- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر،ہزاروں شہداء کی اجتماعی قبروں کا انکشاف

اب بھارتی حکمرانوں کو کون سمجھائے کہ کشمیر میں حالیہ جدوجہد آزادی کشمیریوں کی اپنی جدوجہد ہے۔ جس کا واحد مقصد بھارت کے جبری قبضے سے آزادی ہے۔ پاکستان سے درآمد نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جموں کشمیر ایک متنازع خطہ ہے جس پر بھارت نے جبری طور پر قبضہ کر رکھا ہے اور کشمیری عوام اس قبضے کے خلاف عظیم اور بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ بھارت کے پالیسی ساز اور خفیہ ادارے کشمیریوں کی تحریک آزادی کونقصان پہنچانے کیلئے انتہائی خطرناک اورمذموم منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔کبھی تو اس کا تعلق پاکستان سے جوڑ دیتے ہیں تو کبھی طالبان اور داعش کے ساتھ کڑیاں ملانے لگتے ہیں۔ دنیا کی امن پسند اقوام نے بھی جموں کشمیر کی متنازع حیثیت کو تسلیم کیا ہوا ہے اور کشمیری اس مسئلے کو پرامن ذرائع سے حل کرنے کے خواہشمند ہیں۔انسانی حقوق کی علمبردار بھارتی دانشور اور مصنفہ ارون دھتی رائے نے کہا ہے کہ پچھلے 3 برس سے مقبوضہ کشمیر میں ایک بار پھر پورے جوش و خروش سے آزادی کی تحریک ابھری ہے اور بھارتی قبضے کو اخلاقی جواز صرف بھارت نواز متعصب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے ہی فراہم کیا جارہا ہے لیکن کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو اب کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ مجھے مقبوضہ کشمیر دنیا کا سب سے بڑا جیل خانہ لگتا ہے۔ جہاں جدید ترین اسرائیلی اور مقامی اسلحہ سے لیس بھارتی فوج تحریک آزادی کو دبانے کیلئے ہر طرح کے مظالم کر رہی ہے۔ اب ذرا بھارت کی بھی سنیے کہ ا س نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا ہوا ہے۔ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں حکومت کے حقوق انسانی کمیشن نے اعتراف کیا ہے کہ وادی میں اڑتیس مقامات پر دو ہزار ایک سو چھپن افراد اجتماعی قبروں میں دفن ہیں۔گزشتہ اکیس سال کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ انسانی حقوق کے سرکاری کمیشن نے وادی میں اجتماعی قبروں کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے اور کہا ہے کہ ان میں دو ہزار سے زائد افراد کو دفن کیا گیا ہے۔ دو ہزار سے دو ہزار آٹھ میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم مقامی اداروں نے ایک جائزہ رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ شمالی کشمیر میں ایسی درجنوں اجتماعی قبریں ہیں جن میں دو ہزار آٹھ سو افراد کو دفن کیا گیا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارت کے سرکاری انسانی حقوق کمشن نے مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی قبروں کی موجودگی کی تصدیق کی۔ بھارتی ذرائع ابلاغ میں کئی روز پہلے اس بارے میں رپورٹوں کی اشاعت کے باوجود پاکستان کی طرف سے کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا اس کے برعکس بھارت میں اس رپورٹ نے ہلچل برپا کر دی ہے اور من موہن حکومت کو وضاحت کرنی مشکل ہو رہی ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ ان اجتماعی قبروں میں وہ ہزاروں لاپتہ کشمیری شہید دفن ہیں جنہیں گذشتہ متعدد برسوں کے دوران بھارتی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے غائب کیا۔برطانوی اخبار ’’دی گارڈین‘‘ کی 2012ء کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ کشمیر میں بڑی تعداد میں اجتماعی قبریں موجود ہیں۔ مضمون میں ایک مقامی وکیل کی جانب سے نامعلوم قبروں کی نشاندہی کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اپریل 2010 میں راجپوتانہ رائفلز کا ایک بھارتی میجر ایک دور دراز پولیس پوسٹ پر پہنچا۔ میجر اویندر سنگھ جلدی میں تھا۔ پیر پنجال رینج کے علاقے میں پولیس آفیسر نے رپورٹ کیا کہ گذشتہ رات 3 افراد کو مچل سیکٹر میں مارا گیا ہے۔ پھر پولیس آفیسر نے میجر سے پوچھا ان کی نعشیں کہاں ہیں۔ میجر نے جیپ میں سوار ہوتے ہوئے جواب دیا انہیں جہاں مارا گیا تھا وہیں دفنا دیا گیا۔ اس طرح کے واقعات کشمیر میں غیرمعمولی نہیں ہیں۔ایک کثیر الاشاعت بھارتی روز نامے ’سہارا‘‘نے30 جون 2014کو انکشاف کیا ہے کہ بھارتی حکمران مقبوضہ کشمیر میں کچھ عرصہ قبل دریافت ہونے والی اجتماعی قبروں کے نام ونشان مٹانے کی کوشش میں مصروف ہے تاکہ انسان دوست عالمی حلقوں کے سامنے بھارت کو مزید شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ شمالی کشمیر کے علاقوں اوڑی اور بارا مولہ میں کچھ ایسی قبروں کو مٹائے جانے کی اطلاع ملی ہے کہ اوڑی کی اجتماعی قبروں میں 61نا معلوم لاشیں دفن ہیں کچھ روز قبل کتوں اور دیگر جنگلی جانوروں نے ان میں سے بعض قبروں کو کھود دیا تھا جس کے بعد بھارتی حکام نے ان لاشوں کی باقیات کو فوری طور پر ہٹا دیا تھا تاکہ کشمیریوں میں غصہ اور اشتعال نہ پھیلے۔ ایک جگہ میں 8لاشیں دفن تھیں یہاں محکمہ جنگلات نے فوری طور پر سڑک بنا کر ان قبروں کا نام و نشان مٹا دیا ،حالانکہ کہ ضرورت اس بات کی تھی کہ اس معاملے کی جانچ کی جاتی۔دوسری جانب ایسی ہی قبریں مقبوضہ جموں کشمیر پولیس کی برانچ ’سپیشل آپریشن پولیس‘کے دفتر کے احاطے میں ہے اب اس مقام پر مٹی وغیرہ ڈال کر عمارت یا پارکنگ بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور یہ ساری سعی اس لیے کی جارہی ہے کہ ان کے نشانوں کو ہمیشہ کے لیے مٹایا جا سکے۔ پرویز امروز دو دہائیوں سے سرینگر ہائیکورٹ میں لاپتہ ہونے والے کشمیریوں کے اہل خانہ کی درخواستوں پر انکے پیاروں کی میتیں تلاش کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ یہ وہ کشمیری ہیں جو بھارتی فوج کی حراست میں مارے جاتے ہیں اور بھارتی فوج انہیں مار کر بغیر کسی اطلاع کے کہیں بھی دفنا دیتی ہے۔ کشمیری شہریوں کی شکایات کے اعداد و شمار سے پرویز امروز نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بھارتی فوج نے اب تک 8000 غیر جنگجو کشمیریوں کو لاپتہ کیا ہے۔ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت فوج اور پیرا ملٹری فورسز کو ٹرائل سے مکمل طور پر استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ سینکڑوں بھارتی فوجی قتل‘ زیادتی اور تشدد میں ملوث ہیں اب تک کسی ایک کو بھی سزا نہیں سنائی گئی۔ دوسری طرف کشمیری شہریوں کے ساتھ جموں اینڈ کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت سلوک کیا جاتا ہے۔ انہیں حفظ ماتقدم کے تحت 2 سال جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق 20 ہزار افراد بغیر کسی جرم کے مستقبل میں تخریبی کارروائی میں ملوث ہونے کے شبہ میں گرفتار ہیں۔پرویز نے اقوام متحدہ کی توجہ بھی اس جانب دلائی اور ماورائے عدالت قتل کے خصوصی رپورٹر کرسٹوف ہینز نے اس سال بھارت کو متنبہ کیا کہ ایک جمہوریت میں اس طرح کے قوانین کی جگہ نہیں اور انہیں ختم کیا جائے۔ انسانی حقوق کیلئے سرگرم پرویز کو اپنی سرگرمیوں کی بھاری قیمت بھی چکانا پڑی ہے۔ امروز پر بھی قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ 2008ء میں امروز نے اپنی نئی جدوجہد شروع کی۔ کشمیر کے 23 میں سے 2 اضلاع کے سروے کے بعد مقامی لوگوں نے انہیں بے نشان قبریں دکھائیں۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ ان افراد کی قبریں تھیں جنہیں بھارتی فورسز کی حراست میں مارا گیا اور یہ تمام لوگ مقامی تھے۔ امروز نے 1000 کے قریب مقامات پر بے نشان قبروں کی تلاش جاری رکھی۔ یہ بات حیران کن تھی کہ بھارتی قانون کے مطابق ہر موت کی پولیس کیلئے تحقیق کرنا ضروری ہے اور مرنے والے کی شناخت کرنا بھی معدوم ہے تاہم بیمار گاؤں کے عطا محمد خان نے بتایا کہ کیسے رات کے اندھیرے میں اس سے 203 نامعلوم افراد کو دفنانے پر مجبور کیا گیا۔ اسی طرح کچامہ گاؤں میں بھی 235 بے نشان قبروں کی نشاندہی کی گئی۔ بجھاما میں 200 نعشوں کو دفنایا گیا۔ باندی پورا، بارہمولا اور کپواڑہ کے 3 اضلاع کے 55 دیہات تک اپنا کام پھیلا دیا۔ بے نشان اور اجتماعی قبروں کی تعداد 2700 تک پہنچ گئی۔ ان بے نشان قبروں میں دفن کی گئی میتوں کی تعداد 2943 ہے اور ان میں 80 فیصد نعشیں بے شناخت ہیں۔ یہ وہ خوفناک تصویر ہے جو کوئی سامنے نہیں لایا۔ یہ جنگی جرائم کے ثبوت ہو سکتے ہیں۔ کون مارا گیا، کس نے مارا اور کس نے انہیں دفن کیا۔ ریاستی ہیومن رائٹس کمشن نے بالآخر انکوائری پر اتفاق کیا۔ پولیس نے بتایا کہ 3 اضلاع میں 2683 کیسز سامنے آئے۔ امروز کی ٹیم نے مزید 2 اضلاع راجوری اور پونچھ میں کام کیا تو 3844 مزید قبروں کے متعلق معلوم ہوا اور یہ تعداد 6 ہزار سے بڑھ گئی۔ستمبر 2011 میں ریاستی ہیومن رائٹس کمشن نے اعلان کیا کہ امروز کی دریافت درست ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ شناخت نہ ہونے والی نعشیں لاپتہ ہونے والے افراد کی ہوں۔ اسی سال اقوام متحدہ نے بھارت کو خبردار کیا کہ کشمیری خاندان سچ جاننے کا حق رکھتے ہیں۔ لاپتہ ہونیوالے کی نعش ملنے پر اسکے لواحقین کا یہ حق ہے کہ انکے پیارے کا جسد خاکی انکے حوالے کیا جائے۔اب سوال ہے کہ اْن دو ہزار ایک سو چھپن لاشوں کی شناخت کیسے کی جائے جن کے بارے میں سرکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ انہیں شمالی کشمیر کے اڑتیس مقامات پر اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا۔