- الإعلانات -

دنیا بھرمیں پاکستان کے کردا ر کی تعریف

امریکی صدر ٹرمپ، جن کی غیر متوازن پالیسیوں سے خود امریکی بھی نالاں ہیں حتیٰ کہ کانگریس میں ان کے مواخذے کی درخواست بھی پیش کی جا چکی ہے، کی نئی افغان پالیسی خصوصاً پاکستان کو دی جانے والی دھمکیوں کے خلاف بھارت اور افغانستان کے سوا دنیابھر میں شدید ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ علاقائی ممالک چین اور روس کے بعد ایران نے بھی افغانستان میں دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے خلاف امریکی صدر کے بیان پرشدید نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ امریکہ خطے کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شراکت اور عظیم قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو ان کوششوں کو مکمل طور پر تسلیم کرنا چاہئے۔ چینی وزارت خارجہ نے ٹرمپ کے بیانیے کو غلط قرار دیا۔ چین اور پاکستان ایک دوسرے کو بہترین دوست سمجھتے ہیں اور دونوں ممالک کے ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی، معاشی اور سکیورٹی کے حوالے سے گہرے روابط ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول محاذ پر ڈٹا ہوا ہے، جس میں اس نے بے شمار قربانیاں دیں اور اہم کردار ادا کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کو دھمکی کے بعد روس کا پاکستان کی حمایت میں کہنا ہے کہ پاکستان پر ضرورت سے زیادہ دبا ڈالنے سے خطے کی مجموعی سیکورٹی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ افغانستان کے مسئلے کے حل کیلئے پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔چین اور روس کے بعد ایران بھی پاکستان کی حمایت میں کھل کر سامنے آیا اور ایران نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنی نئی افغان حکمت عملی میں پاکستان پر الزامات عائد کرنے پر شدید تنقید کی ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام گاسیمی نے کہا کہ امریکہ آج خطے خصوصاً افغانستان کے بارے میں اپنی غلط اور بے وقت پالیسیوں کے نتائج پر دوسرے ملکوں کو موردالزام ٹھہرارہا ہے۔ امریکہ کو علاقائی ملکوں کے معاملات میں مداخلت اور ان کیلئے فیصلے کرنے کی پالیسی ختم کرنی چاہئے۔ امریکہ کی مفاد پر مبنی حکمت عملیوں کی طرح پالیسیوں اور غلط مداخلت کے نتیجے میں کچھ حاصل نہیں ہوا بلکہ خطے میں خلفشار بڑھا اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ ملا ہے۔ امریکہ افغانستان میں ناکامی کا ملبہ اسلام آباد پر ڈالنا چاہتا ہے۔ عالمی میڈیا نے بھی امریکی صدر کے بے سروپا الزامات پر تنقید کی ہے۔ کئی موقر عالمی اخبارات اور جرائد نے لکھا ہے کہ پاکستان کی مدد اور تعاون کے بغیر افغانستان میں پائیدار امن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی رہنما اور میڈیا اس رائے پر متفق ہیں کہ پاک فوج نے اپنے ملک میں دہشت گردوں کے اڈوں کو تباہ کردیا ہے اور افغانستان میں دہشت گردی کے جو بھی واقعات ہو رہے ہیں وہ باہر سے نہیں اندرسے ہوتے ہیں۔حکومت پاکستان اس معاملے میں اپنی پوزیشن واضح کر چکی ہے اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی افغان میڈیا کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہ نہیں۔ افغانستان میں دہشت گردی پاکستان پر الزامات سے نہیں تعاون سے ختم ہو گی۔ ٹرمپ اس حقیقت کو جتنی جلد قبول کر لیں ، عالمی امن کیلئے اتنا ہی بہتر ہوگا۔عالمی ذرائع ابلاغ نے ٹرمپ کے جنوبی ایشیائی خطے کے متعلق پہلے خطاب کوشدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ پاکستان پر تنقید،ٹرمپ کی سنگین اسٹریٹجک غلطی ہے۔ اب امریکہ پاکستان کی نہیں بلکہ پاکستان امریکاکی ضرورت ہے۔طالبان سے مصالحت اور سپلائی کیلئے پاکستان کا تعاون ضروری ہے۔ امریکی دھمکیوں سے پاکستانی فوج مرعوب نہیں ہوگی۔ اب چین پاکستان کی ڈھال بن چکا ہے۔ 16 سالہ افغان جنگ کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آرہا۔ مجموعی ہلاکتیں 111442 ہیں۔افغان جنگ ڈھائی ہزار امریکی فوجیوں اور ایک ٹریلین ڈالرکو ہڑپ کر گئی۔ ٹرمپ کی نئی حکمت عملی سے کوئی امید نہیں جس میں فوجیوں کے معمولی اضافے اورپاکستان پر دباؤ ڈالنے کے سوا کچھ نہیں ۔ جنگ سے انخلا کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا۔ امریکا نے پاکستان کی امداد پہلے سے ہی روک دی ہے۔ پاکستان کیلئے جنگی طیاروں اور فوجی سازوسامان کا انحصاراب امریکا پرنہیں رہا۔ امریکی فوجی امداد کے خاتمے کی دھمکی پاکستان پر اثر انداز نہیں ہو گی۔امریکا کی طرف سے پاکستان کو اجر اور سزا دینے کا کھیل کافی عرصے سے جاری ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان کو دھمکی کا نتائج منفی نکل سکتے ہیں۔امریکی اخبار ’لاس اینجلس ٹائمز‘ نے اپنی ایک اور رپورٹ میں تجزیہ کاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان کو دھمکی کا نتیجہ برعکس نکل سکتا ہے۔ پاکستان کو تنہا کرنے کا عمل اسلام آباد کے ساتھ امریکی تعلقات کو ناکام بنا سکتا ہے اور اسے روس، چین اور ایران کے قریب دھکیل سکتا ہے جو خطے کو مستحکم بنانے کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔نیوریارک یونیورسٹی کے پروفیسر کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کو افغانستان میں موجود امریکی افواج تک سازوسامان کی فراہمی کیلئے پاکستان کی ضرورت رہے گی۔ واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک سے وابستہ ماہر کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چین کی بھاری سرمایہ کاری سے پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہوا ہے اور امریکی افواج کے بڑی پیمانے پر انخلا ء کے باوجود پاکستان کی افواج کی ملک کے سرحدی علاقوں پر گرفت کمزور نہیں ہوئی ہے۔افغانستان میں بھارت کو مزید کردار ادا کرنے کی دعوت بھی دی گئی ہے جس پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں اس پر پاکستان خوش نہیں ہوگا۔ پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی پاکستان کے کئی علاقوں میں دہشت گردی کروانے کیلئے افغان سرزمین کو استعمال کر رہی ہے۔ ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی کے رکن کا کہنا ہے کہ بھارت کو افغانستان میں اپنا کردار بڑھانے کی دعوت کے باعث پاکستان سے تعاون کی امید مزید کم ہو جائے گی۔ امریکی پالیسی پر پاکستان کی جوابی حکمت عملی اور ردعمل پر جواب تیار کرلیا گیا ہے۔ امریکی پالیسی پر روس اور چین سمیت دیگردوست ملکوں سے براہ راست رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔