- الإعلانات -

میانمارمیں بربریت کی انتہا

جون 1945 کوبرمامیں پیدا ہونے والی’آنگ سان سوچی’نیامن نوبل پیس پرائزتوحاصل کرلیا،دنیا کوشدید حیرت اور تعجب اِس بات پر ہے کہ وہ اپنے ہی ملک میانمارمیں ہونے والی تاریخ کی بدترین اورشرم ناک انسانی حقوق کی پائمالیوں سے پوری طرح سے آگاہ نہیں ہیں، میانمارمیں ریاستی سرپرستی میں بدترین تعصب’بدترین جہالت اوربدترین مذہبی وثقافتی تنگ نظری کے پے درپے رونما ہونے والے واقعات نے عالمی میڈیا کوتقریبا جھنجھوڑکررکھ دیا ہے، میانمارمیں روہنگیا نسل کے مسلمانوں پرگزشتہ چھ سات برسوں سے بدھسٹ جنونی انتہا پسندوں نے قیامت ڈھائی ہوئی ہے’عالمی میڈیا میں تواترکے ساتھ ایک کے بعد ایک نئی تشویش ناک اور سنگین خبر یں رپورٹ ہورہی ہے کیا ‘مس آنگ سان سوچی’میانمارمیں نہیں رہ رہی ہیں ؟اْنہیں اصل حقائق کا اگر پتہ نہیں چل رہاتو اْنہیں بحیثت ‘نوبل پیس پرائزشخصیت’کے اپنے ملک میں رونما ہونے والے المناک واقعات پرگہری تشویش توہونی ہی چاہیئے تھی یا نہیں؟ اوراصل حقائق تک پہنچنے کیلئے مس سوچی کو اپنے تمام ممکنہ سرکاری وسائل بروئےِ کارلانے ہر صورت لانے چا ہیئے تھے’میانمارکے حالیہ سفاک اور شرمناک واقعاتی معلومات پر صرفِ نظر کرکے کہیں ‘مس آنگ سان سوچی’کسی قسم کی مجرمانہ غفلت کی مرتکب تونہیں ہوئیں ؟یہ سوچنااْن کا پہلا فرض ہے’چونکہ وہ’نوبل انعامِ یافتہ شخصیت’ہیں اُن پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے میانمارکی تاریخِ آزادی کے لئے جہاں ‘مس سوچی’ کے بزرگوں نے برطانوی سامراج کامقابلہ کیا وہیں اْنہیں یہ بھی اپنے ذہن نشین رکھنا ہوگا کہ میانمارمیں رو ہنگیانسل کے مسلمانوں کاجس بیدردی کے ساتھ ناقابلِ تلافی قتل عام کیاجارہا ہے، ذرا وہ اپنے دلوں پہ ہاتھ رکھ لیں اور بھی سنیں کہ میانمار میں صدیوں سے آباد مسلمانوں کے بزرگوں نے بھی میانمارجب برطانوی نوآبادیات میں شامل تھا، برطانوی سامراج کی ‘نوآبادی سسٹم’ کوڈنکے کی چوٹ پرللکارا تھا،جن میں’برمامسلم کانگریس’کے چیئرمین عبدالرزاق بوکی قیادت میں میانمار کی آزادی کے لئے کیئے جانے والی مردانہ وارمزاحمتی کردارکی تاریخ ساز سرگرمیوں کو’آزاد سرزمینِ میانمار’ کی تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ،کیا ‘مس آنگ سان سوچی’جوآج میانمارحکومت میں اعلیٰ عہدہ پر فائز ہیں،وہ میانمارکی آزادی کیلئے برمی مسلمانوں کے قائدین کی اِن خدمات کو تسلیم کرنے سے انکارکرسکتی ہیں؟انکار کرنا چاہئیں بھی تو وہ انکار نہیں کرسکتیں، چونکہ کل خود وہ بھی ایک طویل عرصہ تک میانمار پرغیر آئینی طور پر قابض ایک ڈکٹیٹرکے ظلم وستم کا شکاررہیں۔ کل جب اْن پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھائے جارہے تھ اُس وقت بھی پْرامن پاکستانیوں کے دل اْن کے ساتھ تھے’ انسانی حقوق کیلئے کی اُن کی جائزجدوجہد کو ہم پاکستانی کل بھی خراجِ تحسین پیش کرتے رہے ،جو تاریخ کا حصہ ہے’مگر’آج جب روہنگیا نسل کے برمی مسلمانوں کوسرعام قتل کیاجارہا ہے’اْن کی باعصمت خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی جارہی ہے ‘میانمارکی فوج کی موجودگی میں روہنگیامسلمانوں بچوں اورعورتوں کوزندہ نذرِ آتش کیا جارہا ہے’جبکہ میانمار کے قریب کے مسلم ملک بنگلہ دیش نے بھی اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹرزکی خلاف ورزی کرتے ہوئے میانمار کی فوج کے ظلم وستم سے پناہ لینے کی خاطراپنی جانوں کو مشکلات اورجوکھوں میں ڈال کرآنے والے روہنگیا مسلمانوں پراپنی سرحدیں بند کردیں یہ بہت بڑا انسانی المیہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے’مس آنگ سان سوچی’ کوایسے نازک اورحساس موقعوں پر ‘موقع پرستی’ کی بجائے کھل کرحق اورسچائی کا ساتھ دینے کی اشد ضرورت تھی جواب تک وہ خوش اسلوبی سے نبھاتی ہوئی نظرنہیں آرہیں؟ایسا کیوں ہے ؟ مس آنگ سان سوچی ہی وہ واحد شخصیت تھیں جو مذہبی تنگ نظری سے بالا تصور کی جاتی ہیں، جنہوں نے میانمار میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے لئے طویل عرصہ تک میانمار کے اقتدار پر قابض ایک نہایت ہی سفاک صفت ڈکٹیٹر کا بڑی بے جگری سے مقابلہ کیا جسے پْرامن دنیا نے تسلیم کیا میانمار میں جاری انسانی نسل کشی کو روکنے کیلئے اُنہیں بلا تاخیر اپنا کردار ادا کرنا تھا یہ اہم سوال دنیا کیلئے آج بڑی اہمیت رکھتا ہے‘میانمار ہ میں گزشتہ 7۔6 برسوں سے کبھی وقفوں سے اور آجکل بڑے تواتر کے ساتھ چند جنونی بدھسٹ رہنماؤں نے میانمارمیں جنگل کا قانون نافذ کرکے اب تک کی معلوم اطلاعات کے مطابق حالیہ خونریز فسادات میں3ہزار کے قریب روہنگیا مسلمانوں کوموت کے گھاٹ اتاردیاہے ایسے نازک اورحساس موقع پربھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کا فوری میانمارجاکر’مس آنگ سان سوچی’ سے خصوصی ملاقات کودنیا بھر کے ا من پسند معتبر حلقوں نے یقیناًتشویش کی نگاہ سے دیکھا ہوگاکیونکہ بھارتی وزیراعظم مودی کی ذاتی شہرت انسانی حقوق کی پائمالیوں کے سلسلے میں خاصی شرمناک بدنامی کا ‘ بڑابھاری ٹریک ریکارڈ’رکھتی ہے، گجرات سے مقبوضہ کشمیرتک کہاں کہاں نہیں مودی نے انسانی لہوکی ہولی نہیں کھیلی؟ لہذاء جنوبی ایشیا کا ایک اہم مسلمان ملک ہونے کے ناطے اہلِ پاکستان نے اپنے دینی مسلم روہنگیا بھائیوں کے درد کوحدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی رْو سے اپنا ہی درد سمجھا ہے’پوری امتِ مسلمہ ایک جسم کی مانند ہیں جسم کے کسی حصہ میں اگر تکلیف محسوس ہوتو وہ دردپورا جسم محسوس کرتا ہے’ذرا ٹھنڈے غوروفکراور اورعقلی تدبرکو استعمال کرکے دردمندی سے سوچا جائے تو’عظیم بدھا’ کی بھی تعلیمات ایسی تونہ تھیں جیسا کچھ ہم اورپوری دنیامیانمارمیں بہتے ہوئے انسانی لہوکی صورت میں آج ملاحظہ کررہی ہے ا ورکفِ افسوس مل رہی ہے’ ‘مس آنگ سان سوچی’ کے لئے آخرمیں ایک فوری مشورہ ہمارا یہ ہے کہ وہ نریندرامودی جیسے قصاب نما گمراہ بھارتی لیڈر سے بہت بڑی اورقدآورلیڈر ہیں ‘نوبل انعامِ یافتہ’ ہیں، مودی کے انسانیت کش بالخصوص مسلم کش مشوروں کو وہ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں خود حالات کا موقع پرجاکرجائزہ لیں اورانسانیت کے اِس قتلِ عام کو جتنی جلد ہوسکے رکوائیں’ اُن کا یہی امر انسانیت کیلئے اْن کی ایک بہت بڑی خدمت متصور ہوگی اور آخر میں اقوامِ متحدہ سمیت عالمی منصفوں سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ ’کوسوو‘دار فراور مشرقی تیمور پالیسیوں کو سامنے رکھتے ہوئے بلا تاخیر میانمار میں انسانیت کے بہیمانہ قتلِ عام کو روکوانے کیلئے وہ تمام عالمی قوانین بروئےِ کار لائیں جو آج میانمار میں جاری خونریزی کو روکنے میں ممدومعاون ثابت ہوسکیں۔
****