- الإعلانات -

لوڈشیڈنگ کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پانچویں ایٹمی بجلی گھر چشمہ پاور پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وطن عزیز سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ 10 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کے منصوبے آئندہ سال جون سے پہلے مکمل ہو جائیں گے ۔ بجلی کی صورتحال اب کافی بہتر ہے جوہری توانائی کا منصوبہ 2020 ء تک پاکستان انرجی کمیشن کو دئیے جانے والے8800 میگاواٹ کے ہدف کے حصول کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہوگا ۔ ہماری حکومت نے چین کے ساتھ مل کر سی پیک کے تحت بہت سے بڑے منصوبے شروع کیے ہیں جن کے ثمرات پاکستان کے عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ نواز شریف کے وژن کے مطابق توانائی منصوبوں کی تکمیل کی جانب بڑھ رہے ہیں، ماضی کی نسبت آج بجلی کی صورتحال بہتر ہے، سی پیک کی بدولت ملک میں ترقی کی رفتار میں مزید تیزی آئے گی۔ کسی بھی بین الاقوامی امداد کے بغیر چشمہ میں 28 دسمبر 2016 کو منصوبے کا باقاعدہ آغاز ہوا اور یہ ملک کا پانچواں ایٹمی بجلی گھر ہے۔ جس وقت اس منصوبے کا آغاز ہوا اس وقت ملک میں نواز شریف کی حکومت تھی ، یہی وہ منصوبہ ہے جس نے ملک میں نیوکلیئر توانائی کی بنیاد رکھی ۔ چشمہ یونٹ ون کی تعمیر مکمل کر لی گئی ہے ، جلد ہی ٹو اور کے تھری کو بھی مکمل کر لیا جائے گا ۔ حکومت نے 10 ہزار میگا واٹ کے منصوبے لگائے جس کی وجہ سے ماضی کی نسبت آج بجلی کی صورتحال انتہائی بہتر ہے ۔ ہم نے رواں سال ترقی کا ہدف 6 فیصد مقرر کیا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ سی پیک کی بدولت ملک میں ترقی کی رفتار میں مزید تیزی آئے گی ۔ حکومت کی طرف سے 2030 تک پاکستان اٹامک انرجی کو دیئے جانے والا یہ منصوبہ ملکی ترقی کے لئے اہم قدم ثابت ہوگا۔منصوبوں کی تکمیل کے لیے چینی حکومت اور اداروں کے مشکور ہیں، نومبر2017 کے بعد ہم ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرنے کے قابل ہوں گے۔ جوہری توانائی پلانٹس سے سستی بجلی پیدا ہورہی ہے، چشمہ اور مظفرگڑھ میں جوہری توانائی کے مزید منصوبے لگائے جارہے ہیں۔ نواز شریف کے وژن کے مطابق توانائی منصوبوں کی تکمیل کی جانب بڑھ رہے ہیں اور یہ منصوبے 2020 کے 8 ہزار 800 میگاواٹ جوہری بجلی ہدف میں اہم قدم ہیں۔چشمہ ایٹمی بجلی منصوبے کے سی ون، سی ٹو اور سی تھری یونٹ بالترتیب دوہزار ، دوہزار گیارہ اور دوہزار تیرہ سے کامیابی سے قومی گرڈ میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔اس کے علاوہ دو بڑے ایٹمی بجلی گھر کے ٹو اور کے تھری کراچی کے قریب زیر تعمیر ہیں جو دوہزار بیس اور دوہزار اکیس میں کام شروع کردیں گے۔ ان بجلی گھروں سے قومی گرڈ میں دوہزار دوسو میگاواٹ بجلی شامل کی جائے گی۔ وزیراعظم نے بجا فرمایا لیکن حکومت کوچاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کیلئے موثر اقدام کرے جو عوام کی فلاح و بہبود اور مسائل سے چھٹکارے کا باعث بنیں ، بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن ابھی تک یہ دعویٰ درست ثابت نہیں ہورہا اور دیہاتوں اورشہروں میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جو عوام کیلئے مشکلات کا باعث بنا ہواہے۔ ریاست کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے ان کا معیار زندگی بلند کرے اور ملک میں امن و امان قائم کرے، ملک سے بیروزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ بھی حکومت کا فرض قرار پاتا ہے ، ہمارے خیال میں ملک اس وقت ترقی کرسکتا ہے جب اس میں سیاسی استحکام ہو، ہمارے ہاں عدم سیاسی استحکام مسائل کے حل میں رکاوٹ بناہوا ہے، جمہوری حکومت عوام کے سامنے جوابدہ ہوا کرتی ہے لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ زمام اقتدار پر براجماں اشرافیہ کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا اور عوام ہی زیر عتاب رہتے ہیں۔ ملک میں فوری انصاف کی فراہمی حکومت کا اولین فرض ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت لوڈشیڈنگ ختم کرنے میں کہاں تک کامیاب قرار پاتی ہے۔ پانچویں ایٹمی بجلی گھر کے قیام سے مسائل میں کمی آئے گی اور انرجی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
دہشت گردوں کی سزائے موت میں توثیق
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت جی ایچ کیو میں204ویں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی، جس میں ملک کی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جبکہ آپریشن ردالفساد میں پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ آرمی چیف نے 4 خطرناک دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی۔ چاروں دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں سے موت کی سزا سنائی گئی تھی، دہشت گردوں میں ریاض احمد، حفیظ الرحمان، محمد سلیم اور کفایت اللہ شامل ہیں جو دہشت گردی کی کارروائیوں، معصوم شہریوں کے قتل، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے، دہشت گردوں نے 16افراد کو شہید اور 8 کو زخمی کیا، دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا تھا۔فوجی عدالتوں کی جانب سے 23، دہشت گردوں کو مختلف مدت کی قید کی سزا بھی دی گئی۔موت کی سزا پانے والے دہشت گردوں میں ریاض احمد جو کالعدم تنظیم کا رکن ہے اور وہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں ،سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھا اور اس نے 8 پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کو شہید اور 5 پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا تھا، اس کے علاوہ وہ گورنمنٹ مڈل سکول کو بھی تباہ کرنے میں ملوث تھا، اس سے آتشیں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا، دہشت گرد نے عدالت کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف بھی کیا جس پر اسے سزائے موت سنائی گئی۔ دہشت گرد حفیظ الرحمان بھی کالعدم تنظیم کا ایک رکن ہے جو 3 معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث تھا اور اس نے بھی عدالت کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا جس پر اسے سزائے موت سنائی گئی ۔ دہشت گرد محمد سلیم کا تعلق بھی ایک کالعدم تنظیم سے ہے، جو قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں ، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھا اور اس نے 4فوجیوں کو شہید جبکہ ایک کو زخمی کیا تھا، اس سے آتشیں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے اس نے بھی عدالت کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا جس پر اسے سزائے موت سنائی گئی ۔ چوتھا دہشت گرد کفایت اللہ کا تعلق بھی ایک کالعدم تنظیم سے ہے جو سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہے اور اس نے ایک فوجی کو شہید اور دو کو زخمی کیا تھا اور اس سے بھی آتشیں اسلحہ برآمد کیا گیا اس نے بھی عدالت کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا جس پر اسے سزائے موت سنائی گئی ۔ آرمی چیف نے بجا فرمایا کوئی اچھا یا برا دہشت گرد نہیں بلا امتیاز کارروائی جاری ہے ۔ افغانستان میں امن کیلئے پاکستان نے بنیادی کردارادا کیا، زمینی حقائق کو سمجھنے کی ضرورت ہے، پاک فوج دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن کردار ادا کررہی ہے جس کو عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے۔ دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچا کر ہی ملک میں امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت ملک کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں دہشت گردی سرفہرست ہے، دہشت گردی میں پڑوسی ملک بھارت کا بھی عمل دخل ہے جو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرکے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کرنا چاہتا ہے لیکن پاک فوج اس کے عزائم کو خاک میں ملانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دہشت گردوں کی سزائے موت میں توثیق وقت کی ضرورت ہے ان کو عبرت کا نشان بنا کر ہی انصاف کے تقاضے پورے کیے جاسکتے ہیں۔