- الإعلانات -

حکمران68سالہ بنیادی مسائل ہی حل نہ کرسکے

azam-azim-azam

اِن دِنوں وطن عزیز پاکستان میں کافی عرصے بعد بلدیاتی انتخابات کی گہما گہمی نظر آرہی ہے کہیںبلدیاتی انتخابات کا عمل مرحلہ وار مکمل ہوچکاہے اور کہیں اِس کا عمل تکمیل کے مراحل سے گزرنے کو ہے تو وہیں کراچی جیسے دنیا کے بارہویں انٹرنیشنل شہر میں بلدیاتی انتخابات ہفتہ 5دستمبر 2015ءکو ہونے والے ہیں مُلک کے جن صوبوںاور اضلاع اور شہرو ں میں بلدیاتی انتخابات مکمل ہوچکے ہیںوہاں کامیاب اُمیدواروں نے اپنی ذمہ داریاں اور فرائض انجام دینے شروع کردیئے ہیں اور عوامی خدمات کو اپنا نصب العین اور قومی فریضہ سمجھ کر ادا کررہے ہیں اورابھی جن اضلاع میں بلدیاتی انتخابات ہونے باقی ہیں وہاں اِن کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کی ذمہ دار انتظامیہ ہے تاکہ انتخابی مہم کے دوران کوئی ایسا واقعہ رونما نہ ہونے پائے کہ انتخابات کا پُرامن انعقاد ہی خطرے میںپڑجائے اور ماراماری اور ڈنگے فساد کی وجہ سے انتخابات موخرکرنے پڑئیں اِن خدشات اور مخمصوں کا تدارک اِسی صور ت میں انتظامیہ ممکن کر سکتی ہے کہ انتظامیہ خود پر یہ لازم لے کہ ایسی صورتحال پیداہونے سے بیشتر ہی ایسی حکمتِ عملی اختیار کی جائے کہ انتخابات کا عمل امن و سکون سے گزرے اور اِن کا انعقاد نہ صرف امن وسکون سے ممکن بنایاجائے بلکہ ایسے انتظامات اور اقدامات بھی یقینی بنائے جائیں کہ انتخابات ہارنے والے کی دھاندلی کے لگائے جانے والے بیدریغ الزامات سے بھی پاک ہو ں جب ایسا ممکن ہوگا توپھر خود بخود کامیاب اُمیدوار اپنی خدمات بھی عوامی سطح تک ٹھیک طرح سے پہنچاپائے گا اور حقیقی طور پر عوامی مسائل کے دیر پا حل کی راہیںبھی نکل سکیںگیں یوں کم ہی عرصے میں جب پاکستانی قوم گٹر اور نالی کے مسائل سے نکل جائے گی توپھر صوبے ، وفاق ، حکمران ، سیاستدان ، ادارے اوربیوروکریٹس آپس میں لڑنے جھگڑنے اور ایوانوں میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے بجائے محب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے مُلک میں کالا باغ جیسے ڈیم اور مُلک کے طول ُ ارض میں دوسرے بڑے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کی جانب بھی خصوصی توجہ دیں گے تو مُلک میں کئی دہائیوںسے سراُٹھاتے اور پھنکارتے بجلی کے بحران کا دیرپا اور دائمی حل بھی نکل جائے گا۔
جبکہ یہاں ایک قابل توجہ امریہ بھی ہے کہ موجودہ جاری بلدیاتی انتخابات میں قومی خزانے سے اتنا کچھ خرچ کرکے بھی حکمرانوں ، سیاستدانوں ، اداروں اور بیوروکریٹس نے اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے کامیاب اُمیدواروں کو بے اختیار رکھا اور اِنہیں اِن کے علاقوں میںعوامی مسائل حل کرنے کے لئے بھی بجٹ نہ دیاتو پھر اپنے بنیادی حقوق سے محروم عوام کی جھولی میں 68سالوں سے پڑے پینے کے صاف پانی کے حصول ونکاسی آب ،اچھی خوراک ، بہترین علاج و معالجہ ،کشادہ سڑکیںو جدید سفری سہولیات زندگی کی دیگر آشائش کے حصول سے محروم اور پچھلی کئی دہائیوں سے نئے مسائل بجلی اور گیس کے بحران سے دوچار عوام کے حصے میں پھر سوائے مسائل درمسائل کے کچھ بھی نہیں آئے گا اور بلدیاتی انتخابات محض حکمرانوںکا ایک ڈھونگ بن کررہ جائیں گے جنہیںاِنہوںنے سوائے عوام کو بے وقوف بنانے اور عوام کو ©” چ “ بنانے کے اور کچھ نہیںکیا ۔
آج اِس سے انکار نہیں کہ قوم نے مُلک کی بقا و سا لمیت کے خاطر ہراچھے بُرے اور نازک ترین موڑ پر قربانیاں دی ہیں اورجب بھی میرے مُلک کے (سِول اور آمر حکمرانوں نے)اپنی قوم سے کڑوی گولیاں نگلنے کو کہا میری پاکستانی قوم ایسا کرنے سے بھی کبھی پیچھے نہیں ہٹی ہے یہی تو میری اِس نہتی اور خالی دامن قوم کا ہمیشہ سے وتیرہ رہا ہے کہ اِس نے خالی دامن رہ کر بھی ہمیشہ جذبہ حب الوطنی کا ایساعظیم مظاہرہ کیا ہے کہ یہ خود تو خالی دامن ہی رہی مگر مُلک اور قوم کے خاطر اپنا سب کچھ قربان کرتی رہی ہے جس کی اِن ہی قربانیوں سے حکمران اپنے منصوبوں میں ہمیشہ کامیاب ہوئے اِس لئے توہمیشہ دنیا بھر پاکستانی قوم عظیم قوم کہلاتی ہے اور اِسے دنیا سلام بھی پیش کرتی ہے کہ جس نے ہمیشہ اپنے مُلک اور قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لئے وہ سب کچھ قربان کردیا جو اِس کے دامن میں رہااور اِس قوم کا اَب بھی یہ عزمِ مصمم ہے کہ جب کبھی آئندہ بھی اِ س سے حکمرانوں نے کسی قربانی کی فرمائش کی تو یہ اپنے مُلک اور قوم کی ترقی اور سربلندی کے خاطر کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرے گی۔ گوکہ آج خطے میں پاکستان اور پاکستانی قوم کو اپنی بقا اور سا لمیت کے لحاظ سے جس مُلک سے سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں وہ جنگی جنون میں مبتلامُلک بھارت ہے جس نے ہمیشہ ہمارے وطن پاکستان اور ہماری قوم سے متعلق جارحانہ انداز اپنائے رکھا اور اِس کی اِس جارحیت پسندی نے ہی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایااور اِس کی ابھی تک جاری جارحیت پسندی اور بڑھتے ہوئے جنگی جنون نے پاکستان کو اپنی خود مختاری اور بقا ءسا لمیت کو برقراررکھنے کے لئے بہت کچھ کرنے پر مجبور کردیاہے اور ایسے میں جب کہ بھارت اپنی کسی سُبکی کو ختم کرنے اور اِس پر پردہ ڈالنے کے لئے پاکستانی قوم سے انتقام کی آگ میں طرح طرح کی سازشیں تیار کررہاہے خطے کی بھارت کی وجہ سے خراب ہوتی صورتِ حال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پاکستانی قوم کا یہ عزم ہے کہ اپنے پڑوسی ملک بھارت کے جنگی جنون اور خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے ہر نازک گھڑی میں حکمرانوں اور پاک فوج کی ایک کال پر لبیک کہے گی اورہر محاذ پر پاک فوج کے شابہ بشانہ کھڑی ہوگی ۔
آج نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا کی یہی وہ پاکستانی عظیم قوم ہے جس نے مُلک اور قوم کی سربلندی اور خطے میں بھارت کا سر نیچادکھانے اور اِس کی طاقت کو خاک میں ملانے کے لئے اپنے پیٹ پر پتھر باند ھ کر اور گھاس کھا کر اپنے پاک سرزمین پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں حکمرانوں اور قومی اداروں کا ساتھ دیا اور دنیا کی عظیم قوم کہلائی جس نے مُلک کو ایٹمی طاقت بنانے کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے کبھی بھی دریغ سے کام نہیں لیا اِس قوم نے اپنے مُلک کے استحکام کے لئے ہمیشہ اپنی خواہشات کا گلا گھونٹا اور اپنی ضرورتوں اور خواہشات کو ایک طرف رکھ کر مُلک کی بقا ءاور سا لمیت کے لئے کڑوی گولیاں نگلیں ہیںآج شائد یہی وجہ ہے کہ میری یہ قوم قربانیاںدینے اور کڑوی گولیاں نگلنے کی ایسی عادی ہوگئی ہے کہ آج بھی پاکستانی قوم کا ہر فرد (سوائے اُن امراءکے جو پیدائشی منہ میں سونے کا چمچہ لے کر دنیا میں آئے ہیں اور اُن لوگوں اور طبقے کے جو 68سالوں سے چہرے بدل بدل کر اقتدار میں آتے رہے ہیں یا اُن لوگوں اور ٹولے کے جو شارٹ کٹ طریقوں سے دولت مند ہوگئے ہیں) مجموعی طور پراپنے قیام سے ابتک پینے کے صاف پانی کے حصول اور نکاسی آب جیسے مسائل سے تو دوچارہی ہے تو وہیں۔ میری پاکستانی قوم ابھی تک بہترین اور سستے نظامِ تعلیم ، اچھے و سستے اورجدید علاج و معالجہ کی سہولیات زندگی اور کشادہ سڑکوں اورجدید سفری سُہولیات سے بھی تو پہلے ہی محرو م تھی کہ آ ج 68سالوں بعد بھی حکمران ، سیاستدان اور اداروں نے مندرجہ بالا قوم کے بنیادی مسائل کا تو کوئی دیرپا حل نہ نکالا بلکہ آج اُنہوں نے کئی دہائیوں سے پہلے ہی سے مسائل کی دلدل میں دھنسی اپنی قوم کو توانائی( بجلی و گیس اور پیٹرولیم) کے بحرانوں میں بھی جکڑ کررکھ دیاہے جس سے قوم کی پریشانیوں اور الجھنوں میں ایسا اضافہ ہوگیاہے کہ اِن دِنوں ساری پاکستانی ہی قوم توانائی کے بحرانوں میں خا ص کر مُلک کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی کے باعث مُلک میں پیدا ہونے والے بجلی بحران نے قوم کی زندگیاں اجیرن کرکے رکھ دی ہیں۔
یہاںافسوس کامقا م یہ ہے کہ آج ایک طرف ساراسارادن اور رات بجلی دستیاب نہیںہوتی اور اُوپر سے ستم در ستم یہ کہ تقسیم کارکمپنیوں کی ہٹ د ھرمی سے بجلی کی عدم دستیابی اور گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کے باوجود بھی چند یونٹوں بجلی کے استعمال کے عوض صارف کو کئی کئی ہزاروں روپے کے آنے والے بجلی کے بل( خاص طور پرکراچی میں بجلی سپلائی کرنے والے نجی ادارے کے الیکٹرک کے بجلی بل کے بارے میں اہلیانِ کراچی کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں ِ کے الیکٹرک کا ہر ماہ ملنے والا بجلی کا بل کے الیکٹرک کا بل کم مگر بجلی کے بل کی مد میں یہ کے الیکٹرک کی بھتے کی پرچی زیادہ لگتاہے) سے بھی مُلک کے غریب عوام سب سے زیادہ متاثر اور گھائل نظر آرہے جن سے قوم میں سخت مایوسی پھیل رہی ہے اور قوم اپنے لیڈروں سے سوال کرتی ہے کہ وہ آخر کب تک عوام کو گٹر اور نالی کے بعد اَب بجلی کے خودساختہ مسئلے میں رگڑ رگڑ کا اپنی سیاست چمکاتے رہیںگے اور عوامی مسائل کو حل کرنے کا نام لے لے کر قوم کو بے وقوف بنا کر اقتدار پر قابض ہوکر قومی خزانے سے قومی کی ترقی اور خوشحالی بہانے بنا بناکر اپنے اللے تللے کرتے رہیں گے…؟؟
اَب ایسے میں عوام یہ کہنے اور سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیںکہ ہمیشہ عوام کو سول اور آمر حکمرانوں نے مُلک اور قوم کی ترقی اور خوشحالی کے نام پر عوام کو توسخت امتحانات سے گزرنے اور کڑوی گولیاں نگلنے کوکہاجس میں قوم توہمیشہ پوری اُتر کر سُرخرو ہوئی مگر افسوس ہے کہ ہر دور کے ہر اقسام کے حکمرانوں نے قوم کے بنیادی مسائل حل نہ کئے اور یہ ہمیشہ اپنے الوہی سیدھا کرکے چلتے بنے مگر اِس مرتبہ جب مُلک میںعوام کی نچلی سطح تک خدمات کرنے کے جذبات سے سرشار بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ وار عمل تکمیل ہونے کو ہے تو عوام اپنے ضرورت سے زیادہ چالاک اور شاطراور ہمیشہ اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کا سوچنے والے حکمرانوں ،سیاستدانوں اور قومی اداروں کے سربراہان اور بیوروکریٹس سے اپنا یہ آخری بار مطالبہ ضرور کیا ہے کہ اَب سب اپنی اپنی ہیرا پھیری اور عوام کو بے وقوف بنا کر اِس کی آنکھوں میں دھول جھونکنے سے باز آئیںاوراَب بلدیاتی انتخابات میںکامیاب ہونے والے اُمیدواروں کو آزادی سے عوام کی خدمات کرنے دیں اور قوم کو گٹراور نالی اور بجلی جیسے خودساختہ پیداکردہ مسائل سے نکالیں تاکہ قومی ادارے ٹھیک طرح عوامی خدمات کرسکیں اور قومی ادارے مُلک میں کالاباغ جیسے ڈیم سمیت دیگر بڑے چھوٹے ڈیموں اور دوسرے خوشحال پاکستان ترقیاتی منصوبوں اور میگاپروجیکٹس کو شروع کرکے پایہ ¾ تکمیل تک پہنچایا جاسکیں جس سے مُلکی معیشت میں بہتری آئے اور مُلک اور عوام ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامژن ہوسکیں۔