- الإعلانات -

تاریخ کے دریچوں سے۔۔۔(1)

تاریخ کا سبق ہے کہ ظلم قائم لیکن ظالم کو فنا ہونا ہوتا ہے تاریخ شاہد ہے کہ جہاں قوموں پر مظالم ڈھائے گئے ملکوں کے جغرافیے بدل دیئے گئے اس قدر اکھاڑ پچھاڑ کی گئی کہ ریاستیں ختم کر کے نئی ریاستوں کی تشکیل کی گئی سلطنت عثمانیہ جیسی عظیم سلطنت کو توڑنے میں غیروں سے زیادہ اپنوں کا کردار تھا جس کے حصے بخرے کردیئے گئے نئے ملک بنائے گئے اور ان نئے ملکوں کی قیادت کیلئے اپنے مرغ ہائے دست آموز لائے گئے جن کے ریموٹ کہیں دور رکھ کر غیر مرئی انداز میں انہیں اس طرح چلایا گیا کہ دیکھنے والے آزاد اور خود مختیار سمجھتے رہے۔ میڈیا جس کا مکمل کنٹرول یہودیوں کے ہاتھ میں ہے جس کے ذریعے تیسری دنیا میں اپنے مہروں کی تعریف و توصیف اور ان کی کارکردگی کے بارے میں ایسے خود ساختہ سروے شائع کرائے جاتے ہیں کہ یہ حکمران قوم کے نجات دہندہ ہیں جو کچھ کر رہے ہیں اس سے یہ ملک ترقی کے اوج ثریا کی رفعتوں کو چھو لیں گے جنہیں مقامی میڈیا کے ذریعے تشہیر دی جاتی ہے کہ ملک راکٹ کی رفتار سے ترقی کے آسمانوں کو چھونے لگا ہے بس چند ہی سالوں میں جاپان اور جرمنی کے ہم پلہ ہوگا یہ لولی پاپ تمام نئے قائم ہونے والے ملکوں کے عوام کو دیاگیا آزادی کے بعد قائد ملت کی شہادت کے ساتھ ہی پاکستان میں بر سر اقتدار آنے والی تقریبا تمام ہی قیادتوں کے پورے عرصے قوم کو یہی لالی پوپ دیا جاتا رہا ہے اور مقامی میڈیا بھی انہیں شائع شدہ اعداد و شمار کو لے کر ترقی اور خوشحالی کے ڈھول پیٹتا رہا کسی ادارے کی جانب سے ان اعداد و شمار چیلنج نہیں کیا جاتا اس لئے کہ یہ نام نہاد بین الاقوامی آزاد اداروں کے شائع شدہ ہیں اور تقدیس کی روئی میں لپیٹے ہو ئے ہیں جن کی درستگی شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ 60 کی دہائی میں ایک فوجی آمر کے عرصہ اقتدار میں صنعتی ترقی ہوئی صنعتوں کی اساس بنی خاص طورپر کپڑے کے صنعت کی بنیاد پڑی۔ کراچی میں بے شمار فیکٹریاں لگیں اور پنجاب میں بھی صنعتوں میں اضافہ ہوا۔ زرعی اصلاحات کے ساتھ زرعی پیداوار پر کام ہوا میکسیکو سے گندم کے بیج اور فلپائن سے چاول کے بیچ لا کر ان پر تحقیق کی گئی اور پاکستان کے موسمی حالات کے مطابق ان میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں جس سے پیداوار میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ زرعی تحقیقاتی اداروں نے کئی نئی اور نایاب قسم کی اجناس پر کام کیا بنکنگ سیکٹر میں اصلاحات ہوئیں ۔تعلیمی شعبے میں بھی پیش رفت ہوئی اس کے بعد کے دور میں ان تمام امور پر خط تنسیخ پھیر کر بغیر کی متبادل پروگرام کے ہر چیز کو قومیا لیا گیا یوں ہر چیز تباہ ہو گئی صنعت ،تعلیم، زراعت کا بیڑہ غرق کردیا گیا۔عجیب افراتفری کا دور دورہ تھا اس دور میں عوام میں سیاسی ہلچل پیدا ہوئی سیاست عوامی موضوع بن گیا جو پہلے ڈرائنگ روموں تک محدود ہوا کرتی تھی اس کی بعد جبر کا دور شروع ہوا جس میں روس افغانستان میں گھس آیا لاکھوں افغان مہاجرین کا سیلاب پاکستان میں در آیا پاکستان نے اس دراندازی کی مزاحمت منظم کی بعد میں امریکہ بھی اس جنگ میں کود پڑا پاکستان کے ذریعے افغانوں کو ہتھیاروں کی فراہمی شروع ہوئی سوویت یونین ٹوٹی امریکہ کا مطلب پورا ہوا۔ امریکہ حسب فطرت پاکستان اور افغانوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ساتھ پاکستان کی فوجی اور مالی امداد بھی فوراً بند کردی اور ساتھ ہی پاکستان پر مختلف پابندیاں لگا دیں۔ یہ فوجی دور ایک ہوائی حادثے پر ختم ہوا اس کے بعد جمہوریت کا ڈول ڈالا گیا ۔محترمہ بے نظیر کی سوچ بائیں بازو کی ہونے وجہ سے دائیں بازو کی تمام قوتیں ایک مرکز یعنی مسلم لیگ میں جمع ہوگئیں بائیں بازو کی دیگر قوتیں بھی ماضی کے مسائل کی وجہ سے پیپلزپارٹی سے دور رہیں بلکہ درپردہ وہ بھی مسلم لیگ کی حامی رہیں محترمہ بے نظیر کی ناتجربہ کاری اور والد کی شہادت کے نفسیاتی اثر کے باعث وہ کماحقہ کامیابی حاصل نہیں کرسکیں ان کے قریب لوگوں کی کرپشن کے الزامات کے سبب حکومت جاتی رہی۔ انتخابات ہوئے پنجاب کے وزیراعلیٰ نواز شریف وزیراعظم بن گئے جو آگے چل کر آئین کی شق 58 ٹو بی کا شکار بنے اور برطرف کر دیے گئے ۔محترمہ بے نظیر ایک مرتبہ پھر وزیراعظم بن گئیں اور صدارت کا تاج فاروق لغاری کے سر کی زینت بنا اس دوران محترمہ نے پاکستان کی بہت خدمت کی جس کا ریکارڈ شاید کہیں دستیاب نہ ہو کچھ ایسی چیزیں ریاست پاکستان کو فراہم کرنے میں معاون بنیں جن کا محض تصور ہی کیا جا سکتا تھا۔ کئی اہم معلومات کا حصول بھی انہیں کا مرہون منت تھا جس کی کسی کو کانوں خبر نہ ہوئی ایسی ہی خدمات شہید ضیاء الحق بھی انجام دے چکے تھے یادش بخیر ایک سے زیادہ مرتبہ ہندوستان اور اسرائیل نے مل کر پاکستان کی حساس تنصیبات پر بمباری کا پروگرام بنایا اس بار جب اس کی اطلاعات محترمہ بے نظیر کو بطور وزیراعظم پہنچائی گئیں تو انہوں نے خاتون ہوتے ہوئے جس جرات کا مظاہرہ کیا وہ قابل رشک تھا انہوں نے فضائیہ کی سربراہ کو بلا کر حکم دیا کہ اگر کوئی اسٹرائیک ہو تو دہلی کلکتہ بمبئی سمیت تمام بڑے شہروں پراسٹرائیک کردو اگلے روز پھر کاؤنٹر اٹیک کرو چاہے ون وے مشن ہی کیوں نہ ہوں ساتھ ہی اپنے وزیرخارجہ کو یہ پیغام دے کر ہندوستانی قیادت کے پاس بھیجا کہ اگر ہندوستان کی جانب سے کوئی مہم جوئی کی گئی تو اسے مکمل جنگ سمجھا جائے گا اور اس کی نتیجے میں ہونے والے اقدامات کے لیے ہم آزاد ہوں گے اور یہ مکمل جنگ ہوگی اسرائیل کو بھی تیسرے فریق کے ذریعے پیغام پہنچادیا گیا کہ پاکستان ایسے جوابی اقدامات اٹھائے گا جس کا اسرائیل نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا امریکہ کو جب بے نظیر کے ارادوں کی اطلاع ہوئی تو امریکی وزیرخارجہ دوڑے دوڑے پاکستان آئے پاکستانی قیادت کو یقین دلایا گیا کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا اور باہمت وزیراعظم کے دلیرانہ اقدام کے سبب انڈیا کے ارادے دھرے کے دھرے رہ گئے اسرائیل بھی اپنے بل سے نہیں نکلا۔(۔۔۔جاری ہے)

نثارمیں تِری باتوں پہ۔۔۔ شوق موسوی
کسی جلوس نہ ریلی میں آپ شامل تھے
کوئی بھی موقع ہو نکلے کبھی نہ گھر سے ہیں
نہ عدلیہ نہ اداروں سے آپ کا جھگڑا
ہمیشہ اپنی جماعت پہ آپ برسے ہیں