- الإعلانات -

اخلاقی زوال کیوں؟

Darwesh-sherazi

ہمارا معاشرہ اخلاقی سطح پر زوال پذیر ہے، اشیائے صرف میں ملاوٹ عام ہے ، لوگوں کو زہر کھلایا جا رہا ہے، سود نے عوام کو مردہ کر دیا ہے اور مہنگائی نے عوام کی کمر توڑدی ہے۔ امانت و دیانت، وعدے کا پاس و لحاظ، معاملات کی صفائی، سچائی، حسنِ سلوک، خدمت اور ہمدردی کا عملی جذبہ جیسی اخلاقی صفات کی مسلمانوں میں شدید کمی ہے۔ ان سب کے علاوہ خاص طور پر اجتماعی اخلاق کے باب میں نمایاں گراوٹ آئی ہے۔یہ صورتِ حال جارج برنارڈ شا جیسے مغربی ادیب کے اس قول کی یاد دلاتی ہے کہ اسلام تو اچھا مذہب ہے لیکن مسلم معاشرے کی صورتِ حال ناقابلِ رشک ہے۔ اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ فکر و عمل کے اس تضاد کی وجہ بنیادی طور پر کیا ہے؟ اس اخلاقی گراوٹ کے اسباب کیا ہیں؟ اور اس گراوٹ کو روکنے کی کوششوں کی عملی جہت کیا ہونی چاہیے؟ ایسا کیوں کر ہے اور ایسا کب تک ہوتا رہے گا؟۔اخلاقی انحطاط کی سب سے اہم وجہ اور بنیاد دین اور دین داری کا غلط تصور ہے جو عام لوگوں کے ذہنوں میں گہرائی کے ساتھ پیوست ہے۔ اسلام چار اہم چیزوں عقائد، عبادات، اخلاق اور قانون سے مرکب ہے۔ اسلام کا پورا ڈھانچہ ان چاروں سے مل کر مکمل ہوتا ہے، اور دین ہمیں یہ کہتا ہے کہ پورے کے پورے دین میں داخل ہوجاﺅ۔
ایک قبیح چیز رشوت ہے اور رشوت خوری ایک بہت برا فعل ہے۔ حق دارسے حق چھین کرغیرمستحق کوحقداربنانے کے لیے یہ فعل بدانجام دیاجاتاہے۔اور یہ وبا ہمارے ہاں بہت عام ہے۔کہتے ہیں کہ ضمیر کے بیداررہنے یامردہ ہونے کا کوئی موسم نہیں ہوتا، بلکہ معاشرے میں جب بھی برائی ،بدعنوانی یاناجائز کاموںکی تعریف و توصیف کی جاتی ہے یا برے انسان کی جھوٹی شان وشوکت کی قصیدہ خوانی ہوتی ہے ، اس وقت انسان کا ضمیرشیطانی روپ اختیار کرلیتاہے اوروہ معاشرے میں منفی کردارانجام دینے لگتاہے۔ آغاز میں وہ اس فعل بد اورمنفی کردارکو چیلنج کے طورپر لیتاہے۔مثلا وہ سوچتا ہے کہ جب دوسرے لوگ ایسا کرکے معاشرے میں پسندیدہ نگاہوں سے دیکھے جارہے ہیںتو پھر وہ کیوںنہ ایسا کرے ۔اگر دوسرے رشوت لیتے ہیں تو میں کیوں نہ لوں؟۔ ایک شخص اگروہ حقدارنہیں ہے تو کیوںدوسرے کا حق لینے کی کوشش کر رہا ہے ، پھریہ جانتے ہوئے کہ اس میں صاحب حق کی حق تلفی ہوگی، رشوت لینے والا اس غلط کام کی اورناجائز طریقے سے اس کی مددکررہاہے، اسی لیے دونوں گنہگار ہوںگے۔ اس کی ایک شکل یہ بھی ہوتی ہے کہ کسی کی مددکرتے وقت اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھاکر اس کے عوض مال کا مطالبہ کرے یالاچارشخص اس کو پیسہ دینے کے لیے مجبورہو،رشوت کا طریقہ نہ صرف مشکلات پیداکرتاہے، بلکہ زندگی کوبھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
موجودہ دورمیں ایسی ہی تعلیم کو اہمیت دی جاتی ہے ، جو رشوت خوری کی بنیادپرکھڑی ہو۔ایسے میں دوسرے لوگ اس میدان میں پیچھے کیوںرہیں ، اس میں عزت بھی ہے اورپیسہ بھی۔ایسا ہی کچھ معاملہ ملک کے ان نیتاںکا بھی ہے جو انتخاب میںکامیابی کے بعد ملنے والے بے حساب پیسوں کے لیے لاکھوں،کروڑوںروپے انتخابی مراحل میں بے دریغ خرچ کرتے ہیں ۔پھراس کے بعد وہ کیاکرتے ہیں ،اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔یہی حال تمام معاملات میں ہے،شایدہی کوئی جگہ ہوجواس سے خالی ہو۔معاشرہ افراد سے بنتا ہے، اس کی تعمیر وترقی یا اس کے برعکس تخریب وتنزلی کا معاملہ بھی اس میں رہنے والے افرادکے کارناموں سے ہی وجودمیں آتاہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارامعاشرہ پرامن اورخوشحال رہے، توہمیں امربالمعروف اورنہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا ہوگا ۔ ورنہ معاشرے کے افرادبڑی تعداد میں جرائم میں ملوث ہوںگے اوراسباب تعیش کے حصول، مال واساب کے غرور میں چور ہوکروہ دوسروںکوبھی اس مایا جال میں پھنسانے پر مجبورکریں گے۔
اورموجودہ دورمیں اگرہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو ہمیں ایک چیزنمایاں طور پر نظرآتی ہے۔ وہ یہ کہ لوگوں نے دوپیمانے بنارکھے ہیں۔ایک پیمانہ اپنے لیے اوردوسرا پیمانہ دوسروںکے لیے۔وہ اپنے لیے بہتری کی خواہش رکھتے ہیںاوردوسروںکے لیے برا چاہتے ہیں۔ اپنے لیے تو یہ پسند کرتے ہیںکہ دوسرے لوگ ان کے ساتھ اچھا برتاکریں،لیکن وہ خوددوسروںکے ساتھ حسن سلوک نہیں کرتے۔وہ چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ ان کا خوب خیال رکھیں لیکن وہ خوددوسرے لوگوںکا ذرہ برابربھی خیال نہیں رکھتے اوران کے ساتھ رواداری اورخندہ پیشانی کے ساتھ بالکل پیش نہیں آتے۔یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں لوٹ کھسوٹ، رشوت، بددیانتی، جھوٹ ، فریب اور جعل سازی وغیرہ کی اخلاقی بیماریاں عام ہیں۔
اس وقت یہ تصورذہن میںبٹھانے کی ضرورت ہے کہ دنیا کی زندگی ایک عارضی زندگی ہے، اس کی چمک دمک محض ایک دھوکہ ہے ،اصل زندگی آخرت کی ہے۔ جب ہم اسلامی تعلیمات پرعمل پیرا ہوںگے اورمضبوطی سے اس پر ثابت قدم رہیں گے، توپھرہمارا ضمیرہمیشہ بیداررہے گا اورہم احساس کمتری کا شکارہوکرعارضی دنیاکوترجیح دینے کے بجائے آخرت کی دائمی زندگی ،اس کی راحت اوروسکون کو فوقیت دیںگے ۔ اور اس طرح معاشرہ ترقی کرے گااور زوال پذیری کے اثرات زائل ہوںگے۔