- الإعلانات -

محمد علی جناح مسلمانوں کے عظیم قائد۔۔۔(1)

تاریخ گواہ ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح ؒ ہندوستان میں مسلمانوں کے عظیم قائد تھے-تحریک پاکستان کو کسی بھی زاویے سے جانچا یا پرکھا جائے تو یہی حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے عظیم قائد، محمد علی جناح نظریاتی بنیادوں پر برصغیر جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی اسلامی مملکت کے قیام کے داعی تھے-بہرحال اِس تلخ حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے تحریکِ پاکستان کی جدوجہد کے عظیم مقاصد کو سبوتاژ کرنے اور اکھنڈ بھارت کے مخصوص مفادات کو آگے بڑھانے کے لئے اغیار کچھ عاقبت نا اندیش دانشوروں کی اختراع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قائد اعظم ؒ کی شخصیت کو من پسند معنی پہنا کر نئی نسل کو تحریک پاکستان کے مقاصد سے گمراہ کرنے کی منظم کوششوں میں مصروف ہیں-بھارتی سیاسی دانشوروں کی جانب سے پاکستان کی تاریخ مسخ کرنے کی کوششیں تو کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن صد افسوس کہ اِس منظم بھارتی پروپیگنڈا مہم کا منہ توڑ جواب دینے اور نئی نسل کو تحریک پاکستان کے حقائق سے آگاہ کرنے کے بجائے ریاستی سطح پر نہ تو مربوط کوششیں کی جا رہی ہیں نہ ہی پاکستان کے صوبوں، ضلعوں اور تعلقہ و تحصیلوں میں ریاستی سطح پر ایسے سرکاری یا نیم سرکاری فورم تشکیل دئیے گئے ہیں جو سول سوسائٹی میں مملکت پاکستان کی اساس کے بارے میں تیزی سے پھیلنے والے بیرونی پراپیگنڈے کا مناسب توڑ کر سکے-نظریہ پاکستان کے حوالے سے لاہور میں آبروئے صحافت رجلِ حریت جناب مجید نظامی مرحوم کی فکر سے وابستہ نظریہ پاکستان کی تنظیم تو آج بھی متحرک نظر آتی ہے لیکن سرکاری اداروں میں پاکستان کی اساس کے حوالے سے خاموشی طاری ہے جبکہ بھارتی سرکاری و غیر سرکاری دانشورانہ صرف نجی و سرکاری میڈیا میں منظم ڈِس انفارمیشن کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستانی نئی نسل کے ذہنوں کو مسخر کرنے کے لئے متحرک ہیں بلکہ ریاستی سرپرستی میں بھارتی سیاسی و سماجی دانشوروں کی جانب سے قائداعظم ؒ کو سیکولر قرار دینے اور برصغیر جنوبی ایشیا کو ایک سیاسی اکائی (اکھنڈ بھارت)قرار دیتے ہوئے پاکستانی نوجوان نسل کے ذہنوں کو پروپیگنڈہ کرنے میں بدستور مصروف ہے-لیکن ریاستی سطح پر بھارتی ڈِس انفارمیشن کے اِس تاثر کو زائل کرنے کی کوششیں کہیں نظر نہیں آتی ہیں- اِس حقیقت کو نہیں بھلانا چاہیے کہ بھارت نے آئینی طور پر تو سیکولر ریاست کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے لیکن بنیادی طور پر بھارت ایک متعصب ہندو ریاست ہے جہاں مودی حکومت کے انتہا پسند ہندوں نے اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کے بنیادی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کو روز مرہ کا معمول بنایاہے۔درج بالا تناظر میں قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی ذاتِ گرامی کو بھارتی لابی سے متاثر متعدد پاکستانی سیاسی و سماجی دانشور سیکولر ثابت کرنے کے گمراہ کن پروپیگنڈے میں پیش پیش نظر آتے ہیں-قائداعظم ؒ کی دستور ساز اسمبلی میں 11اگست 1947 کی تقریر کو سیکولرازم کے حوالے سے معنی پہنانے کی کوشش کی جاتی ہے،بالخصوص اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے قائداعظم ؒ کی ذات کو سیکولر بنیادوں پر اچھالنے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں-برصغیر میں مسلم تہذیب و تمدن سے نابلد یہ ثقافتی دوغلے جناح کی ذات پر کیچڑ اچھالتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ 11 اگست کی تقریر میں قائداعظم نے وہی باتیں دھرائی تھیں جن کا تذکرہ وہ 1937 سے شروع ہونے والی تحریک پاکستان کے دوران اقلیتوں کے حقوق کے لئے اسلامی فکر کے حوالے سے کرتے رہے تھے اور جنہیں اب غلط معنی پہنانے میں روشن خیالی کے نام پر بھارتی سیاسی و سماجی لابی سے متاثر یہ ثقافتی دوغلے آج بھی پیش پیش ہیں حتی کہ اِسی فکر کو آگے بڑھانے کے لئے سابق بھارتی وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے چند برس قبل لکھی گئی کتاب: جناح، بھارت،تقسیم اور آزادی میں بھی اِس پروپیگنڈے کو آگے بڑھانے میں خاص کردار ادا کیا ہے-اِس کتاب اور دیگر بھارتی سیاسی دانشوروں کے پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر کچھ پاکستانی طالب علم اور سیاسی دانشور قیام پاکستان کے حوالے سے غلط نتائج اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن کی تشفی کیلئے سیاق و سباق کے ساتھ جواب دیا جانا ضروری ہے-جسونت سنگھ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی اکھنڈ بھارت پالیسی کے پیش نظر کرپس تجاویز اور 1946کے کیبنٹ مشن پلان کے حوالے سے قائد اعظم ؒ کے تقسیم ہند کے اصولی موقف کو نئے معنی پہنانے کی کوشش کرتے ہوئے سیاسی طور پر قائد اعظم (رحم اللہ علیہ)کو متحدہ ہندوستان کا حامی قرار دینے اور تقسیم ہند کی ذمہ داری BJP کی مخالف سیاسی جماعت کانگریس کی لیڈرشپ یعنی نہرو، گاندہی اور سردار پٹیل پرڈالنے کی کوشش کی ہے- بلاشبہ جسونت سنگھ انتہا پسند ہندو دہشت گرد تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (RSS) کے سیاسی ونگ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن ہیں جس کی سربراہی اب انتہا پسند ہندو لیڈر نریندر مودی کر رہے ہیں-کرپس تجاویز اور کیبنٹ مشن پلان جس پر 1946 میں مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی تھی،ایک ایسا موضوع ہے جس پر جسونت سنگھ سے قبل دیگر بھارتی سیاسی دانشور بشمول مولانا ابولکلام آزاد،راج موہن گاندھی اور ایچ ایم سیروائی سیر حاصل گفتگو کر چکے ہیں چنانچہ پاکستانی مصنفہ عائشہ جلال نے بھی انڈیا آفس لائبریری کے متنازع ریکارڈ اور اِن مصنفوں کی کاوشوں سے متاثر ہوکر ایسے ہی متنازعہ آرا پر بھارتی فکر کو مہمیز دیتی رہی ہیں-حیرانی کی بات ہے کہ کرپس تجاویز اور کیبنٹ مشن پلان کے حوا لے سے قائد اعظم ؒ کے اصولی مقف کو سمجھنے کی کوشش کئے بغیر یہ تاثر دینے کی کوشش کرنا کہ قائد اعظم ؒ نے تقسیم ہند کے تصور کو قطعی طور پر پس پشت ڈال دیا تھا، انتہائی لغو خیال ہے-تقسیم ہند کے موقع پر موجود ہندوستانی کانگریسی لیڈرشپ بشمول گاندھی جی، جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل اپنے دور کے شاطر ترین سیاست دان تھے-انہوں نے کرپس تجاویز اور کیبنٹ مشن پلان کے حوالے سے قائداعظم (رحم اللہ علیہ)کی جانب سے پیش کی جانے والی شرائط کا نوٹس ضرور لیا تھا-گاندھی اور نہرو کو درج بالا برطانوی تجاویز پر جناح کی جانب سے پیش کی گئی شرائط کے پس پردہ دس سالہ طویل المیعاد منصوبے کے تحت ہندوستان میں چھ (6)مسلم اکثریتی صوبوں / علاقوں یعنی مکمل پنجاب، سرحد، سندھ، بلوچستان، مکمل بنگال اور مکمل آسام پر مشتمل ایک گریٹر پاکستان بنتا نظر آ رہا تھا، لہذا انہوں نے جنوبی ایشیا میں ایسی کسی بھی اسکیم کو ہندو مفادات کے منافی سمجھتے ہوئے بلا آخر اِسے مسترد کردیا تھا چنانچہ اِس برطانوی اسکیم سے راہ فرار اختیار کرنے کے باوجود کانگریسی لیڈر شپ ہر قیمت پر قائداعظم ؒ کو تقسیم ہند کے مطالبے سے ہٹانا چاہتی تھی لیکن وہ جناح کو مسلم قومی ریاست کے اصولی موقف سے ہٹانے اور قائد کی قیادت میں مسلمانوں کی یکجہتی ختم کرنے میں ناکام رہے- کانگریسی لیڈر راج گوپال اچاریہ نے تقسیم ہند کے مطالبے سے قائد اعظم ؒ کو ہٹانے کیلئے انہیں کانگریس کی جانب سے مکمل اتھارٹی کے ساتھ متحدہ ہندوستان میں وائسرائے کی کابینہ کے وزیراعظم کے طور پر قبول کرنے کا اعلان بھی کیا تھاجبکہ تحریک پاکستان کے آخری مرحلے پر اِسی حربے کو استعمال کرتے ہوئے مہاتما گاندھی نے متحدہ آزاد ہندوستان کے وزیراعظم کا عہدہ قائداعظم ؒ کو پیش کرنے کی کوشش کی لیکن قائد اعظمؒ نے مسلمانوں کی علیحدہ مملکت سے کم کسی تجویز سے اتفاق نہیں کیا-جسونت سنگھ اکھنڈ بھارت کے حامی ہیں اور انہوں نے قیام پاکستان کے ساٹھ (60)برس کے بعد قائد اعظم ؒ پر کتاب لکھی ہے-ان کا تعلق عمر کوٹ سے رہا ہے اور وہ سابق وفاقی وزیر رانا چندر سنگھ کے فسٹ کزن ہیں لیکن وہ اکھنڈ بھارت کے ایک اور داعی ایل کے ایڈوانی کے ہمراہ تقسیم ہند سے کچھ روز قبل ہی ہجرت کرکے بھارت چلے گئے تھے-ایل کے ایڈوانی بھارتی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کے فدائیوں میں شامل تھے، وہ بھارت میں فرقہ پرست ہندو جماعت جن سنگھ کے صدر رہے جسے بعد میں ہندو دہشت پرست تنظیم آر ایس ایس کی سیاسی ونگ بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل کر دیا گیا-
(۔۔۔جاری ہے)