- الإعلانات -

روہنگیا ۔تُف مہذب دنیا کی منافقت پر

بڑھ رہا ہے خصوصاًمسلم ممالک کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔مسلم عالمی برداری نے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست راکھائن میں روہنگیا کمیونٹی کے خلاف جاری ریاستی کریک ڈاون کو فوری طور بند کیا جائے، پاکستان نے بھی اس کے خلاف ایک قراد داد پاس کی ہے۔انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں لاکھوں افراد نے قتل عام کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا،ادھر ترکی کا کہنا ہے کہ وہ روہنگیا مہاجرین کیلئے دس ہزار ٹن امدادی اشیا فراہم کرے گا، ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے بقول پہلے مرحلے میں کیمپوں میں رہنے والے روہنگیا کے لیے ایک ہزار ٹن امدادی اشیا بھیجی جائیں گی اور پھر دوسرے مرحلے میں ان میں دس ہزار ٹن امداد تقسیم کی جائے گی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی حرکت میں آئی ہے۔ ایمنسٹی کی جانب سے اقوام متحدہ کو لکھے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ پانچ روزمیں2100دیہات باشندوں سمیت جلادیے گئے ہیں، 10ہزار افراد بھاگتے ہوئے مارے گئے ، 1500سے زائد خواتین عصمت دری کے بعد فوج میں تقسیم کردی گئیں ہیں,زندہ انسانوں کے اعضا کاٹے جارہے ہیں،ایک لاکھ 30ہزار افراد شدید زخمی اور یک لاکھ سے زائد جنگلوں میں محصور ہیں ،بنگلہ دیشی حکومت کی سنگدلی کے باعث کشتیوں میں سوار20ہزار افرادسمندر میں بھٹکنے پر مجبور ہیں، لگتا ہے دنیا میں انسانیت نام کی چیز نہیں،آئندہ10 دن میں کسی ملک نے مداخلت نہ کی تو اموات میں لاکھوں کا اضافہ ہوسکتا ہے، فوری طور پر امن فوج بھیجی جائے‘۔اگرچہ اقوام متحدہ خاموش تماشائی ہے تاہم اگلے روز یو این او نے ایک بڑے انسانی بحران کے جنم لینے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ 25 اگست سے میانمار میں شروع ہونے والے تنازع میں اب تک ایک لاکھوں افراد بنگلہ دیش میں داخل ہوئے ہیں جن میں سے اکثریت روہنگیا مسلمانوں کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے سلامتی کونسل کو لکھے گئے ایک خط میں راکھائن کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں موجود تشدد انسانی بحران میں تبدیل ہوسکتا ہے،ان کا کہنا تھاکہ میانمار میں نسل کشی کا خدشہ ہے جس سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔بدقسمت روہنگی اس وقت بھارت بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان فٹ بال بنے ہوئے ہیں۔سوچی حکومت کے مظالم سے جان بچا کر بھاگنے والے کبھی بھارت داخل ہوتے ہیں تو وہاں سے انہیں نکال باہر کیا جاتا ہے جبکہ بنگلہ دیش جاتے ہیں تو حسینہ واجد اِن پر ڈائن بن کر ٹوٹ پڑتی ہے۔اس پر المیہ یہ ہے کہ سوچی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان انسانیت سوز مظالم کو تسلیم کرنے کی بجائے اسے دہشت گردی کے خلاف آپریشن کا نام دے رہی ہے۔سوچی نے دعویٰ کیا ہے کہ جھوٹی معلومات کی وجہ سے روہنگیا کی غلط تصویر پیش کی جارہی ہے، راکھائن میں سب کو تحفظ فراہم کررہے ہیں۔میانمار حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ جنگجو ہی روہنگیا مسلم کمیونٹی کی املاک کو تباہ اور لوگوں کو جان سے ماررہے ہیں۔تاہم انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ میانمار کی سوچی حکومت اور اسکی سکیورٹی فورسز ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت ان روہنگیا افراد کو ملک سے نکالنے کی کوشش میں ہیں۔گزشتہ برس اکتوبر میں بھی صوبے راکھائن میں آباد روہنگیا افراد کے خلاف ایک حکومتی کریک ڈان شروع کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے اس مسلم اقلیتی کمیونٹی کے ہزاروں افراد جان بچا کر بنگلہ دیش فرار ہو گئے تھے۔برما جسے اب میانمار کہا جاتا ہے اس کی سرحدیں بنگلہ دیش، بھارت، تھائی لینڈ، لاس اور چین سے ملتی ہیں۔شکر ہے کہ اس کا کوئی کونہ پاکستان سے نہیں ملتا ہے، ورنہ مودی اور اس کی یہودی لابی اس بدترین صورتحال کے پیچھے بھی پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتی۔یہ انسانیت سوز واقعات مودی، ٹرمپ اور اس قبیل کی تمام عالمی برادری کے منہ پر تمانچہ ہے۔تف ہے اس عالمی سوچ پر جو منافقت کی عمدہ مثال بن چکی ہے۔روہنگیا ایک مسلمان کمیونٹی ہے جو خود کو عرب جہاز رانوں کی نسل سے بتاتی ہے۔ان کی تعداد اندازاً 10لاکھ سے زائد ہے۔1982کے میانمار (برما)کی شہریت کے قانون کے مطابق،وہ لوگ جو 1823کے بعد برٹش انڈیا کے کسی علاقے سے یہاں آئے، برما کے شہری نہیں ہیں۔اسی طرح جب2014ء میں میانمار میں مردم شماری کی گئی تو روہنگیا مسلمانوں کو خود کو بنگلہ دیشی کے طور پر رجسٹر کرنے کا حکم دیا گیا تھا یا ان سے کہا گیا تھا کہ وہ خود کو مردم شماری کے فارم میں دیگر کے خانے میں رجسٹر کروائیں،اس پر تنازعہ شروع ہوا تو مسلم اکثریتی علاقوں میں مردم شماری ہی روک دی گئی۔بلاشبہ یہ دنیا کے مظلوم ترین باشندے ہیں جنہیں کوئی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔اس وقت امن نوبل انعام یافتہ آنگ سانگ سوچی کے ملک میں ان کو نہ تو سرکاری تعلیم کی سہولت مل سکتی ہے، نہ ہی سرکاری نوکری اور نہ ہی یہ عام شہری کی طرح آزادانہ گھوم پھر سکتے ہیں۔برمی بدھ نیشنلسٹ ان کو غیر قانونی طور پہ بنگلہ دیش سے یہاں آکر اس علاقے کو اس وقت کے مشرقی پاکستان میں شامل کرنے کی مبینہ سازش کاحصہ سمجھتے ہیں۔ میانمارمیں بھارت کی طرح مسلمانوں کو نصف صدی سے مشکلات کا سامنا ہے، 1970سے لے کر اب تک لاکھوں روہنگیا مسلمان دنیا کے کئی ممالک ہجرت کر چکے ہیں۔پچھلے 50سال میں3لاکھ50ہزار برمی پاکستان بھی آئے۔جبکہ دو لاکھ سعودی عرب،ایک لاکھ 50ہزار ملائیشیا،10ہزارمتحدہ عرب امارات، 5ہزار تھائی لینڈ منتقل ہوئے۔اقوامِ متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق قوم پرستوں کے شدت پسند رویے کیساتھ ساتھ انھیں برمی فوج کی طرف سے، قتل و غارت، اور دیگر مظالم کا بھی سامنا ہے۔ انسانی حقوق کی انجمنیں ان مظالم کو انسانیت کیخلاف مظالم قرار دے رہی ہیں ۔ اکتوبر 2015میں لندن کی کوئین میری یونیورسٹی کے کچھ محققوں نے ایک رپورٹ پیش کی تھی ۔ اس رپورٹ کے مطابق میانمار حکومت کے زیرِ سر پرستی، روہنگیا کی باضابطہ نسل کشی آخری مراحل میں ہے۔