- الإعلانات -

بین الاقوامی کتاب میلہ2015ءایکسپو سینٹر کراچی

mir-afsar

مسلسل گیاراسالوںسے پاکستان میں کتابیں چھاپنے اور فروخت کرنے والوںکی تنظیم(دی پاکستان پبلشیئر اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن) کی طرف سے کراچی ایکسپو سینٹر میں بین الاقوامی کتاب میلے کا انعقاد ہو تارہا ہے۔ اس میں حکومت پاکستان کی (نیشنل بک فاﺅنڈیشن) کا تعاون بھی شامل ہے۔ اس میلے کو(ایونٹ اینڈ کانفرنس انٹرنیشنل پرائیویٹ لمیٹڈ) نے سجایا۔اس گیارویں بین الاقوامی کتاب میلے کی منیجنگ کمیٹی کے کنوینر جناب اویس مرزا جمیل میسرز ایلائٹ پبلیشئر لمیٹڈ ہیں۔ساﺅتھ زون کے چیئر مین عزیز خالدصاحب اور نارتھ زون کے چیئر مین سید احسن محمود صاحب ہیں ان سب کی کوششوں سے کامیاب میلے کا انعقاد ممکن ہوتا ہے۔گیارویں بین الاقوامی کتاب میلہ۲۱ سے۶۱ نومبر۵۱۰۲ ءپا نچ دن تک ایکسپو سینٹر کراچی میں منعقد کیا گیا ہے۔ اس کتاب میلے میں بیرونی دنیا سے چین، ترکی اور بھارت وغیرہ نے شرکت کی۔یہاں پر ایک مزے کی بات ہے کہ بھارت میں تو پاکستان کے سابقہ وزیر خارجہ جناب خورشید قصور ی صاحب کی صرف ایک کتاب کی رونمائی بھی نہ ہونے دی گئی اور اپنے ہی ملک کے کلکرنی صاحب ،جنہوں نے بھارت کے قومی جھنڈے والا لباس زیب تن کیا ہوا تھا، تنگ نظری کا گنہونہ مظاہرہ کیا اورکلکرنی صاحب کے منہ پر بھارت کے انتہا پسند دہشتگردوں شیو سینانے کالک مل دی۔اللہ کا شکر ہے کہ مسلمان امن و آشتی کے ساتھ رہنے والوں کے ملکِ پاکستان میں اس گیارویں بین الاقوامی کتاب میلے میں درجن بھر سے زائد بھارت کے پبلیشرز اور بکس سیلر نے اپنے اسٹالز لگائے جن کو پاکستان کے لوگوں نے محبت دی اور پیار کیاجو ایک اچھا شگون ہے۔ جہاں تک اندرون ِملک پبلیشئر اور بکس سیلرز کا تعلق ہے تو اس بین الاقوامی کتاب میلے میں سینکڑوں پاکستانی کتابیںچھاپنے اورفروخت کرنے والے اداروں نے حسب معمول حصہ لیا۔ اس کتاب میلے میں تقریباً درجن بھر بیرون ملک سے ادارے شریک ہوئے۔ جس میںہر قسم کی کتابیں فروخت کے لیے پیش کی گئیں تھیں۔ ایکسپو سنٹر کو حسبِ معمول تین حصوں میں تقسیم کر کے اسٹالزلگائے گئے تھے۔ایکسپو سنٹر کی مین بلڈنگ میں داخل ہوتے ہی استقبالیہ کاﺅنٹر کے بعد سیدھے ہاتھ پر ہال نمبر ،۳ سامنے ہال نمبر ۲ اور الٹے ہاتھ پر ہال نمبر ۱ تھا۔ کتابوں کے اسٹالز وزٹ کرنے کے لیے کشادہ راستے بنائے گئے تھے۔ جس میں فیملیز اپنے بچوں کے ساتھ آسانی سے اسٹالز کو وزٹ کر رہیں تھیں۔ باہر نکلتے وقت ہر فیملی اور فرد کے ہاتھ میں کتابوں کی تھیلیاں تھیں۔کھانے پینے کے اسٹالز کا گیلری میں انتظام کیا گیا تھا۔ میلے میں داخل ہونے کے لیے ایک ہی راستہ جو سوک سنٹر کے سامنے ہے اجازت تھی۔ واک تھرو گیٹ سے لوگوں کوداخلے کی اجازت تھی۔ واپسی کے لیے علیحدہ گیٹ بنا یا گیا تھا۔ اس دفعہ اس بین الاقوامی کتاب میلے کا باقاعدہ افتتاح پاکستان کی پارلیمنٹ میں حزب اختلاف جناب خورشید شاہ صاحب نے مورخہ ۲۱ نومبر ۵۱۰۲ءکو کیا ۔ انتظامات بہت ہی عمدہ تھے۔ ایکسپو سنٹر کو خوب اچھی طرح سجایا گیا تھا ہر طرف غبارے ہی غبارے نظر آ رہے تھے آخری دن یہ غبارے شریک ہونے والے بچوں میں تقسیم کر دیے گئے۔پارکنگ کے لیے جگہ کشادہ تھی کسی قسم کی کوئی بھی تکلیف محسوس نہیں کی گئی۔ کراچی ،جو روشنیوں کا شہر تھا جسے ملک دشمنوںبیرونی ایجنٹوں نے گزشتہ۵۲ سال سے غموںاور دکھوںکے شہر میںتبدیل کر دیا ہے ،کے علم پسند لوگ اس دفعہ شہر کے حالت بہتر ہونے کی وجہ سے جوق در جوق شریک ہوئے۔ کراچی شہر،جس کے نوجوانوںکے ہاتھ میں قلم اور بڑوں کے ہاتھ میں دلیل کا ہتھیارہوا کرتا تھا اس کتاب میلے میں کثیر تعداد میں شرکت کرکے پھر کتاب دوستی کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ ا ن شاءاللہ کراچی میں اس کتاب میلے سے لوگوں کے ہاتھوں میں کتابیں ہونگی اور پھر وہ دلیل کی بنیاد پر پورے پاکستان کے سیاسی اور معاشرتی خیالات کو تبدیل کریں گے۔ اللہ بھلا کرے کتابیں چھاپنے اور فروخت کرنے والی تنظیموں کا کہ جو مسلسل گیارہ سالوں سے کراچی میںکتاب میلے کا انعقاد کر رہی ہیں اور اس سال بھی گیارویں کتاب میلے کا انعقاد کیا۔ ہم نے اس دفعہ بھی ایک چیز نوٹ کی کہ کتابوں کے اسٹالز پر پچاس فی صد کی رعایت نہیں دی جا رہی تھی۔ سال بعد کتاب میلہ لگتاہے لہٰذا اس میں تو عوام کو مناسب رعایت ملنی چاہیے۔ منتظمین سے درخواست کرتے ہیں اور امید ہے آیندہ سال اس کا خاص خیال رکھا جائے گا۔اس کتاب میلے میںبچوں کی کتابیں، سی ڈیز، کارٹون اور دیگر مواد کثیر تعداد میں فروخت کرنے کے لیے رکھا گیا تھا۔ قرآن پاک اور تفاسیر قرآن پاک کے بھی اسٹالز موجود تھے۔ سیرت رسول اللہ پر بھی کتابیں تھیں۔ دنیا کے مختلف علماءکی طرف سے لکھی گئی دینی کتابیں بھی فروخت کے لیے رکھیں گئیں تھیں۔ تاریخ، مذہب، فلسفہ ،ادب،فنون لطیفہ اور مختلف علوم پر کتابیں بھی تھی۔ نصاب کی کتابیں اور نصاب بنانے والے اداروں کے اسٹالز بھی موجود تھے۔ اس میں ہماری پسندیدہ اکیڈمی بک سنٹر( آئی آر اے) کا اسٹال بھی تھا ۔ غرض ہر قسم کے علم کی کتابیں اس کتب میلے میں موجود تھی۔اردو، انگریزی، سندھی کے کتابوں کے اسٹالز لگے ہوئے تھے۔ مستقل بیماری کے باوجودہم گزشتہ کئی سالوں سے اس کتاب میلے میں شرکت کر رہے ہیں ۔اپنے شوق کے مطابق کتابیں بھی خریدتیں ہیں۔ ہم نے بھی حسب سابق اس دفعہ اپنے درمیان والے بیٹے اور اپنی دو بہوںاور ان کے بچوں کے ساتھ میلے میں شرکت کی۔ہم نے اپنی ضرورت ہمارے بیٹے اور ہماری بہوں نے اپنی اور بچوں کی پسند کی کتابیں خریدیں۔ کالم نگار ہونے کی ناتے اس کتاب میلے کی ابلاغ کے لیے ہم ہر سال کالم بھی لکھتے رہتے ہیں۔کتاب دوستی کی وجہ سے ان کتابوں پر اپنے کالموں میں تبصرے بھی کرتے رہتے ہیں جو اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔غرض یہ ہے کہ اس اچھے اور نیک کام کی تشہیرہو اور ہمارے ملک کے لوگوں کو کتابوںسے محبت پیدا ہو جا ئے۔ ہمارے نزدیک کتاب بینی بہت کم ہو گئی ہے۔ لوگ ٹی وی اور فیس بک کے استعما ل کی وجہ سے کتابوں کی طرف کم ہی دھیان دیتے ہیں۔ ہم کئی سالوں سے منتظمین سے اپنے کالم میںدرخواست کرتے رہتے ہیں۔ ملک کے سارے صوبوں کے بڑے شہروں یا کم از کم صوبائی دارلحکومتوں میںایسے ہی کتاب میلوں کا انتظام کیا جائے۔ یہ اس وقت کی ضرورت ہے مگر نہ جانے منتظمین کی کیا مشکل ہے کہ وہ یہ کام کئی سالوں سے نہیں کر سکے۔ خیر یہ تو وہی جان سکتے ہیں ہمارا کام درخواست کرنا ہے۔ اس دفعہ ہم نے نوٹ کیا ہے کہ اس بین الاقوامی کتاب میلے میں صرف بھارت، چین اور ترکی ہی شریک ہوئے ہیں اس کتاب میلے کو صحیح بین الاقوامی بنانے کے لئے اپنے دوست ملکوں ،خاص کر اسلامی ملکوں کوبھی اس بین الاقوامی کتاب میلے میں شرکت کرنی کی دعوت دینی چاہےے۔ اس سلسلے میں حکومت پاکستان سے فنڈ حاصل کر کے ان ممالک کو خصوصی رعایت کی پیش کش کی جائے تو بہتر ہوگا۔صاحبو! جب مسلمان کتابیں لکھتے تھے، پڑھتے تھے تو اس وقت کی دنیا علم کی پیاس کے لیے سمر قند اور بخارا کی یونیورسٹیوں کی طرف رجوع کرتی تھی۔ اب جو قومیں کتابیں لکھتیں ہیں اورکتاب بینی کرتی ہیں تو لوگ لندن اور واشنگٹن کی طرف رجوع کر رہے ہےں۔ مسلمانوں کو اپنے وقت کے کتب خانوں جو بغداد وغیرہ میں قائم کیے گئے تھے یاد رکھنا چاہیے جنہیں کتاب دشمن حملہ آور تاتاریوں نے مسلمان دشمنی میں جلا دیا اور دریا برد کر دیا تھا۔ مسلمانوں کو پھر سے کتابوں کی طرف کی روجوع کرنا چاہےے اس میں ترقی اور آگے بڑھنے کا راز ہے جو اس راز کو پا گیا وہ آگے نکل گیا۔ ہمارے اہل علم اور حکومتوں کومغرب کی کتب کا اپنی مادری زبان اردو میں ترجمے کروانے چایہیں تاکہ علم کی قوت سے مسلمان پھر سے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکیں۔ بہرحال یہ کتاب میلہ وقت کی ضرورت ہے کراچی کے لوگوں نے اس سے خوب فائدہ اُٹھایا۔ منتظمین بھی قابل مبارک باد ہیں۔ اللہ ہمارے کراچی اور پورے پاکستان کو دہشتگردی سے نجات دے اور امن وسکون نصیب کرے آمین۔