- الإعلانات -

پیرس حملے! اِس طرح تو ہوتا ہے اِ س طرح کے کاموں میں!

inayat-swabi

13نومبر کو فٹ بال اسٹیڈیم،کنسرٹ تھیٹر اور ریسٹورنٹس سمیت پیرس کے سات مختلف مقامات پر فائرنگ کے واقعات اور خود کش حملوں کے نتیجے میں ایک سو ساٹھ لوگوں کا قتل اور تین سو کا زخمی ہوجانانہ صرف قابل افسوس ہے بلکہ قابل مذمت بھی ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابرہے۔اس درد کو یورپ اور امریکہ سے زیادہ پاکستان ،افغانستان،عراق ،لیبیا ،کشمیر ،فلسطین ،یمن ،شام اور میانمار کے مظلوم مسلمان سمجھ سکتے ہیں جہاں امریکہ اور مغرب کی اسلام دشمن اور مسلم کش پالیسیوں کے نتیجے میں لاکھوں نہتے مسلمان قتل کئے جاچکے ہیںاور جہاں خانہ جنگی کی سی کیفیت ہے ۔ مغربی میڈیا چود ہ نومبر کے پیرس حملوں کو فرانس کے نائن الیون سے تعبیر کر رہا ہے ۔لیکن یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے گلی گلی ،کوچے کوچے میں روز نائن الیون کا سماں بندھا ہوا ہے لیکن اِن کا اُن کے ہاں کوئی تذکرہ نہیں ۔ سخت گیر اسلامی تنظیم داعش نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔یہ وہ تنظیم ہے جس کے خلاف امریکی اتحاد حالت جنگ میں ہے اور فرانس اِن کا سر گرم اتحادی ہے۔ظاہر ہے آپ کسی کے خلاف لڑ رہے ہوں اور اُن پر آگ و خون کی بارش کر رہے ہو تو وہ بھی موقع کی تلاش میں رہے گا کہ اس طر ح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔فرانس اس امریکی و مغربی اتحاد کا سر گرم رکن ہے جو شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے لئے سر گرم عمل ہے۔ گو آج یہ مغربی اتحادی داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں لیکن کچھ عرصہ پہلے یہ بشار الاسد کے خلاف داعش کو سپورٹ کر رہے تھے۔آج بھی یہ اتحاد مخمصے کی صورت میں ہے کہ کس کے خلاف لڑیں اور کس کے خلاف نہیں ۔لیکن بشار الاسد نے بھی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلیں ہیں۔وہ روس کا پکا اتحادی ہے اور روس اس کا بھر پور مدد گار ہے ۔روس کے جنگی جہاز بشار الاسد کے مخالفین کے ٹھکانوں کی خبر لے رہے ہیں اور ظاہر ہے بشار الاسد کے مخالفین امریکی اور اس کے اتحادی ہی ہیں ۔اس لحاظ سے شام میں کئی سالوں سے جاری لڑائی اب روس اور امریکہ کی جنگ بن چکی ہے۔گویا سر د جنگ ماضی کا قصہ نہیں بلکہ اب بھی”گرم “ہے۔القاعدہ اور داعش کیوں اور کیسے وجود میں آئے ۔ تو اس کا سیدھا سا اور مختصر سا جواب ہے امریکی پالیسیوں کے رد عمل میں۔خود ساختہ نائن الیون جس کے ذمہ داروں میں کوئی افغانی نہیں تھا لیکن یہاں افغانستان کا ستیا ناس کر دیا گیا۔اُسامہ کو روس کے خلاف استعمال کیا گیا تب وہ مجاہد تھالیکن بعد میں دہشت گر د ہوا۔غلط انٹیلی جنس معلوما ت کی بنیاد پر عراق پر حملہ کیا گیا اور عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔جس کے نتیجے میں یہاں خانہ جنگی پھیلی اور داعش وجود میں آئی ۔آج لاکھ بار سابق برطانوی وزیر اعظم عراق جنگ پر معافی مانگیں لیکن اب کیا ہوت جب چڑیا چگ گئی کھیت ۔میری امریکی دوست لی ہاکنس (Le Hawkins)کہتی ہے اور ٹھیک ہی کہتی ہے کہ القائد ہ اور داعش گو امریکہ نے نہیں بنائے لیکن ان کے غلط پالیسیوں کے رد عمل میں ضرور وجود میں آئے ہیں۔
امریکہ وقفے وقفے سے مگر بدستور کسی نہ کسی ہوّا کو کھڑا کر نے کا عادی ہے اور اس ہوّا کے نتیجے میں دنیا والوں کو ساتھ ملا کر اپنا ایجنڈا حاصل کر لیتا ہے ۔اس ہوّا کو کھڑا کرنے کا مقصد مسلمانوں کی نسل کشی ہی ہوتی ہے ، باری باری سب مسلمان ممالک کوغارت کرنا ہوتا ہے ۔پہلے القائد اور اسامہ کا ہوّا کھڑا کیا گیااور اس کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیکر خود ساختہ نائن الیون کی آڑ میںافغانستا ن اور وہاں کی اسلامی حکومت کا خاتمہ کیا گیا۔طالبان کا بھی ہوّ ا کھڑا کیا گیا اور انھیں تمام برائیوں کی جڑ قرار دیا گیا۔حالانکہ یہ طالبان ہی تھے جنہوں نے پورے افغانستان کو امن کا گہوارہ بنایا تھا۔صدام حسین ،عراق اور ان کے کیمیائی و جوہر ی ہتھیاروں کا ہوّ کھڑا کرکے عراق اور اس کے لاکھوں مسلمانوں کا خون کیا گیا جس کے نتیجے میں داعش وجود میں آئی۔لیبیا کے معمر قذافی کا ہو ّ ا کھڑا کر کے لیبیا کو صفحہ ہستی سے مٹایا گیا جہاں آج خانہ جنگی ہے اور امن کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔اب بشار الاسد کا ہوّا کھڑا کرکے شام میں خون کی ندیاں بہائی جارہی ہیں۔ساتھ ساتھ دنیا میں داعش کا ہوّا کھڑا کیا جارہا ہے اور اس کے مقابلے کے لیے پوری دنیا کی حمایت اور مدد حاصل کی جارہی ہے بالکل اُ سی طرح جس طرح القائدہ کے خلاف دنیا کو اکٹھا کیا گیا تھا ۔دیگر کی طرح فرانس داعش کے خلاف امریکہ کا سر گرم اتحادی ہے ۔اس لئے تو داعش نے اسے نشانہ بنایا ہے ۔امریکہ کا دوست ہو اور وہاں کی خون کی ہولی نہ کھیلی جارہی ہو یا وہاں خانہ جنگی نہ ہو ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا۔امریکی جنگ میں کُودنے والے فرانس کو مذید بھی ایسے تباہ کن حملوں کے لئے تیار رہنا ہوگا۔نہ صرف فرانس کو بلکہ یورپ کے دوسرے امریکی اتحادیوں کو بھی۔بالکل اُسی طرح جس طرح ہم نے آنکھیں بند کرکے امریکی جنگ میں چھلانگ لگایا تھا۔اس پرائی جنگ کو اپنا بنا کر ہم اپنی پچاس ہزار جانیں گنواچکے ہیںاور یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔آخر ہم کنیڈا سے سبق کیوں نہیں سیکھتے جس کے نو منتخب وزیراعظم نے اپنے انتخابی وعدے کے مطابق داعش کے خلاف لڑنے والے اپنے فوجیوں کو شام سے واپس بلا کر اپنے ملک کو پیرس جیسے تباہ کن حملوں سے محفوظ بنا دیاہے۔لگتا ہے امریکہ پاکستان کو بھی داعش کے خلاف لڑنے کی دعوت ضرور دیگا۔ہم تو ویسے بھی دوسروں کی لڑائی میں کودنے کے عادی ہیں لیکن خدارا ہمیں ملک کو ایک اور آزمائش سے دوچار نہیں کر نا چاہیئے۔اوبامہ کہتا ہے کہ وہ داعش کے خلاف جنگ دوگنی کرے گا اور یہ کہ دہشت گردوں کا ہر جگہ پیچھا کیا جائے گا ۔پوپ پال نے اسے غیر منظم تیسری جنگ کی شروعات قرار دیا ۔ فرانس نے بھی پوری شدت سے شام میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ ایک نہ ختم ہونے والی جنگ جاری رہے گی جس کے خاتمے کا مستقبل قریب میں کوئی امکان نہیں اور جس میں فرانس جیسے حالیہ حملے معمول کی بات ہوگی۔