- الإعلانات -

پاکستان جسٹس ڈیمو کریٹک پارٹی

uzair-column

ہماری جمہوری تاریخ بہت زیادہ طویل نہیں کہ اس کیلئے تاریخ کے حوالے دئیے جائیں ۔مارشل لاءزیادہ اور جمہوریت کم وبیش ہی رہی ۔جو رہی بھی تو وہ لولی لنگڑی تھی ،بہرحال پھر بھی ڈکٹیٹر شپ سے بہتر تھی ۔1947ءسے لیکر اب تک جو بھی حکومت آئی اس کے ہی دور میں مختلف الزامات عائد کیے جاتے رہے ۔کہ فلاں نے اتنا کھالیا ،فلاں نے اتنا ہڑپ کرلیا،ہمیں سابقہ حکومت کی جانب سے خزانہ خالی ملا ،مسائل ہمیں جہیز میں ملے ہیں،ہر ایک نے آکر عوام سے قربانی طلب کی اور عوام بے چاری ہمیشہ سے قربانی کا بکرا بنی رہی ۔مگر سیاسی رہنماﺅں نے کوئی خاطر خواہ قربانی نہ دی اور جب بھی تخت حکمرانی پر بیٹھے تو لوٹ مار کی ہی داستانیں رقم ہوتی رہیں ۔پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی رپورٹس کو چیک کرلیا جائے تو پتہ چل جاتا ہے کہ کس قدر اربوں کے گھپلے ہوئے ۔مگرجن پر الزامات عائد کیے گئے وہ اتنے ہی عیش وعشرت سے زندگی بسر کرتے رہے ۔قوم ہی بے چاری ہے جو کسمپرسی سے زندگی گزار رہی ہے ۔مہنگائی بڑھتی رہی ،دو وقت کی روٹی مشکل ہوتی گئی ،کسی نے روٹی ،کپڑا مکان کا جھانسہ دیا توکسی نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا وعدہ کیا ،کسی نے خاص ٹائم فریم دیا مگر ہمیشہ ڈھاک کے تین ہی پات نکلے ۔نہ ساون ہرے نہ بھادوں سوکھے وہی چال بے ڈھنگی ۔ماضی قریب پر نظر دوڑائی جائے تو ایک ایسی بھی شخصیت ہے جس نے تمام اثرورسوخ اور مقدمات سے بالاتر ہوکر اداروں کی بہتری ،عوام وملک کی فلاح کیلئے فیصلے کیے ۔ایسے ایسے فیصلے صادر کیے جن کو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا ۔اس وقت بھی قوم کی ان پر نظر تھی اور جس نے بھی عدل جہانگیری کی زنجیر کو ہلایا اسے عدل ملا اورجس نے غلطی یا کرپشن اس کو اپنے کیے کی سزا ملی ۔جہاں کہیں ملک میں کوئی ایسا سانحہ رونما ہوا جس سے عوامی یا ملکی مفاد براہ راست متاثر ہوتے ہوئے تو اس دور کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ازخود نوٹس لیے اور اس نوٹسز کے ذریعے انہوں نے انصاف کی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کی ۔اس دور میں اچھے اچھے سورماﺅں کی سپریم کورٹ میں پیشی کے وقت جان نکلتی تھی کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ سامنے ان کے ایک ایسا بااصول اورانصاف پسند شخص بیٹھا ہے جس کے سامنے ذرا سی بھی غلط بات کی تو فی الفور کوئی نہ کوئی انہیں سزا ضرور مل جائے گی ۔اس دور میں عوام نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کو مسیحا کے طور پر جانا اور اب جب ایک ڈکٹیٹر نے ان سے زبردستی استعفیٰ لینے کی کوشش کی تو افتخار محمد چوہدری ظلم کیخلاف اورحق کی خاطر ڈٹ گئے ۔انہوں نے مستعفی ہونے سے انکار کردیا پورے ملک میں ایک شور برپا ہوا اور قوم سڑکوں پر نکل آئی ۔وکلاءکی جانب سے چلائی جانیوالی تحریک نے ملک گیر تحریک کی صورت اختیار کرلی ۔پوری قوم نے اس وقت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حق میں آواز بلند کی اور باقاعدہ طور پر سڑکوں پر نکلے ۔راقم اس تاریخی لانگ مارچ کا چشم دید گواہ ہے کہ گاڑیوں سے گاڑیاں جڑی ہوئیں ،اتنی لمبی قطاریں تھیں کہ اگر ایک گاڑی راولپنڈی صدر میں ہے تو دوسری گاڑی پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے تھے ،پیدل تک چلنے کی جگہ نہ تھی ۔ملک بھر سے ایک جم غفیر وفاقی دارالحکومت پر امڈ آیا تھا ،جب قوم یہ فیصلہ کرلے کہ اس نے حق کا ساتھ دینا ہے تو پھر بڑے بڑے ڈکٹیٹر بھی عوامی طوفان کے سامنے خس وخاشاک کی طرح بہہ جاتے ہیں سو پھر اسی طرح ہوا ۔آخر کار افتخار محمد چوہدری کو بطور چیف جسٹس آف پاکستان بحال کرنا پڑا ۔کیونکہ وہ حق پر تھے انہوں نے حق کی خاطر آواز بلند کی ۔نظر بندی کو قبول کیا ،صعوبتیں اٹھائیں مگر ان کے عزائم میں کہیں بھی کمی نظر نہ آئی ۔جب وہ چیف جسٹس آف پاکستان کی نشست پر پھر سے تشریف فرما ہوئے تو انہوں نے اپنے فیصلوں کو اسی طرح دیا جس سے عوامی اورملکی مفادات کو فائدہ پہنچا ۔ادارے مضبوط ہوئے ،کسی اثرورسوخ کو وہ خاطر میں نہ لائے ،کسی کو دباﺅ کو قبول نہ کیا،انصاف کی نشست نے جو تقاضا کیا وہ انہوں نے انصاف کیا ۔ہر لمحے قوم کی نظر ان پر تھی ،آج چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ریٹائرڈ افتخار محمد چوہدری اپنی سیاسی جماعت کا اعلان کرنے جارہے ہیں اورگیارہ دسمبر سے باقاعدہ سیاسی سرگرمیوں کا بھی آغاز کردینگے ۔ان کی سیاسی جماعت کا نام پاکستان جسٹس ڈیموکریٹک پارٹی یعنی پی جے ڈی پی ہوگا ۔جہاں تک سابق چیف جسٹس آف پاکستان کے فیصلوں پر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہ جیسے ہی بااختیار حکمران کی صورت میں آتے ہیں تو یقینی طور پر وہ ایک بے رحمانہ احتساب کا آغاز کریں گے چونکہ انہوں نے اپنے دور میں جب وہ چیف جسٹس آف پاکستان تھے بغیر کسی دباﺅ کے اہم ترین فیصلے صادر کیے اور ان کے فیصلے عوام کی آواز بنے ۔عوام اس وقت بھی انہیں ایک مسیحا کی صورت میں دیکھ رہی ہے ۔وقت بھی یہ تقاضا کررہا ہے کہ ایک ایسی شخصیت سیاسی دنیا میں آئے جو یقینی طور پر عوام کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات اٹھائے ۔عوام کو اس کا حق ملے ،انصاف ان کی دہلیز پر ملے اور جو بھی قومی دولت اور قومی خزانے کے لٹیرے ہیں ان کیخلاف ایک بے رحمانہ احتساب ہو ۔ایسی صورت میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے بہتر شخصیت کوئی نہیں نظر آتی ۔