- الإعلانات -

جمہوریت وہ طرز حکومت ہے

تقریبا ایک صدی قبل حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے موجودہ طرز جمہوریت کے بارے میں کہا تھا "جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے،جمہور کو بھیڑ بکریوں کی طرح صرف گنا جاتا ہے یعنی ایک مخبوط الحواس انسان ایک بدکردار اور مجرم شخص اور ایک پڑھے لکھے بہترین تعلیم و تربیت کے حامل فرد کی رائے میں کوئی فرق نہیں اقتدار کے حصول کیلئے صرف میتھمیٹک ہی چاہیئے اپنے نمبر بڑھانے کا طریقہ کوئی بھی ہو بس نمبر زیادہ چاہئیں ہماری جمہوریت نمبر گیم ہی ہے بنیادی اکائی فرد ہی ہے اگر فرد کی اصلاح نہیں کریں گے تو مثالی معاشرہ کیونکر ممکن ہے اس کیلئے مناسب اور متوازن تعلیمی نصاب اور اچھی تعلیم کی ضرورت ہے جو ہماری کسی بھی حکومت کی priority نہیں رہی اور تعلیم جیسی اہم ترین اور بنیادی مد میں صرف اسقدر فنڈ مختص ہوتے ہیں کہ جس سے بمشکل تنخواہیں پوری ہو سکتی ہیں ہمارے معاشرے کا حال یہ ہے کہ گھر میں جس کو بالکل ہی ناکارہ فرد سمجھا جاتا ہے تو کہتے ہیں اسکول میں ماسٹر بھرتی کروا دیتے ہیں جب علم اور عالم کی یہ قدر ہو گی تو کہ معاشرہ کیسے ترقی کرے گا زمانہ پہلے کی بات ہے جب سیاست کو عبادت اور خدمت سمجھاجاتا تھا متمول اور صاحب حیثیت لوگ اپنے جائز ذرائع آمدنی سے خرچ کرکے سیاست کرتے تھے ابھی کل کی بات ہے جنوبی پنجاب کے نواب زادہ نصراللہ خان مرحوم کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جو اپنی جاگیر ہی سیاست کی نذر کر بیٹھے ان کے طرز سیاست سے قطع نظر زندگی بھر ان پر کسی مالی منفعت یا کرپشن کا کوئی الزام سننے میں نہیں آیا اور وضع داری تعلقات کی بنیاد ہوا کرتی تھے کرپشن کے الزام تک کو گالی سمجھا جاتا تھا لیکن آج کی سیاست کمرشلائز ہو چکی ہے یعنی سیاست کاروبار بلکہ صنعت بن چکی ہے جس میں پیسہ لگاؤ اور پیسہ بناؤ کا اصول کار فرما ہے الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکشن اخراجات کی ایک حد مقرر ہے لیکن اربوں روپوں کے اشتہارات اوربڑے بڑے پینا فلیکس لگائے جاتے ہیں لیڈران کی دیو قامت تصاویر لگائی جاتی ہیں کرسیوں ساؤنڈ سسٹم بلکہ ڈی جے کی خدمات بھی آج کی الیکشن کمپین کاحصہ ہیں لیکن الیکشن کمیشن نے کبھی کسی کو نہیں پوچھا کیوں کہ ان کی تقرریاں میرٹ کی بجائے حکومت اور حزب اختلاف کی مشاورت سے ہوتی ہیں ہم مشرقی رکھ رکھاؤ والے اور روادار لوگ ہیں احسانوں کے بوجھ کو محسوس کرتے ہیں ظاہر ہے باہمی مشاورت سے عہدا پانے والا ممنون احسان ہی ہوگا وہ کیوں قانون قاعدے کی بات کرے گا اور لیڈر حضرات ٹیکس محض چند ہزار ہی دیتے ہیں بعض تو اس تکلف سے بھی مبرا ہیں لیکن سہولیات کروڑوں کی لیتے ہیں قائداعظم ؒ نے کابینہ کی میٹنگ میں چائے کی بات سن کر برہمی سے کہا کہ کیا یہ لوگ گھر سے چائے پی کر نہیں آئے؟ جب تک بقید حیات رہے اپنی ذات یا اپنے ساتھیوں پر قوم کا ایک پیسہ نہیں لگنے دیا آج کے دور کے لیڈروں کے کردار دیکھئے کیسے موازنہ کریں گے یادش بخیر چند سال قبل جب ملک بد ترین سیلاب میں ڈوبا ہوا تھا ملکی کی اعلیٰ ترین شخصیت فرزند ارجمند کی تقریب میں بمعہ اہل خانہ شرکت اور چھٹیوں کی غرض سے یورپ میں مقیم تھے ان کے قیام کے دوران درجن بھر مہنگی ترین گاڑیاں کرائے پر لی گئیں جو شاذ و نادر ہی استعمال ہوئیں اور مہنگے ترین ہوٹل میں قیام کیلئے درجن بھر کمرے بک کئے گئے تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ کوئی شاہی خاندان ہوٹل میں ٹھہرا ہوا ہے اور 80 فیصد عوام سیلاب کے پانیوں میں غوطے کھا رہے تھے ایک اور بڑے لیڈر موڈ بننے پر استنبول جاکر تکے اور کباب نوش فرماتے کباب بنانے والے ایئرپورٹ آجاتے اور جہاز کے اندر گرم گرم تکے کباب کھلا دیتے اور پھر جہاز کی باگیں اسلام آباد کی جانب مڑجاتیں 18 افراد کیلئے 450 سیٹر جہاز خالی مغرب جاتا ہے واپسی پر18 افراد وطن واپس آتے ہیں وہ خود اور احباب تو ہیلی کاپٹر سے گھر جاتے ہیں چلیں اس حد تک تو ٹھیک لیکن سامان بھی ہیلی کاپٹروں میں گیا جس کے اخراجات زمینی راستے کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ ہیں جو قوم کی خون پسینے کی کمائی ہے یہاں نہ کسی کا ضمیر جاگتا ہے نہ غیرت ملی نہ خوف خدا،ان کی صفائی یہ دی جاتی ہے کہ وہ تو ووٹ لے کر آئے ہیں یعنی ووٹ لینے کے بعد وہ ہر برائی قباحت اور کرپشن کرنے کی سند جواز پا چکے ہیں یعنی ہمارے ممبران کو یہ حق حاصل کہ منتخب ہونے کے بعد وہ جو چاہیں کریں ایک شرابی کبابی یا ایک صالح مسلمان کے زیادہ ووٹ پا کر احتساب سے مستثنیٰ اور ماورا قرارپا چکے ہیں لہٰذا کوئی سوال نہ ہو لیکن کب تک وقت نے کروٹ لی جمہور میں شعور پیدا ہوا کچھ میڈیا نے بھی اپنا رول نبھایا اور اس بدبودار نظام کی قباحتیں سامنے آنے لگیں اللہ نے وقت کے فرعونوں کے چہروں پر ڈلے نقاب الٹ دئے اجلے سمجھے جانے والوں کی روسیاہی نمودار ہوئی اور اب یہ سلسلہ چل نکلا ہے انشا اللہ رکے گا نہیں یہ بارش کا پہلا قطرہ تھا یا کرپشن کے ایک بڑے گلیشیر کی صرف اوپری چوٹی ہی پگھلی ہے گلیشیر ابھی باقی ہے کرپٹ متاثرین نے خوب رولا ڈالا ہوا ہے کبھی جمہوریت کے نام پر بین ڈالے جارہے ہیں ریلیاں نکال کر آدھا سچ بلکہ زیادہ جھوٹ بولا جا رہا ہے لوگوں کو اداروں کے خلاف تشدد پر ابھارا جا رہا ہے عہد و پیمان لئے جارہے ہیں یہ غالب دنیا کی پہلی مثال ہے کہ اپنی ہی حکومت کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے تو کبھی انصاف کی غیر شفافیت کا رونا رویا جا رہا ہے پوری کوشش کی جارہی ہے کہ انارکی پھیلائی جائے جو ادارے ریاست کی بقا کے ضامن ہیں انہیں متنازعہ بنا دیا جائے اس سے بڑی غداری کیا ہو سکتی ہے یعنی” میں نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں” لیکن اب ایسا نہیں ہوگا میں نہیں کا مطلب میں نہیں ہی ہے ۔اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں خون پینے والی جونکوں سے نجات عطا فرما اور ملک کو مخلص ایماندار اور صاحب جرات قیادت عطا فرما جو اس مملکت خداداد کو ان بلندیوں تک لے جائے جن کیلئے یہ ملک تشکیل پایا تھا اللہ وطن اور اہل وطن کی حفاظت فرمائے ۔آمین
***