریک انصاف کے چار دیگر ارکان بھی غیر حاضر تھے۔ اس سے ان کی اپنے نامزد امیدوار کے معاملے میں سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس پس منظر میں کہا جا سکتا ہے کہ عائشہ گلالئی کو انہوں نے جو ڈانٹ ڈپٹ کی اس کی وجہ کچھ اور بھی ہو سکتی ہے۔ اگر عائشہ گلالئی بھی اب یہ سب کچھ چھوڑ رہی ہیں تو یہ بھی عجب ہے۔عقلمندوں کا قول ہے کہ کسی کو چھوڑنا ہو تو اس انداز سے چھوڑو کہ دوبارہ ملنے پر شرمندگی نہ ہو۔گلالئی نے توحد کر دی۔ عمران خان کی بد کرداری تو اب گلالئی کو ثابت کرنا پڑے گی۔ سوال یہی ہے کہ اتنی دیر کیوں گلالئی آنکھیں بند کیے بیٹھی رہی۔ اب اسے یہ سب باتیں کیوں یاد آگئیں۔ جو گلالئی کو آج نظر آیا،دوسری خواتین کو یہ نظر کیوں نہیں آیا؟ گلالئی نے یہ الزام بھی لگایا کہ عمران نے بلیک بیری سے مجھے پہلا میسج اکتوبر2013میں کیا تھا۔ اگر اسے 2013میں ہی عمران خان کی اصلیت کا معلوم ہو چکا تھا تو پھر چار سال گلالئی پارٹی میں کیا کرتی رہی، چارسال تک غیرت دبی کیوں رہی، یہ بے مصرف بوجھ کیوں اٹھائے رہی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ جس چیز نے ان کے راستے میں کھنڈت ڈالنے کی سعی غلط کی اسکا ارتکاب کرنے والے کو ذہن و قلب سے ہمیشہ کیلئے مٹا دیتیں، محو کر دیتیں، کھرچ ڈالتیں،طبیعت کو مکدر کرنے والے حالات سے چھٹکارا تو اسی طرح ممکن ہے کہ ان کو اس طرح دل و دماغ کی لوح سے نکال دیا جائے جیسے چور کو گھر سے باہر دھکیل دیا جاتا ہے۔اگر ایسے ناروا میسج کیے بھی گئے تھے تو قرین عقل یہی ہے کہ یہ اس وقت آپ کیلئے قابل قبول تھے کیونکہ عرصہ چارسال سے آپ کے اندر دہکتے الاؤ کا دھواں فوراً باہر کیوں نہیں آیا؟ احساسات اور خیالات میں اس نئی لہر اور تموج کا پیدا ہونا اور فوری سیخ پا اور تلخ ہو جانا کسی وقتی غصے، رنج اور اشتعال کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے۔ اس دنیا میں ہر شخص دوسری چیزوں کو اپنے خیالات، اپنے افعال اور اپنی نیت کی عینک کے شیشوں سے دیکھتا ہے۔ جس خیال یا جس نیت سے کسی شے کو دیکھا جائے وہ ویسی ہی نظرآتی ہے۔
؂ ہے برا تو ہی آیا نظر تجھ کو برا تو ہی اچھا ہے تجھے معلوم گر اچھا ہوا
قومی اسمبلی کی نشست سے چپکے رہنا کیا معنی رکھتا ہے۔اگر آپ کا استدلال مبنی بر سچائی ہے تو پہلے اس عہدے کو ٹھوکر مارنی چاہیے جو بے توقیری کا باعث بنا۔ کسی پر الزام لگانا تو تہمت کے زمرے میں آتا ہے۔ دوسرے بغیر ثبوت کے گلالہ لئی پر بھی الزامات کی بوچھاڑ کہ یہ ایجنڈے اور سکرپٹ کا حصہ ہے، اس کا ماسٹر مائنڈ امیر مقام ہے، اس نے عمران خان کی کردار کشی کیلئے مسلم لیگ (ن) سے پچاس کروڑ روپے لیے ہیں کوئی قابل یقین حقیقت معلوم نہیں ہوتی۔گلالہ لئی خاندان کو بییچ میں گھسیٹنا بھی اخلاقیات کے منافی ہے۔مسلم لیگ (ن) جو اسوقت گلالہ لئی کی حمایت میں بڑی پرجوش نظر آتی ہے کیا ان کو یاد نہیں کہ خواجہ آصف نے اسمبلی کے سیشن میں شیریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی کہا تھا اور نوے کی دہائی میں(ن) لیگ بے نظیر بھٹو کی کس گھٹیا انداز سے کردارکشی کرتی رہی اور بے نظیر بھٹو کان لپیٹے سب کچھ برداشت کرتی رہی۔عائشہ گلہ لئی نے پارلیمنٹ کمیٹی کے سامنے تمام ثبوت پیش کرنے کا کہا کے اور کہا ہے کہ وہ عمران خان سے کہتی ہیں کہ وہ ان معاملات پر معافی مانگ لیں تو وہ ان کو معاف کر دیں گی۔اسی دوران عائشہ احد بھی میدان کار زار میں کود پڑی ہیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ میرے پاس بھی میسجز ہیں۔نواز شریف گھر کی بہو کیلئے کمیٹی کب بنائیں گے۔حمزہ شہباز نے جھوٹ بول کر شادی کی۔ ثبوت لیکر عدالت میں جاؤں گی۔ اس پر عمران خان نے کہا کہ حمزہ پر الزامات کی تحقیقات کیلئے بھی وزیر اعظم کمیٹی بنائیں گے ؟گلا لئی کو غیر مناسب میسج بھیجنے کا الزام مسترد کرتا ہوں۔ راقم کے خیال میں وطن عزیز میں سیاست کو اسکینڈلائز کر دیا گیا ہے جو یہاں سیاست کے مستقبل کیلئے اچھا شگون قرار نہیں دیا جا سکتا۔
****

منطقی نتیجہ۔۔۔ شوق موسوی
کوئی بھی میکے سے آئے تو ہنس کے مِلتی ہے
کوئی سہیلی جو مل جائے خوب کھِلتی ہے
علیحدگی کا بہانہ یہ ڈھونڈا شوہر نے
کہ بیوی آٹے کو جب گوندھتی ہے ہِلتی ہے