- الإعلانات -

نام نہاد علیحدگی کی دم توڑتی تحریک

syed-rasool-tagovi

بلوچستان ایشو کے سلسلے میں گزشتہ کچھ عرصہ سے اچھی اور حوصلہ افزاءخبریں سامنے آرہی ہیں۔ متعدد فراری قبائلی ہتھیار ڈال کر وطن سے وفاداری کا حلف لے رہے ہیں۔ فراری بلوچوںکا ہتھیار پھینک کر پر امن زندگی گزارنے کی طرف لوٹ آنا بلوچستان بد امنی کے خاتمے کی طرف اہم پیشرفت ہے۔ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال میں مسلسل بہتر آرہی ہے۔ صوبے کی موجودہ سیاسی قیادت کی بہتر ساکھ کے علاوہ فوجی قیادت نے پاک فوج کا جو مورال بلند کیا ہے اس سے بیرون ملک ناراض بلوچ رہنماﺅں کے رویہ میں بھی خوشگوار تبدیلی آ رہی ہے۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سمیت کئی بلوچ لیڈر ناراض رہنماﺅں سے نہ صرف رابطے کر رہے ہیں بلکہ نوابزادہ حیربیارمری اور نوابزادہ براہمداغ بگٹی سے ملاقاتیںبھی کرچکے ہیں،سوئٹزرلینڈ میں مقیم بلوچ رپبلکن پارٹی کے سربراہ براہمداغ بگٹی نے گزشتہ دنوں بلوچستان حکومت سے بات چیت کی ہے جس پر حکومت نے انکے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس کے بعد اب براہمداغ بگٹی نے بلوچستان کے حوالے سے تحفظات پر بات چیت کرنے کےلئے صوبے کے ناراض گروپوں کے لیڈروں کی ایک میٹنگ سوئٹزرلینڈ یا یورپ کے کسی اور ملک میں بلانے کی تجویز پیش کی ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ انہیں ناراض دھڑوں سے کیا ریسپانس ملتا ہے۔ انہوں نے تمام بلوچ رہنماﺅں سے اپیل کی ہے کہ وہ آپس کے اختلافات سے بالاتر ہو کر اس کانفرنس میں شرکت کریں اور اتفاق رائے سے جو فیصلے کئے جائیں ان کو تسلیم کیا جائے۔ براہمداغ کا یہ بیان بلوچستان میں حالات کی بہتری کے حوالے سے ا ہم ہے۔اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یقینا اس کے اچھے نتائج برآمد ہونگے،لیکن بنیادی طور پر اصل مسئلہ کھمبیوں کی طرح اُگے نام نہاد علیحدگی پسند اور ناراض دھڑوں کا باہمی نفاق ہے،جن کی ڈوریاں ایسی قوتوں کے ہاتھ ہیں جن کا مقصد ان کوا ٓزادی دلانا نہیں بلکہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار رکھنا ہے۔بلوچ خود کو بہت ہی محروم اور مظلوم تصور کرتے آرہے ہیں،یہ تصور آج کا نہیں بلکہ کوئی پونے دوسوسال پرانا ہے۔ بلوچوں کا دعویٰ ہے کہ 1839 میں جب انگریز فوج نے لاو لشکر کے ساتھ قلات پر حملہ کیا تو اس خطے کی دوسری اقوام کے برعکس بلوچوں نے اپنے وطن سے محبت اور اپنی تاریخی غیرت کا مظاھرہ کرتے ہوئے ، خان محراب خان کی قیادت میں انگریزوں سے ٹکرائے۔ ان کے بقول اس واقعہ سے بلوچ مزاحمت کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوائے جو محراب خان سے ہوتے ہوئے بلوچ خان ، خان جان ، داد شاہ ، نورا مینگل ، بابو نوروز ، اکبر خان ، بالاچ ، غلام محمد سے لیکر آج تک جاری ہے۔تاریخ میں انگریزوں سے شکست کا یہ واقعہ 13نومبر کو ہوا جس میں کئی بلوچ جنگجو مارے گئے اس لئے اس دن کو بعض ناراض دھڑے شہدا کے دن کے طور پرمناتے ہے۔ سال 2010 سے بلوچ قوم نے 13 نومبر کو اب شہیدوں کے دن کے طور پر منانا شروع کیاہے۔ بلوچستان سے زیادہ اس دن کا پروپیگنڈا ب یرون ملک لندن جرمنی امریکہ یا سویڈن میں ہوتا ہے اور وہاں کی سرکاری مشینری بھر پور حصہ لیتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی مشینری ہی سارا کھیل کھیل رہی ہے۔بلوچوں کا مسئلہ اتنا نہیں جتنا ایک سازش کے تحت اچھالا جا رہا ہے۔قیام پاکستان کے وقت اس وقت کی بلوچ قیادت نے ہی پاکستان کا حصہ بننے کا کھلے دل کے ساتھ فیصلہ کیا تھا۔بعدازاں بعض بیرونی قوتوں نے بلوچوں میں مغالطوں کو ہوا دی اورعلیحدگی پسندی کے نام سے دھڑے بنانا شروع کئے جو اب تک دھڑا دھڑ بن رہے ہیں۔آج ایسے تمام دھڑے انہی بیرونی قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ الاپ رہے ہیں۔یہ محض الزام نہیںبلکہ حقیقت ہے۔
رالف پیٹر ریٹائرڈامریکی کر نل ہیں،انہوں نے کچھ عرصہ قبل ایک مضمون ”بَلڈ بار ڈرز“لکھا تھا جس میں انہوںنے مڈل ایسٹ کا نیا نقشہ پیش کیا ،اسمیں بلوچستان کو آزادملک دکھایا گیا۔انکا یہ مضمون نواب اکبر خان بگٹی کی موت سے تقریباًچار ماہ قبل ایک امر یکن فوجی میگزین میں چھپا۔ فروری 2012 میں امریکی کانگریس میں بلو چستان پر سماعت میں ثبوت انہی نے پیش کئے تھے۔اپنے مضمون میں انہوں نے بلوچ آزادی اور اس کی بیرونی پشت پناہی کی کھلی گواہی دی اورساتھ انہوں نے بلوچوں کے باہمی اختلافات کا بھی رونا رویا۔ پیٹر کے مطا بق” بلوچ آپس کے جھگڑوں پر لازمی قا بو پا ئیں جو انکے مقصد کو سخت نقصان دے رہے ہیں،لا زمی ہے بلوچ قوم پرستوں کے ہا تھوں انسا نی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی قا بو پایا جائے اور مغرب سے اپنے تعلقات کی سیا سی حکمت عملی کوپختہ کریں“۔پیٹر انہیں دلاسہ دلا رہے ہیںکہ بلوچ اپنی تمام زمین یا اسکے ایک حصے کو آنے والے وقت ضرور آزاد کرا لیں گے۔یہ یا تو بلو چوں کی ایک مسلسل سیاسی حکمت سے ممکن ہوگا یا افغا نستان ،ایران اور پاکستان کی ریاستوں کی ناکامی یا ٹوٹنے سے ان پر تھونپا جا ئیگا۔دونوں میں سے کسی بھی صورت پیٹر بلوچوں کو خبردارکرتا ہے کہ اگر وہ مو ثر حکمرانی کی خوا ہش رکھتے ہیں تو انہیں اپنے مختلف گروپوں کو مزید متحد کر نا ہوگا۔ بصورت پیٹر کو خدشہ ہے کہٍ ” یہ جلد ہی خود اپنے سب سے بڑے دشمن ثا بت ہونگے“۔ پیٹر نے علیحدگی کی نام نہاد تحریک چلانے والوں سے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے گھرکو انسا نی حقوق کی خلاف ورزیوں سے پاک کریںکیونکہ بلوچ انتہا پسند انکے مقصد کے لیئے شدید خطرہ ہیں،میں بلوچ انتہا پسندوں سے بہت فکر مند ہوں۔ڈاکٹرز اور استا دوں کو مار نا کسی صورت جا ئز ثابت نہیں کیا جا سکتا۔انتقام کے لیئے شاید یہ اچھا لگتا ہولیکن اس طرح وا شنگٹن میںآپ اپنے دوستوں کے دل نہیں جیت سکتے۔“یہی وہ اہم نقطہ ہے کہ علیحدگی کےلئے پرایا کھیل کھیلنے والے خود اغواءبرائے تاوان اور پھرقتل کر کے اسے سیکیورٹی اداروںکے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں ۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس پر پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کے لئے لاپتہ افراد کا شور مچایا جاتا ہے۔ پیٹر کے مذکورہ مضمون سے یہ بات افشا ہوتی ہے کہ مغرب اور یورپ کو پلوچستان کی بدامنی کا باعث بننے والے علیحدگی پسند بلوچوں میں اتنی دلچسپی کیوں ہے۔دوسری اہم بات یہ کھل کر سامنے آتی ہے کہ ان میں شدید قسم کے باہمی قبائلی اختلافات بھی پائے جاتے ہیں، جو وقتاً فوقتاً شدید انتقامی جنگ کی حدوں کو چھونے لگتے ہیں۔ایسی کئی انتقامی لڑائیوں میں کئی بڑے بڑے قبائلی لیڈر مارے جاچکے ہیں۔نواب خیر بخش مری کے صاحب زادے بالاچ مری بھی ایسے ہی ایک قبائلی جھگڑے میں 20نومبر2007کو مارے گئے تھے۔جسکی آج برسی منائی جارہی ہے۔ان کے قتل پر بھی بیرونی پلان کے مطابق شور مچایا گیا کہ انہیںسکیورٹی اداروں نے راہ سے ہٹا یا۔الغرض بات مختصر یہ کہ بیرونی آقاﺅں کی تمام تر پشت پناہی کے باوجود نام نہادعلیحدگی کی تحریک دم توڑ رہی ہے۔ کئی ناراض قبائلی لیڈروں کو بات سمجھ آگئی ہے کہ بیرونی آقا انہیں اپنے مقاصد کیلئے استعمال کررہے ہیںلہذا قومی دھارے میںواپسی ہی میں حقیقی عافیت ہے۔