- الإعلانات -

ایم کیو ایم اور بی ایل اے کو ’را‘کی فنڈنگ

riaz-ahmed

وزیر داخلہ نے حکم دیا ہے کہ ایف آئی اے امریکی حکام سے الطاف خانانی کے خلاف شواہد حاصل کر کے کارروائی کا آغاز کرے۔ 2008ء میں خانانی اور کالیا کیس میں انکی بریت کا معاملہ متعلقہ عدالتوں میں اٹھایا جائے۔ اس کیس میں اب تک پیش رفت کیوں نہیں ہوئی اور کیوں اتنے عرصے سے یہ کیس زیرِ التوا ہے۔اس بات کی بھی تحقیقات کی جائیںکہ اتنے عرصے سے زیرِالتوا اس کیس کی وجہ ایف آئی اے کے اندرونی عناصر یا کوئی سیاسی ہاتھ تو نہیں؟
سکاٹ لینڈ یارڈ نے ایم کیوایم کو بھارتی خفیہ ایجنسی "را” سے موصول ہونے والی فنڈنگ کے معاملے میں 10ناموں پر مشتمل فہرست حکومت پاکستان کے حوالے کر دی ہے۔فہرست میں شامل افراد بھارتی خفیہ ایجنسی سے فنڈنگ لے کر ایم کیوایم کو فراہم کرتے تھے۔سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے الطاف حسین اور محمد انور سے تحقیقات کرنے کے بعد یہ فہرست پاکستان کے حوالے کی ہے۔ ان میں خانانی کا نام بھی شامل ہے جو ’را‘سے پیسے لے کر ایم کیو ایم اور دیگر علیحدگی پسند تنظیموں کو فنڈنگ کرتا تھا۔
منشیات کی روک تھام سے متعلق امریکی ادارے، ’یو ایس انفورسمنٹ ایجنسی‘ نے دنیا بھر کی دہشت گرد تنظیموں، جرائم پیشہ گروہوں اور منشیات کے اسمگلروں کی غیرقانونی دولت مختلف بنکوں اور مالیاتی اداروں میں منتقل کرکے قانونی شکل دینے کے الزام میں دبئی کے منی ایکسچنجر، الطاف خانانی کو گرفتار کرلیا ہے۔ساتھ ہی، امریکی محکمہ خزانہ نے ’ا±ن (خانانی) کے 2 اداروں الضرونی ایکسچنج اور خانانی منی لانڈرنگ آرگنائزیشن کو دہشگردوں اور جرائم پیشہ گروہوں کا معاون ادارہ قرار دے کر ان کے تمام اثاثے ضبط کردئے ہیں اور امریکی شہریوں کو ان سے لین دین سے روک دیا ہے۔
خانانی منی لانڈرنگ آرگنائزیشن کے مالک، الطاف خانانی دبئی میں الضرورنی ایکسچنج کے نام سے منی لانڈرنگ کا کاروبار کر رہے تھے۔ جس کے دوران ا±نھوں نے دنیا بھر میں جرائم پیشہ گروہوں، دہشت گردوں اور منشیات کے اسمگلروں کو دولت کی منتقلی کے لئے اپنی خدمات پیش کیں اور، بنکوں اور مالیاتی اداروں سے اپنے بہترین تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے اربوں ڈالر مالیت کے اثاثوں کی پاکستان، دبئی، امریکہ، برطانیہ، کنیڈا، آسڑیلیا اور دیگر ممالک کے درمیان لین دین کی۔ا±ن کے صارفین میں چین، کولمبیا، میکسیکو کے منظم جرائم پیشہ گروپ، لبنان کی مسلح تنظیم حزب اللہ سے منسلک افراد کے علاوہ طالبان بھی شامل تھے جبکہ الطاف خانانی کا لشکر طیبہ، داو¿د ابراہیم، القائدہ اور جیش محمد جیسی تنظیموں سے بھی نہایت قریبی تعلق تھا۔
خانانی گروپ کے ایکسچنج کے کاروبار کے خلاف 2008ءمیں پاکستان میں بھی قانونی کارروائی ہوئی تھی جس میں مبینہ طور پر اربوں ڈالر کی غیر قانونی لین دین کے شواہد سامنے آئے تھے۔ جس کے بعد گروپ کے بیشتر لوگ دبئی فرار ہوگئے تھے جہاں انھوں نے دوسرے ناموں سے کاروبار شروع کردیا تھا۔
منی لانڈرنگ، حوالہ اور ہنڈی کے الزامات کے تحت امریکا میں گرفتار الطاف خانانی کی الزرونی ایکسچینج کمپنی کے اہم کردار عاطف کو 2009ءمیں انٹرپول کے ذریعے دبئی سے گرفتار کرکے کراچی لایا گیا۔ عاطف امریکی حکام کے ہاتھوں گرفتار پاکستانی منی چینجر الطاف خانانی کا بھانجا ہے جو اب کراچی میں کرنسی کے کاروبار سے وابستہ ہے۔ سال 2009ءمیں پاکستان میں سنگین نوعیت کے مالیاتی اسیکنڈل میں خانانی اینڈ کالیا ایکسچینج کے کئی مرکزی کرداروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پاکستانی حکومت نے ان کیسز کے ایک مرکزی ملزم عاطف عزیز کے ریڈ وارنٹ جاری کئے تھے۔ عاطف کو انٹرپول نے نیف روڈ دبئی پر واقع دفتر سے گرفتار کرکے 15مئی 2009ءکو کراچی منتقل کیا گیا۔ ایف آئی اے نے خانانی اسکینڈل کے مختلف مقدمات میں ملزم کا ریمانڈ لیا تھا۔ مالیاتی اسکینڈل کے اس اہم ملزم نے دوران تفتیش منی لانڈرنگ کے بڑے نیٹ ورک کا انکشاف کیا تھا۔ یہ گروہ مبینہ طور پر ساوتھ ایشیا خصوصاً پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش اور افغانستان میں حوالے اور ہنڈی کا سب سے بڑا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ اس وقت کی تفتیش کے مطابق ملزمان نے ہر سال لگ بھگ 12 سو ارب روپے کی غیر قانونی منتقلی میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا تھا۔
ایف آئی اے نے اس سلسلے میں کوئی نیا کیس نہیں بنایا بلکہ تفتیش کے بعد خانانی کالیا کیخلاف مقدمات میں ملزم اور دیگر کا ٹرائل کیا۔ مگر اس وقت کی حکومت کی ایک اہم ائینی شخصیت کی مداخلت اور ایماءپر تفتیشی حکام نے کیسز میں اچانک نرمی کی اور مبینہ ساز باز کرکے اسپیشل بینکنگ کورٹ اور دیگر دو عدالتوں میں ملزمان کیخلاف اہم شواہد پیش نہیں کئے۔ یوں مبینہ طور پر ایک طے شدہ ڈیل کے تحت ان کیسز کو خراب کیا۔ یوں ملزمان حنیف کالیا، مناف کالیا، جاوید خانانی اور عاطف سمیت تمام ملزمان کو مکھن سے بال کی طرح اس بڑے مالیاتی اسکینڈل کیس سے نکال دیا گیا اور ملزمان کو باعزت بریت ملی۔ اگر اس کیس کی اس وقت مناسب پیروی کی جاتی اور ملزمان کو سزائیں ملتیں تو امریکا یا کسی دوسرے ملک کو اس سلسلے میں کارروائی نہیں کرنی پڑتی اور اب الطاف خانانی کی گرفتاری کے بعد پاکستان کی پوری دنیا میں بدنامی نہ ہوتی۔