- الإعلانات -

مسئلہ کشمیر حل ہونا چاہیے!

 riaz-ahmed

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے واشنگٹن میں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات پر مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔بین الاقوامی برادری کو مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں اپنا کردا ادا کرنے پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو گا نہ تو مسئلہ افغانستان حل ہو گا اور نہ ہی اس خطے میں امن قائم ہو سکے گا۔
آرمی چیف جو ان دنوں امریکی دورے پر ہیں، نے امریکہ پرزور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے اوربھارت کو بھی اس کے لئے تیار کرے۔ اب جبکہ دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر کی طرف مبذول ہو چکی ہے وہ اپنا کردار ادا کریں۔ کشمیر کے عوام ایک طویل عرصہ سے قربانیاں دے رہے ہیں اور اپنے زور بازو سے نہتے کشمیری عوام بھارتی بربریت کے سامنے سینہ سپر ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو طاقت سے نہیں دبایا جاسکتا۔
اب جبکہ بھارت کشمیر میں آئے دن انسانی حقوق کی پامالیاں کررہا ہے تو بین الاقوامی برادری کو خاموش تماشائی بن کر نہیں رہنا چاہیے اوربھارتی ظلم و بربریت بند کرائے اور کشمیری عوام کو اقوامی متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دلوائے۔
امریکہ ، یورپ اس خطے میں امن چاہتے ہیں لیکن اس خطے کا اصل مسئلہ کشمیر ہے اورجب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو گا اس خطے میں امن قائم نہیں ہو سکے گا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ انٹرنیشنل کمیونٹی مسئلہ کشمیر کو حل کرائے تاکہ اقوام متحدہ میں سب سے پہلے آنے والا مسئلہ کشمیر حل ہو سکے۔
یہ بات طے ہے کہ کشمیر کے بارے میں امریکی پالیسی خاصی گومگوکی شکارہے۔چنانچہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں باراک حسین اوبامہ اسی پالیسی پر گامزن ہیں جو اس مسئلہ کے بارے میں ان کے پیشتروں کی پالیسی تھی حالانکہ اپنے صدارتی الیکشن میں اوبامہ نے اعلان کیا تھا کہ جب وہ صدر امریکہ منتخب ہوں گے تو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقدامات کریں گے۔ ایک طرف اوبامہ نے بھارت کے دورہ کے دوران میڈیا کے سامنے اور پارلیمنٹ میں کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک دیرینہ مسئلہ ہے گو یا بحیثیت صدر امریکہ ا وریواین او کے ویٹو پاور ممبر کی حیثیت سے کشمیر کے سلگتے ہوئے مسئلہ کی حساسیت کو تسلیم کیا۔دوسری طرف اپنے پیش رووں کی یہ رَٹ بھی دہراتے رہے کہ مسئلہ کے دونوں فریقوں بھارت اور پاکستان کی رضا مندی کے بغیر امریکہ نہ اس مسئلہ میں مداخلت کر سکتا ہے نہ ثالثی۔
اِس وقت ریاست جموں و کشمیر کی علیحدگی پسند قیادت ہی نہیں بلکہ حقیقت پسند سیاسی لیڈر بھی کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر حل طلب مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ برا عظم ایشیا کے امن کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے۔گزشتہ ساٹھ سال سے بھارت اور پاکستان مسئلہ کشمیرکی وجہ سے دست بہ گریباں ہیں۔ متعدد بار مسئلہ کے حل کے لئے سفارتی سطح پر کاوشیں کی گئیں ۔ دونوں طرف کی حکومتوں نے تاشقند ، شملہ ، دہلی وغیرہ میں مسئلہ کشمیر حل کرنے کے سلسلہ میں کوششیں کیں لیکن بھارت کے غیر مخلصانہ روئیے سے بات نہ بنی۔
اب مسئلہ کشمیر کی حساسیت ، چین کی سیاسی اور دفاعی سرگرمیاں کشمیر کی دھماکہ خیز صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ امریکہ اپنے ملکی مفادات کو الگ رکھ کر مسئلہ کشمیر میں پہل کر کے ثالثی کا کردار ادا کرے تا کہ کشمیری عوام ہی نہیں بلکہ بھارت اور پاکستان کے عوام بھی راحت کی سانس لے سکیں جو اربوں روپے مسئلہ کشمیرکے تناظر میں عسکری قوت پر صرف ہوتا ہے وہ تعمیر و ترقی اور غریب عوام کو بہتر اور با وقار زندگی گزارنے پر صرف ہو اور پورے ایشیاء میں امن و شانتی کا ماحول قائم ہو۔
مسئلہ کشمیر کاایک فریقی پاکستان تو بار بار امریکہ سے کہہ رہا ہے کہ اس مسئلہ کے حل میں ثالثی کا کردار ادا کرے۔ بحیثیت ویٹو پاور امریکہ از خود بھی ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس حیثیت سے امریکہ کی یہ اخلاقی اور منصبی ذمہ داری بنتی ہے۔