- الإعلانات -

پانامہ نظرثانی کیس میں عدالت عظمیٰ کے ریمارکس

عدالت عظمیٰ نے پانامہ کیس کے فیصلے پر نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران آبزرویشن دی ہے کہ سابق وزیراعظم کی نا اہلی پانچ ججوں کا متفقہ فیصلہ ہے، اقلیتی اور اکثریتی فیصلے کی وجوہات الگ الگ ہیں لیکن حتمی نتیجہ ایک ہی ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کی ۔سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ان کے وکیل خواجہ حارث اور حسن، حسین اور مریم نواز کی جانب سے سلمان اکرم راجا ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت شروع ہوئی تو سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے 28 جولائی کے فیصلے میں 5 رکنی بینچ پر اعتراضات اٹھائے۔وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پانچ رکنی بینچ میں سے 2 ججز نے 20 اپریل کو نواز شریف کے خلاف درخواستیں منظور کرتے ہوئے نااہل قرار دیا اور ان ہی دو ججز نے 28 جولائی کو بھی مختلف فیصلے پر دستخط کئے۔خواجہ حارث نے کہا کہ اگر 2 ججز کو 3 ججز کے فیصلے سے اختلاف ہے تو نظر ثانی تین ججز کو سننی چاہیے جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ یہی بات تو کل بھی آپ کو سمجھا رہے تھے ٗ آپ کے اصرار پر پانچ رکنی بینچ نظرثانی سن رہا ہے ورنہ نظرثانی کی اپیلیں تین ججز بھی سن سکتے تھے۔اس موقع پر خواجہ حارث نے کہا کہ جنہوں نے کیس نہیں سنا تھا ان کے سامنے نظرثانی پر کیا دلائل دوں جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ ہمیں چھوڑیں اور صرف تین ججز کو اپنے دلائل سے قائل کرلیں، ہم دو جج تین ججز کے فیصلے سے اختلاف کریں یا نہ کریں اس سے فرق نہیں پڑتا۔اس موقع پر جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ ہم نے کل کہا تھا کہ دو ججز صرف بیٹھے رہیں گے جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا عدالت میں خاموش ہو کر نہیں بیٹھ سکتے۔ خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ ڈکشنری میں تنخواہ سے متعلق تعریفیں موجود ہیں کہ اثاثہ وہ ہوتا ہے جو مالک کے قبضے میں ہو تو عدالت نے وہی تعریف کیوں چنی جو نواز شریف کیخلاف جاتی تھی اور نااہلی کیلئے موجود طریقہ کار سے ہٹ کر فیصلہ کیسے ہو سکتا ہے۔؟اس موقع پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ اگر کسی کا بینک میں پیسا ہے تو وہ کیا بینک کا ہے ٗ آپ کی یہ دلیل درست نہیں جبکہ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دئیے کہ افتخار چیمہ کو زیر کفالت افراد کے اثاثے ظاہر نہ کرنے پر نااہل کیا گیا۔خواجہ حارث نے کہا کہ اثاثے ظاہر نہ کرنے کے حوالے سے پورا میکنزم موجود ہے ٗ اس میکنزم کے مطابق ملزم کو وضاحت کا موقع دیا جاتا ہے تاہم کیپٹل ایف زیڈ ای کا معاملہ عدالت کے سامنے نہیں اٹھایا گیا تو تنخواہ نہ وصول کرنے یا ظاہر نہ کرنے پر 62 ون ایف کیسے لگتا ہے۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ نواز شریف کیپٹل ایف زیڈ ای کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین تھے جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ اثاثے چھپانے پر الیکشن کالعدم قرار دیا جاتا ہے تاہم آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔جسٹس اعجاز افضل نے خواجہ حارث سے سوال کیا کہ مینارٹی یا اکثریتی فیصلوں میں کہیں لکھا ہے کہ نااہلی زندگی بھر کیلئے ہے، جسٹس عظمت نے کہا ‘اقلیتی فیصلہ تقاریر میں تضاد اور آمدن کے ذرائع نہ بتانے سے متعلق تھا۔جسٹس آصف کھوسہ نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ براہ راست نااہل نہیں کرنا چاہیے تھا ٗاگر دیگر فورم نااہل نہ کریں اور اپیل میں سپریم کورٹ نااہل کردے تو کیا ہوگا؟اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نااہلی کیلئے صفائی کا موقع اور اپیل کا حق دیا جاتا ہے اور میرا کہنے کا مقصد ہے کیا ان ساری باتوں پر 62 ون ایف لگنا چاہیے تھا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم نے بہت محتاط رہ کر ججمنٹ لکھی ٗاگر آپ چاہتے ہیں کہ باقی بھی لکھیں تو پھر شکایت نہ کیجئے گا۔خواجہ حارث نے کہا کہ ہمیں 20 اپریل 2017 کا فیصلہ منظور ہے جو اکثریتی تھا تاہم 28 اپریل کو حتمی حکم جاری کرنے والا بینچ صحیح نہیں بنایا گیا کیوں کہ دو معزز ممبران پہلے ہی فیصلہ دے چکے تھے اس لئے وہ حتمی فیصلے میں نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ 2 ممبران کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا گیا اس کا مطلب ہے آپ نے فیصلہ قبول کیا جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ اقلیتی فیصلے کی قانونی اہمیت نہیں ہوتی اس لئے اسے چیلنج نہیں کیا گیا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ نے 2 ججز کے فیصلے کو اقلیتی قرار دیا لیکن تین ججز نے کہاں لکھا ہے کہ 2 ججز کا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں چلا گیا ٗ دونوں فیصلوں میں نواز شریف کو نااہل کیا گیا جبکہ 28 جولائی سے قبل یہ بتا دیا تھا کہ تمام ججز حتمی فیصلے پر پہنچ چکے ہیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ تینوں میں سے کسی جج نے نہیں کہا وہ اقلیتی فیصلے سے اختلاف کر رہے ہیں، نااہلی اور ریفرنس نیب کو بھیجنے کے معاملے پر ہمارا نتیجہ ایک ہی تھا۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس میں کہاکہ 20 اپریل کو دو ججز نے فیصلہ دیا تھا مگر کیس ختم نہیں ہوا ٗپہلے فیصلہ دینے والے ججز نے اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کیا اور ایک آرڈر سے کیس کا حتمی نتیجہ آنا تھا۔ کیس عدالت میں زیر سماعت ہے اس پر کوئی رائے زنی نہیں کی جاسکتی۔ عدالت جو بھی فیصلہ دے گی وہ قانون و آئین کے تناظر میں دیگی۔
میانمار حکومت روہنگیا مسلمانوں پر مظالم بند کرے
آنگ سان سوچی کااقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت نہ کرنا اس امر کا آئینہ دار ہے کہ وہ حقائق کا سامنا کرنے سے کنی کترا رہی ہیں ۔آنگ سان سوچی کو مغرب کی جانب سے میانمار میں جاری تشدد کے خلاف آواز نہ اٹھانے پر تنقید کا سامنا ہے۔ میانمار کی ریاست رخائن میں جاری تشدد کے بعدکم وبیش 3,70,000 روہنگیا مسلمانوں نے بنگلہ دیش میں پناہ لی ہے۔میانمار کی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ریاست رخائن کے شدت پسندوں کے خلاف لڑ رہی ہے اور فوج نے عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ میانمار کی رہنما نے اگلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کیلئے نیویارک جانا تھا۔گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں سوچی نے روہنگیا کے ساتھ ناروا سلوک اور اس مسئلے کے حل کے لیے اپنی حکومت کے اقدامات کی حمایت کی تھی۔اقوام متحدہ میں میانمار کے سفیر نے ریاست رخائن میں ہونے والے تشدد کا الزام روہنگیا شدت پسندوں پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک ایسی سفاکیوں کو کبھی برداشت نہیں کرے گا۔تاہم میانمار سے فرار ہونے والے متعدد افراد کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے 25 اگست کو روہنگیا عسکریت پسندوں کے حملوں کا جواب دیتے ہوئے ظالمانہ مہم کا آغاز کیا جس میں ان کے گاں کو جلا دیا گیا۔نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کو روہنگیا مسلمانوں کے حالیہ بحران کے بارے میں خاموشی اختیار کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔میانمار کی حکومت کے مطابق ملک کی فوج روہنگیا شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کر رہی ہے جو شہریوں پر حملے کرنے میں ملوث ہیں۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی نمائندہ خصوصی برائے میانمار یانگ ہی لی نے حال ہی میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے ملک کی رہنما آنگ سان سوچی کو روہنگیا مسلمانوں کی مدد نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔رخائن میں ‘حالات نہایت خراب’ ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ آنگ سان سوچی اس معاملے کے حل کیلئے ‘قدم اٹھائیں۔ آنگ سان سوچی ملک کی سرکاری طور پر صدر نہیں ہیں لیکن انھیں ہی ملک کا حقیقی سربراہ تصور کیا جاتا ہے۔میانمار میں روہنگیا مسلمان ملک کی وہ اقلیت ہیں جن کو میانمار کا شہری تصور نہیں کیا جاتا ہے۔ میانمار حکومت روہنگیا مسلمانوں پر مظالم بند کرے، اقوام متحدہ کومیانمار حکومت کی سفاکی اور بربریت کو رکوانے کیلئے موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔