- الإعلانات -

خارجہ پالیسی کو نئی سمت دینے کی ضرورت

وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے سفراء کانفرنس کے اختتام پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے اتحاد بن رہے ہیں ہمیں بھی درست سمت کا تعین کرنا ہے، ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ جیت رہے ہیں نئے پیدا شدہ حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر درست سمت کا تعین کرنا ہوگا،خطے میں سٹریٹیجک پالیسیاں معاشی مفادات سے وابستہ ہیں ،پاکستان کے بارے میں دنیا کے تاثر کو درست کرنا ہوگا، اولین ترجیح اپنے اپ کو دہشتگردی سے محفوظ کرنا ہے ،خطے میں پھیلنے والے دہشت گردی کے اسباب کاتجزیہ کرنا ہوگا،پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے والا واحد ملک ہے ہم سے بہتر دہشتگردی کے خلاف جنگ کوئی لڑ ہی نہیں سکتا تھا،۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمارے اپنے عوام داؤ پر لگے ہوئے تھے،جہاں تعلقات خراب ہیں یا ان میں دراڑیں ہیں ان ممالک سے تعلقات بہتر بنانا ہے، برکس کے اعلامیہ جیسا اعلامیہ ہارٹ آف ایشیا میں بھی سامنے آیا تھا۔ برکس اعلامیہ میں جن دہشتگرد تنظیموں کا نام لیا گیا وہ پہلے ہی پاکستان میں کالعدم ہیں، ہمارے چین سے خصوصی تعلقات ہیں ۔ پاکستان کی خارجہ پارلیسی میں تبدیلی کا فیصلہ،چین نے برکس اعلامیہ میں بھارت کی بہت سی چیزیں شامل نہیں کرنے دیں۔ سفرا کانفرنس میں امریکہ کی نئی پالیسی پر غور کیا گیا ہے امریکہ میں پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری نے پاکستان کے مختلف زاویوں کو واضع کیا۔ ٹرمپ کی افغانستان ،پاکستان پالیسی کے بعد خارجہ پالیسی کی فارمولیشن ضروری تھی۔اعزاز چوہدری نے امریکہ صدر کی پالیسی پر تفصیلی بریفننگ دی ہے ۔ نئی پالیسی کے بعد سفرا کانفرنس کی اہمیت بہت بڑھ گئی تھی۔ ہمسایہ ممالک خصوصا بھارت کے ساتھ بھی تعلقات پر بھی بات چیت ہوئی۔ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ جیت رہا ہے۔ آج کراچی ،وزیرستان ،خیبرایجنسی اور باجوڑ میں امن ہے۔ ہمارے حالات بہتر ہورہے ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید بہتر ہوں گے۔پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے والا واحد ملک ہے پاکستان سے بہتر دہشتگردی کے خلاف جنگ کوئی لڑ ہی نہیں سکتا تھا۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمارے اپنے عوام داؤ پر لگے ہوئے تھے۔اقتصادی مفادات حاصل کرنا بھی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ بھارت کے ساتھ تعلق میں کشمیر اہم مسئلہ ہے۔جہاں تعلقات خراب ہیں یا ان میں دراڑیں ہیں ان ممالک سے تعلقات بہتر بنانا ہے۔ افغانستان سے برادرانہ تعلقات ہوں تاہم پاکستان کا مفاد اولین ہے۔ برکس کے اعلامیہ جیسا اعلامیہ ہارٹ آف ایشیا میں بھی سامنے آیا تھا۔ برکس اعلامیہ میں جن دہشتگرد تنظمیوں کا نام لیا گیا وہ پہلے ہی پاکستان میں کالعدم ہیں ۔روس کے چین کے تعلقات ایران سے اور ہم سے بہت بہتر اور موثر ہیں ۔خطے میں رہنے والے خود اپنے مسائل کا بہتر حل ڈھونڈ سکتے ہیں۔ پاکستان ایران کے ساتھ طویل سرحد رکھتا ہے۔ قدیم اور تاریخی تعلقات ہیں ۔سعودی عرب برادر ملک ہے۔ خواہش ہے دونوں ممالک میں تعلقات بہتر ہوں ۔ چین اورپاکستان کے مختلف معاملات پر خیال ایک جیسا ہے۔ خطے میں غیر معمولی تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ نئے پیدا شدہ حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر درست سمت کا تعین کرنا ہوگا۔خطے میں سٹریٹیجک پالیسیاں معاشی مفادات سے وابستہ ہیں ۔ پاکستان کے بارے میں دنیا کے تاثر کو درست کرنا ہوگا۔ اولین ترجیح اپنے اپ کو دہشتگردی سے محفوظ کرنا ہے۔ خطے میں پھیلنے والے دہشت گردی کے اسباب کاتجزیہ کرنا ہوگا۔ ملکی حالات گزشتہ 4سال کے مقابلے میں بہت بہتر ہیں۔ خطے میں مسائل کا حل ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ نئی امریکی و خارجہ پالیسی بنانے کا فیصلہ وقت کا تقاضا تھا جس کو موجودہ حکومت نے بھانپ لیا ہے جو کہ ایک مستحسن اقدام ہے جب تک مربوط خارجہ پالیسی نہیں ہوگی اس وقت تک ہم دنیا کو اپنے موقف سے آگاہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔ واشنگٹن سے پاکستان کے تعلقات ختم نہیں ہونے چاہئیں لیکن پاکستانیوں کو قربانی کابکرا بھی نہیں بنانا چاہیے۔ امریکہ خطے کے حالات سے غافل دکھائی دیتا ہے، دنیا تسلیم کرے یا نہ کرے پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے اور کررہا ہے اور دہشت گردی کیخلاف جنگ بھی پاکستان نے جیتی ہے۔ نئے اتحاد بن رہے ہیں، خطے میں تبدیلیوں کے پیش نظر پاکستان نے بھی اپنی سمت کا تعین کرنا ہے اور یہ سمت وقت کے تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ افغان جنگ پاکستان میں لڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسی ناکام ہوچکی ہے۔ امریکہ پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرے، پاکستان قربانیوں کا ادراک کرنے والے ممالک کے ساتھ آگے بڑھے اور مربوط خارجہ پالیسی بناکر بحران پر قابو پائے۔
شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز کی منظوری
چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کی زیر صدارت قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ نے شریف خاندان اور اسحاق ڈار کیخلاف چار ریفرنسز، تین شریف فیملی اور ایک وزیر خزانہ کیخلاف دائر کرنے کی منظوری دے دی ہے جس کے نتیجے میں شریف خاندان اور اسحاق ڈار کو باقاعدہ ملزم بنا دیا گیا ہے۔ پانامہ کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے نیب کو چھ ہفتوں میں شریف خاندان اور اسحاق ڈار کیخلاف ریفرنس دائر کرنے اور چھ ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم رکھا ہے۔ اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل نیب،ڈی جی آپریشنز، ڈی جی راولپنڈی سمیت دیگر افسران نے شرکت کی جبکہ نیب لاہور کے ڈی جی اور ان کی ٹیم وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی کارروائی میں شامل ہوئی، نیب راولپنڈی کی ٹیم نے سابق وزیراعظم نواز شریف،حسین نواز، حسن نواز ،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف تیار کئے گئے دو ریفرنسز پر اجلاس کو بریفنگ دی اور بتایا کہ ان دونوں ریفرنسز میں جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء سرکاری گواہ ہوں گے اور واجد ضیاء کا بیان بھی ان ریفرنسز کا حصہ بنایا گیا ہے جبکہ نیب لاہور کی ٹیم نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کو ریفرنسز پر بریفنگ دی، نیب لاہور نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف ایک ریفرنس جبکہ سینیٹر اسحاق ڈار کے خلاف ایک ریفرنس تیار کیا۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب نے اجلاس کو تیار کئے گئے ریفرنسز کے قانونی پہلوؤں سے آگاہ کیا،3گھنٹے تک جاری رہنے والے نیب بورڈ کے اجلاس میں چارں ریفرنسز کی منظوری دے دی گئی ہے اور یہ چاروں ریفرنس نیب پراسیکیوشن ونگ کی جانب سے راولپنڈی اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر کئے جائیں گے ان چاروں ریفرنسز میں سابق وزیراعظم نواز شریف،حسن نواز، حسین نواز، مریم نواز، کیپٹن صفدر اور سینیٹر اسحاق ڈار نامزد ملزم ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف لندن فلیٹس،فلیگ شپ انوسٹمنٹ اور 15آف شور کمپنیوں اور عزیزیہ سٹیل اور ہل میٹل کمپنی کے ریفرنسز بنائے گئے ہیں جبکہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کے بچوں کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کا ریفرنس تیار کیا گیا ہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بچوں، داماد کیپٹن(ر) صفدر اور وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کے نام ای سی ایل میں ڈالنے اور ان کے اثاثے منجمند کرنے کا معاملہ احتساب عدالت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ شریف خاندان کیخلاف ریفرنس کے دائر ہونے سے ان کیلئے مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا ، شریف خاندان کو چاہیے کہ وہ ریفرنس کا سامنا کریں اورقانون اور آئین کے تحت اپنا دفاع کریں۔