- الإعلانات -

تاریخ کے دریچوں سے۔۔۔( آخری قسط)

گزشتہ سے پیوستہ
محترمہ بے نظیر بھٹو ایک وضعدار دوراندیش اور ذہین سیاستدان اور باہمت خاتون تھیں انہوں نے زندگی میں بہت سے ذاتی دکھ جھیلے لیکن حرف شکایت کبھی زبان پر نہیں لائیں وہ بہترین ماں بہن بیوی اور بیٹی تھیں اور رشتوں کی قدر و قیمت کو جانتی تھیں نہایت وفاشعار تھیں لیکن بہت کم لوگوں نے ان سے وفا کا رشتہ نبھایا صدر فاروق لغاری نے کرپشن کے الزامات پر ان کی حکومت ختم کردی محترمہ نے احتجاج کیا فاروق بھائی کو فاروق الحق قرار دے دیا لیکن حقائق سے بے خبر بھی نہیں رہیں انسان پر حالات کا جبر انسان کو کبھی ایسیموڑ پر لے آتا ہے جہاں راستے مشکل تر ہو جاتے ہیں جن کا بی بی کو بخوبی ادراک تھا انہوں نے کچھ فیصلے کئے جن پرخاموشی سے ہی باقی زندگی عمل پیرا رہیں انتخابات کا اعلان ہوا انتخابات ہوئے نون لیگ مقتدر ہوئی میاں صاحب کا المیہ رہا ہے کہ انہیں جب بھی بھاری اکثریت کی حکومت ملی ہے یہ اپنے ہی بوجھ سے گر جاتی رہی ہے میاں صاحب کا غلام اسحق خان مرحوم و مغفور سے الجھاؤ ہوا چیف جسٹس سجاد علی شاہ سے معاملات درست نہ رکھ سکے دانشور آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کے ایک بیان سے معاملہ بگڑا جنرل صاحب دانشمند آدمی تھے معاملات کا ادراک رکھتے تھے اور وہ مستعفی ہوگئے پھر جنرل پرویز مشرف کو جس انداز میں آرمی چیف بنایا گیا کہ وہ تابع مہمل رہیں گے انہیں آدھی رات کو منگلا سے بلاکر آرمی چیف بنا دیا گیا میاں صاحب کی ان سے بھی نہ بن سکی تو ان کو دوسرا عہدہ دینے کی کیا ضرورت تھی میاں صاحب نے جنرل پرویز مشرف کو جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے چیرمین کا عہدہ عطا کرکے بیک وقت دو ٹوپیاں فراہم کردیں ایک المیہ یہ ہے کہ میاں صاحب کے مصاحب نے کبھی ایسے مشورے نہیں دئے جس سے معاملات آگے بڑھتے رہتے میاں صاحب کو ہمیشہ ایسے مشورے ملے جن سے راحت کے بجائے مصائب ہی پیش آئے فوج کے مزاج کا اندازہ کئے بغیر اور ناقص منصوبہ بندی کے ساتھ جنرل مشرف کو معزول کیا نتیجہ قوم نے بھگتا بلکہ بھگت رہی ہے خود بھی 10 سالہ معاہدے کے بعد بمع خاندان اور مصاحب سعودی عرب تشریف لے گئے لیکن معاہدے کی مدت سے پہلے واپس آگئے جنرل پرویز مشرف نے ججز کو معزول کیا ججز کی بحالی کی تحریک چلی جس میں وکلا اور سیاسی کارکنان نے قربانیاں دیں محترمہ بے نظیر شہید اور میاں صاحبان بھی اس تحریک میں شامل ہوئے 2008 میں ہونے والے انتخابات کی مہم شروع ہو چکی تھی بے نظیر بھٹو شہید پر کراچی میں جلوس دوران خودکش دھماکے سے حملہ کیا گیا جس میں محترمہ محفوظ رہیں محترمہ نہایت متحرک تھیں اور اپنی سیکیوریٹی کے معاملے میں نہایت محتاط تھیں 27 دسمبر 2007 کو روالپنڈی کے لیاقت باغ میں بہت بڑا اور کامیاب سیاسی جلسہ کیا جلسہ گاہ سے باہر نکلتے ہوئے بیک وقت گولی چلی اور خودکش دھماکہ ہوا محترمہ شہید کردی گئیں یوں بدقسمتی سے ان کی آخری سیاسی مہم ثابت ہوئی نا معلوم وجوہات کی بنا پر جائے واردات سے ثبوت اور شہادتیں اکٹھی کرنے سے پہلے دھودیا گیا محترمہ کے ایمرجنسی بیک اپ اور سیکیوریٹی کے لئے موجود کار پہلے ہی نکل گئی تھی اور یہ عجیب بات تھی محترمہ کی گاڑی کے ٹائر تباہ ہوگئے اسٹیل رم پر گاڑی رینگتی رہی خاصی دیر بعد کوئی گاڑی آئی جس پر محترمہ اسپتال پہنچیں تو بہت دیر ہو چکی تھی یوں اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم داعی اجل کو لبیک کہ چکی تھیں سندھ میں ہنگامے پھوٹ پڑے جس میں غم کا عنصر کم اور تخریب کاری نمایاں تھی جہاں درست تحقیقات نہیں ہو سکیں وہیں پوسٹ مارٹم بھی نہیں کروایا گیا جو نہایت اہم قانونی ضرورت تھی اور نہایت عجلت میں جسد خاکی لاڑکانہ منتقل کردیا گیا اور فوری تدفین کردی گئی فورا ہی وصیت برآمد ہو گئی جس کے مطابق پارٹی چیئرمین اور شریک چیئرمین کا تقرر ہوگیا الیکشن ہوئے پیپلزپارٹی کو ہمدردی کا ووٹ ملا گیلانی وزیراعظم اور آصف زرداری صدر بن گئے خوب حکومتی قرضے لئے گئیجس کی اس سے پہلے مثال نہیں ملتی محترمہ بے نظیرکے قتل کے مقدمے پر توجہ نہیں دی گئی بی بی کی شہادت کے فورا بعد وزیرداخلہ کے گاڑی کے متعلق بیانات کو بھی ٹویوٹا کمپنی نے چیلنج کردیا جس پر حکومت پاکستان کی جانب سے خاموشی اختیار کرلی گئی پیپلز پارٹی کی تاریخی کارکردگی کے بعد حکومتی مدت پوری ہوئی نئے انتخابات ہوئے کہنے والے ان انتخابات کو رٹرننگ افیسرزکے انتخابات کہتے ہیں دھاندلی کی جگہ دھاندلے ہوئے میاں صاحب اور ان کے ہمنواؤں نے اقتدار کے خوب مزے لئے اچانک پانامہ ابھر آیا میاں صاحبان کی جائیدادیں ظاہرہو گئیں معاملہ عدالت میں گیا میاں صاحبان نے عدالت میں تسلیم کیا کہ یہ جائیدادیں انہیں کی ہیں لیکن خریداری کے پیسوں کے ذرائع ثابت نہ کر سکے اور دبئی میں ملازمت اقامہ اور اکاؤنٹ جس کے ذریعے بہت سارے فنڈز کی نقل و حرکت ہوئی جس کی بنا پر میاں صاحب نا اہل قرار پاکر اقتدار سے رخصت ہوئے آج کل ان کی خالی شدہ نشست پر انتخاب ہو رہا ہے جس میں محترمہ کلثوم نواز اور ڈاکٹر یاسمین راشد مد مقابل ہیں دیکھئے کیا ہو چند روز قبل محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کافیصلہ سامنے آیا جس میں تمام ملزم بری کردئے گئے اور عدالت میں موجود دو پولیس افسران جنہوں نے موقع واردات کو دھلوا یا تھا کو غفلت برتنے کے الزام میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی اور دونوں کو کمرہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا یہ نہایت بد قسمتی کی بات ہے پیپلز پارٹی پورے پانچ سال بر سر اقتدار رہی لیکن محترمہ بے نظیر کے قتل کیس میں دل چسپی نہیں لی گئی اور نہ کسی عدالتی کارروائی میں کوئی شریک ہوا جب فیصلہ آ چکا تو اب تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے تو اس وقت پولیس کی تفتیش اور عدالتی کارروائی میں معاونت کیوں نہیں کی لگتا ہے کہ انتظار کیاگیا کہ وقت کی دبیز چادر کے نیچے حقائق دب جائیں یوں ایک مظلوم اور واقعی یتیم خاتون نامعلوم ہاتھوں کے ذریعے دنیا سے رخصت ہو گئی جو صدمے کی بات ہے لیکن خون کی فطرت ہے کہ وہ بولتا ہے اور کبھی نہ کبھی ضرور بولے گا اللہ مرحومہ کی مغفرت اور درجات بلند فرمائے ۔آمین
*****