- الإعلانات -

سرآپ تو سارے مُلک کے وزیراعظم ہیں

azam-azim-azam

ہمارے وزیراعظم میاں محمدنواز شریف نے پنجاب میں موٹروے ایم فور کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” مُلکی ترقی میںرکاوٹیں ڈالنے والے حکومت کی نہیں پاکستان کی ٹانگیں کھینچ رہے“ اور اِس موقع پر اُنہوں نے کسی ہمسائے کا نام لئے بغیر یہ بھی کہا کہ” ہمارے ہمسایہ ممالک کی برآمدات ہم سے دس گنازائد ہیںیہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے اِسے حالات میں ہم اگر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچیں گے یا عجیب و غریب داستائیں سُنائیں گے یا لکھیں گے یہ پاکستان کی خدمت نہیں ہوسکتی بلکہ یہ کسی کا ذاتی ایجنڈہ ہوسکتاہے “ اور اتنی ساری باتوں کے بعد خصو ص بالخصوص وزیراعظم نواز شریف نے کراچی کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ” کراچی کی رونقیں بحال ہورہی ہیں“ گویا کہ اَب جیسے وزیراعظم نواز شریف کا یہ مشن ہوگیاہے کہ یہ جہاں کہیں بھی جائیں یا کسی بھی جگہ کا افتتاح کریں بس اِن کی ایک یہی کوشش ہوتی ہے کہ یہ اپنی ہر بات اور ہر منصوبے میں کراچی کی رونقوں اور صورتِ حال کا جب تک قلیل و طویل کوئی تذکرہ یا تبصرہ نہ کرلیں اِن کی کوئی بات اورتقریر مکمل ہی نہیں ہوتی ہے ایسا لگتا ہے کہ جیسے وزیراعظم نواز شریف کا کھانا بھی بغیر کراچی کا نام لئے یا تذکرہ کئے بغیر ہضم نہیں ہوتاہے۔
الغرض یہ کہ حسبِ عادت اور روایت وزیراعظم نوازشریف نے پنجاب میں موٹروے ایم فور کی افتتاحی تقریب میں بھی کراچی کا تذکرہ چھیڑ کر اپنے خطاب کی کامیابی اور حکومتی کارنامے گنوائے یہ ٹھیک ہے کہ کراچی کی رونقیں پوری طرح نہیں تو کم ازکم تھوڑی بہت تو ضرور بحال ہوئیں ہیں مگر وزیراعظم میاں نواز شریف صاحب کراچی کی پوری طرح رونقیں بحال کرنے کے لئے ابھی مزید سخت ترین ایکشن لینے اور سیاسی اور ذاتی مصالحتوں سے پاک ایک ایسی حکمتِ عملی کی مزید ضرورت ہے جس کی بدولت کراچی کی سماجی، سیاسی ،مذہبی اور کاروباری رونقیں پوری طرح سے بحال ہوجائیں گیں آپ نے کیا سمجھ لیا ہے کہ آپ کی ذراسی کی کوششوں سے کراچی کی رونقیں پوری طرح سے بحال ہوگئیں ہیں۔
تو جنابِ عالی..!! ایسا ہرگز نہیں ہے آپ ایسی کسی خوش فہمی میں مبتلانہ رہیں کہ آ پ کی تھوڑی سی کوششوں سے کراچی کی پوری طرح سے رونقیں بحال ہوگئیں ہیں آ پ کو ابھی اپنی مزید کوششیں جاری رکھنی ہوں گیں تب کہیں جاکرکراچی کی رونقیں ہر کراچی کے باسی اور آپ کی سماجی، معاشی ، سیاسی اور مذہبی سوچوں اور روایات کے مطابق بحال ہوں گیں اگر آپ اِسی خوش فہمی میں رہے کہ آج کراچی کی رونقیں آپ اور ہرپاکستانی کی سوچوں اور خوابوں کے عین مطابق بحال ہوگئیں ہیں۔
تو یقین جانیئے کہ ابھی تو کراچی کی رونقیں اور امن و سکون اور بھائی چارگی اور کراچی کے 30/35سالہ پرانے ماضی کی روایات کے لحاظ سے عُشیر عَشیر بھی بحال نہیں ہوئیں ہیں اب بھی اہلیانِ کراچی کی نظریں وزیراعظم نوازشریف ، آرمی چیف راحیل شریف اور شہرِ کراچی میںقانون نافذ کرنے والے اداروں اور رینجرز اور پولیس کے اعلیٰ حکام اور اہلکاروں کی جانب لگی ہوئیں ہیں جو کراچی میں دہشت گردوں کا چابگدستی سے قلع قمع کررہے ہیں کہ وہ کراچی میں بغیر کسی ذاتی اور سیاسی مفاہمت اور مصالحت کا شکار ہوئے بغیر کراچی آپریشن کو تادیر جاری رکھیں اور دہشت گردوں سمیت اسٹریٹ کرائم میں ملوث ایک بھی جرائم پیشہ فرد اور گروپس کے سرگرم رہنے تک کراچی آپریشن جاری رکھیں اور شہرِکراچی کو پوری رونقیں پوری طرح بحال کرکے ہی دم لیں۔جبکہ یہاں وزیراعظم نوازشریف کی یہ بات بڑی حد تک درست ہے کہ ” ”پاکستان سے مال خریدنے کے خواہشمندکراچی آنے کی بجائے فروخت کُنندگان کو دُبئی بلاتے تھے آج وہ خود کراچی آرہے ہیں پراسیس کی ٹانگیں کھینچنے یا اِسے سبوتاژ کرنے کی بجائے اِس کی حمایت کرنی چاہئے“اِس میں شک نہیں کہ جب سے کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی شروعات ہوئی ہے کراچی میں تھوڑی بہت سماجی ، سیاسی ، مذہبی اور کاروباری سرگرمیاں شروع ہوئیں ہیں تو شہر کی زیادہ نہیں تو کم از کم تھوڑی بہت رونقیں بھی بحال ہوئیں ہیں یقینا یہ سب کراچی میں جاری اِس آپریشن کے ہی مرہونِ منت ہواہے جو آج کراچی میں جاری ہے مگر کیا ہی اچھاہوکہ وزیراعظم نوازشریف صاحب جس طرح کا آپریشن کراچی میں جاری ہے یکدم اُسی طرز کا ایک دیرپا اور پائیدار آپریشن پنجاب اور لاہور میں بھی شروع کرادیاجائے تو یقین جانیئے کہ کراچی اور لاہور میں بیرونی سرمایہ کاری کا جو سلسلہ شروع ہوگااُسے ساری دنیا دیکھے گی اور کراچی اور لاہور خطے کے سب سے زیادہ امن پسند اور کاروباری شہر ہونے کا مرتبہ پالیں گے جس سے مُلک معاشی اور اقتصادی لحاظ سے مستحکم بھی ہوگا تو وہیں پاکستان کا نام دنیا میں ایسا چمکے گا کہ دنیا دنگ رہ جائے گی مگر اِس کے لئے وزیراعظم نوازشریف صاحب بس آپ کو اپنا دل بڑاکرناہوگا تاکہ آپ حقیقی معنوں میں سارے پاکستان کے وزیراعظم گردانے جائیں اور اِس کے ساتھ ہی آپ پر یہ بھی بطور وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ جس طرح پنجاب اور لاہور کو یورپ اور امریکاکے شہروں جیسا کوئی شہر بنانے کی کوششوں میں لگے پڑے ہیں اور مُلک کے دیگر صوبوں اور شہروں کا سارابجٹ پنجاب اور لاہورکو بنانے میں بیدردی سے خرچ کررہے ہیںتو اِسی حکمتِ عملی سے قومی خزانے سے کچھ قومی دولت سے کراچی جیسے شہر کے لئے بھی منصوبے اور کام شروع کرادیئے جائیں تو کراچی بھی بن یورپ اور امریکا کے کسی خوبصورت ترین جدیدتقاضوں سے آراستہ شہر بن جائے مگرآپ اپنے اِس دورِ حکومت میں سندھ حکومت سے ناراضگی کے باعث کراچی شہر کو نظرانداز کررہے ہیں اِس پر آپ بقول کہ”مُلکی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے والے حکومت نہیں مُلک کی ٹانگیں کھینچ رہے“ اَب ایسا بھی نہیں ہے جیساکہ آپ فرمارہے ہیں آج آپ جنہیں یہ سمجھ رہے ہیں کہ مُلکی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے والے مُلک کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں تو ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو آ پ کی ٹانگیں یوںکھینچ رہے ہیں کہ جناب وزیراعظم نوازشریف صاحب ..!! آپ کی حکومت تو سارے مُلک میں قائم ہے اور آپ اپنی اِسی حکومت کا سارافائدہ صرف پنجاب اور لاہور کو ہی پہنچارہے ہیں جبکہ آپ کئی بار خود یہ تسلیم کرچکے ہیں کہ میں نوازشریف سارے مُلک کا وزیراعظم ہوں میری نظر میں تمام صوبے اور شہر سب برابر ہیں تو پھر ذرایہ سوچیں وزیراعظم نوازشریف صاحب..!! یہ دوآنکھی کیوں ہے..؟؟؟آج آپ دیدہ و دانستہ کراچی جیسے دنیا کے بارہویں انٹرنیشنل شہر کو ترقیاتی منصوبوں اور کاموں کے حوالے سے نظرانداز اورایگنور کرکے صرف پنجاب اور لاہور کو ہی جدید بنانے کے لئے قومی خزانہ سے دولت بیدریغ خرچ کئے جارہے ہیں اَب کیا ایسا ہوتادیکھ کر کوئی آپ کی ٹانگیں کھینچ کر آپ کی خصوصی توجہ کا طلب گار ہوتو اُسے آپ یہ کہہ کر گنداکریںیا اپنی جان چھڑانے کی کوشش کریںگہ ” مُلکی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے والے حکومت نہیں مُلک کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں“ تو آ پ کا یہ کہنا بھی غلط اور عوام سے حقائق چھپانے اور اپنے اور پنجاب اور لاہور کے مفادات کے سواکچھ نہیں ہے یقین جانیئے کہ آپ کی ساری توجہ تو صرف پنجاب اور لاہور کو ہی جدید شہر بنانے کی جانب ہے آج جِسے عوام دیکھ کر یہ سوچ اور کہہ رہے ہیں کہ آپ صرف پنجاب اور لاہور کے ہی وزیراعظم ہیں آپ کوجیسے باقی صوبوں اور شہر وں کی وزارتِ عظمیٰ توبس گریبی میں ملی ہے۔