- الإعلانات -

فرا نس کا رد عمل ؟

Asif-Mehmood

کیا ہمیں معلوم ہے کہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد فرانس کا رد عمل کیا تھا۔
ایک خاتون نے مسلمانوں کے خلاف ٹویٹ کیا اور لکھا کہ آپ سب واپس چلے جاﺅ تو اس خاتون کو گرفتار کر لیا گیا۔
ایک میئر نے مسلمانوں کے خلاف بیان دیا تو اسے اس کی پارٹی نے معطل کر دیا۔
یونیورسٹی آف فرانس میں مسلمانوں کے حق میں مہم شروع کر دی گئی´
جو لوگ فرانس کی ڈی پی کے مخالف ہیں وہ ان چیزوں پر ذرا غور فرما لیں۔
یہ آگہی اس لیے بھی ضروری ہے کہ بحران کے بیچ کسی قوم کا رد عمل بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔بحران جب کسی معاشرے کی دہلیز پر دستک دیتا ہے تو اسے بے نقاب کر دیتا ہے۔بحران سے دوچار ہونے کے بعد ایک سماج جس ردِ عمل کا مظاہرہ کرتا ہے وہ اصل میں اس بات کا اعلان بھی ہوتا ہے کہ یہ سماج فکری اور نفسیاتی طور پر کس حد تک متوازن ہے۔فرانس سے جنم لینے والے تازہ بحران پر ہمارے ہاں جو بیانیہ سامنے آیا ہے وہ چیخ چیخ کر رہا ہے کہ یہ فکری اور نفسیاتی طور پر ایک منتشر اور غیر متوازن معاشرہ ہے جو بیمار نفسیات کے زیرِ اثر ،ردِ عمل کے آتش فشاں میں جل کر ،اپنا ’ کتھارسس ‘ تو کر سکتا ہے لیکن اس سے آگے بڑھ کر کوئی حکیمانہ موقف اختیار کرنا اس کے بس کی بات نہیں۔۔۔ لیے تیار رہنا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر ایک مہم ہے۔یہ ان کے خلاف ہے جنہوں نے فرانس کی ڈی پی بنا رکھی ہے۔، جن لوگوں نے فرانس کے ساتھ اظہار، یکجہتی کے لیے فرانس کے پرچم کی ڈی پی بنائی ہے ان کے لیے ’ نام نہاد مسلمان ‘ تک کی اصطلاح وضع کر دی گئی ہے۔فلسطین اور کشمیر کا حوالہ دے کر کہا جا رہا ہے کہ ہمارا بھی تو خون بہتا رہا تب تو کسی نے ہمارے پر چم کی ڈی پی نہیں بنائی، ہمارے لاکھوں شہید ہو گئے کسی کو خیال نہ آ یا ان کے چند درجن مارے گئے تو شور برپا ہے۔ رد عمل میں مسلمان ممالک کے پر چم کی ڈی پی بنا کر ایک دوسرے کو دعوت دی جا رہی ہے کہ اگر غیرت باقی ہے تو فرانس کی نہیں ان ممالک کے پرچم کی ڈی پی کو اختیار کیا جائے۔۔۔۔یہ رویہ یقینا بلا وجہ نہیں۔ہماری پور پور لہو ہو چکی ہے۔فرانس میں ایک حملہ ہوا تو فرانس کے ارباب ِ اختیار نے کہا ” انتقام لیں گے“ ۔حالاںکہ انہیں انتقام کی بجائے انصاف کا لفظ استعمال کرنا چاہیے تھا۔چند درجن لاشے گرنے پر پوپ کا لہجہ آ گ اگل رہا تھا تو ہمارے تو لاکھوں شہید ہو چکے ہمارے ہاں تلخی کیسے نہ آ ئے۔چنانچہ جو حضرات اس وقت فرانس کے حوالے سے یہ سخت موقف اپنا چکے ہیں ،میں انہیں ہر گز ’ انتہا پسند‘ نہیںکہوں گا۔اگر خود کو مہذب دنیا کہنے والے ایک حادثے پر اعتدال کا دامن چھوڑ بیٹھے اور ’ انتقام‘ اور ’ تیسری عالمی جنگ‘ جیسی باتیں کرنے لگے تو ہم پر تو مغربی حکومتوں کے ڈھاے گئے مظالم کی داستان بہت طویل ہے ۔فلسطین سے لے کر کشمیر اور عراق سے برما تک ہمارا خون بے رحمی سے بہایا گیا ۔اس لیے لہجوں میں یہ تلخی سمجھ میں آ تی ہے۔لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ رد عمل کی نفسیات میں جی کر مسائل میں اضافہ تو ہو سکتا ہے ان کا حل تلاش نہیں کیا جا سکتا۔من کی دنیا جتنی ہی برہم کیوں نہ ہو اور دکھ جتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو موقف کا اظہار کرتے وقت تدبر اور حکمت ہی کو غالب آنا چاہیے۔
ایک قوم برے وقت میں اگر محض جذباتیت کا شکار ہو جاے تو یہ نیک شگون نہیں ہوتا۔ فرانس کو احساس ہے کہ اس مشکل وقت میں اس نے خود کو کسی منافرانہ تقسیم سے بچانا ہے اس لیے وہ ایسے ٹویٹس پر سختی کر رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں بھی اس بات کا احساس ہے۔