- الإعلانات -

پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے نتائج

riaz-ahmed

پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان پر بھرپور عمل درآمد کے خوشگوا رنتائج برآمد ہو رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پنجاب بھرمیں کسی قسم کی تخریب کاری، دہشت گردی اور امن و امان میں خلل کے واقعات نہیں ہو رہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی ،انتہاپسندی اورعدم برداشت کے رویے کے خلاف قوم متحد اور یک جان ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر موثرانداز میں عملدرآمد ملکی استحکام اور ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔نیشنل ایکشن پلان کے تحت صوبے میں اٹھائے گئے اقدامات سے امن و امان کی صورت حال میں بہتری آئی ہے۔
خادم اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اپنے صوبے میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی خود نگرانی کر رہے ہیں ۔10 کروڑ کی آبادی کے صوبے میں ملک کے دیگر صوبوں سے کہیں زیادہ صورتحال پرامن ہے کیونکہ پنجاب میں پولیس ، اینٹی ٹیررسٹ فورس اور سپیشل برانچ نہایت منظم ہیں۔ لاہور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کام کر رہا ہے جس کے ذریعے دہشت گردوں کے اندرون و بیرون ملک مواصلاتی رابطے پکڑے اور ختم کیے جا رہے ہیں۔ اس نظام کی بدولت دہشت گردوں اور تخریب کاروں کی بھرپور چیکنگ کی جا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں دہشت گرد گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ پنجاب میں ملک اسحاق کی سرکردگی میں کام کرنے والے منظم گروہ کا صفایا کر دیا گیا ۔ اٹک اور کئی دیگر مقامات پر دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث گروہوں کا سراغ لگایا گیا۔
ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ پنجاب راجہ جہانگیر انور نے انکشاف کیا ہے کہ لاہور میں نہایت جدید فرانزک لیبارٹری قائم کی گئی ہے جو امریکہ ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کی لیبارٹریوں سے بھی زیادہ جدید اور مو¿ثر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ بھی اس لیبارٹری سے استفادہ کر رہے ہیں۔
پنجاب سپیشل پولیس ماضی میں ایک روایتی نکارہ ادارہ بن چکی تھی لیکن وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی ہدایت پراسے جدید خطوط پر منظم اور مو¿ثر بنا دیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت نے دہشت گردوں کی خفیہ نگرانی بہتر بنانے کےلئے انٹیلی جنس سکول قائم کیا ہے جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں اور افسروں کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی طرح بہترین تربیت دی جا رہی ہے۔
اینٹی ٹیررسٹ ڈیپارٹمنٹ میں بھی بہترین تربیت یافتہ لوگوں کو شامل کیا گیا ہے اور انہیںفوج کی نگرانی میں تربیت دی گئی ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں میں لاہور، پنڈی اور صوبے کے دیگر قصبوں اور شہروں سے دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا دہشت گردی کی وارداتوں سے قبل سراغ لگایا گیا ۔یوحنا آباد اور دیگر علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کے مجرموں کو قانون کی گرفت میں لیا گیا ہے۔صوبے بھر میں نفرت انگیز تقاریر، وال چاکنگ، آتشیں اسلحہ رکھنے اوردیگرغیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہیں۔ 11 نومبر 2015 تک 48 ہزار 617 مقدمات درج کیے گئے جب کہ 53 ہزار 151 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
جرائم کی روک تھام کے حوالے سے پنجاب پولیس اینٹی گریٹڈ کمانڈ، کنٹرول اینڈ کمیونیکیشن سنٹر کے قےام کا منصوبہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور مرحلہ وار پروگرام کے تحت اس منصوبے کو راولپنڈی، ملتان، گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں بھی شروع کیا جائے گا۔ اینٹی گریٹڈ کمانڈ، کنٹرول اینڈ کمیونیکیشن سنٹر کے قےام کے منصوبے کے تحت لاہور کے تمام تھانے سنٹر کے ساتھ اینٹی گریٹڈ ہوں گے۔ جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر سے شہر کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے جرائم پیشہ افراد اور شرپسندوں پر کڑی نظر رکھنے میں مدد ملے گی۔ جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر سے نہ صرف امن و امان کی صورتحال میں خاطرخواہ بہتری آئے گی بلکہ گلی محلوں اور بازاروں کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے مانیٹر کیا جا سکے گا۔
صوبے میں مقیم افغانی باشندوں کی نگرانی کی جا رہی ہے ۔ پنڈی ، میانوالی اور مختلف مقامات پر افغانوں کی رجسٹریشن بھی کی گئی ہے۔ اسی طرح پنجاب میں چلنے والے تمام مدارس کی باقاعدہ درجہ بندی کی گئی ہے۔ ان میں زیر تعلیم لاکھوں بچوں کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔ ان مدارس سے افغان یا دیگر غیر ملکی طلبا کو نکالا نہیں گیا بلکہ ان کی باقاعدہ فہرستیں تیار کی گئی ہیں اور ان مدارس کی مالی امداد اور تعلیمی سرگرمیوں پر نگاہ رکھی جا رہی ہے۔ تمام مدارس کے اساتذہ اور منتظمین کا ریکارڈ تیار کیا گیا ہے اور ان تمام افراد کی سرگرمیوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
ناجائز اسلحہ رکھنے والوں سے اسلحہ، تخریبی مواد اور خود کش جیکٹیں بھی برآمد کی گئی ہیں۔ اسی طرح سماج دشمن عناصر پر نگاہ رکھی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں پنجاب ماضی کے مقابلے میں دوسرے صوبوں سے کہیں زیادہ پرامن ہو چکا ہے اور وزیر اعلیٰ کا پرامن پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہو رہا ہے۔
سندھ اور کراچی میں دہشت گردی کی کاروائیاں روزانہ منظر عام پر آرہی ہیں مگر پنجاب میں میں دہشت گردوں کی کڑی نگرانی کے نتیجے میں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گرد پنجاب میں ماضی کی طرح کھلم کھلا کارروائیاں نہیں کر سکتے۔
خادم اعلیٰ نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی پہلی ترجیح دہشتگردی گردی کاخاتمہ ہے۔پر امید ہیں رواں سال دسمبر تک دیگر صوبوں کی نسبت پنجاب میں امن و امان کی صورتحال بہترین ہو گی۔ پنجاب پولیس کی کارکردگی پہلے سے بہت بہتر ہو رہی ہے جس سے کرائم کی شرح نیچے آ رہی ہے۔ سٹریٹ کرائم پوری دنیا میں ہو رہا ہے۔پنجاب میں بھی اس وقت سٹریٹ کرائم ہے لیکن حکومتی اقدامات سے دہشتگردی سمیت اس کا بھی خاتمہ ہوگا۔