- الإعلانات -

پیرس حملے،تیسری عالمی جنگ کی دہائی اور داعش

syed-rasool-tagovi

چارلی ہیبڈو والے واقعہ کے دس ماہ بعد پیرس ایک بار پھر ایک بڑے حادثے سے دوچارہوا ہے۔ 13 نومبر کی دہشت گردی کی کارروائی یقیناً اپنی نوعیت کی ایک بہت بڑی کارروائی ہے جسے یاران فکرو دانش یورپ کا نائن الیون قرار دے کر مستقبل کے منظر نامے سے پردہ سِرکا رہے ہیں۔ نائن الیون کے بعد دنیا جس جنگ سے دوچارہوئی آج تک اس پر سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ آخر اس واقعے کے خالق کون تھے اور ان کے مقاصد کیا تھے کہ ایک اورواقعہ رونماہوگیا ہے۔ آج چودہ سال بعد یورپ کو یہ دن کیوں دیکھنا پڑا، جبکہ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے القاعدہ کے خلاف لڑی جانے والی دہشت گردی کی جنگ کے بڑے مقاصد حاصل کرلئے ہیں۔امریکہ کے نزدیک وہ بڑے مقاصد کیا تھے مگر بقیہ دنیا یہ جانتی ہے کہ القاعدہ کی جگہ اس سے بڑی وحشی اورسفاک تنظیم داعش کھڑی کردی گئی ہے جبکہ دہشت گردی کی جنگ کی کوکھ سے تیسری عالمی جنگ کی دہائیاں دی جارہی ہیں۔ آخر یہ سب کیا ہورہا ہے ،نائن الیون کے بعد افغانستان ، عراق اور لیبیا کو تہہ تیغ کرنے کے بعد (13/11) تھرٹین الیون کیا بقیہ مسلم دنیا کو روند ڈالنے کا سکرپٹ ہے۔ اس سکرپٹ کاماسٹر مائنڈداعش ہے یا پھر داعش کے ”خالق “جو اس کے خاتمے کیلئے بیس سال مانگ رہے ہیں۔ فرانس کے صدر اسے ایک طرح کی جنگ قرار دے رہے ہیں۔ مغربی میڈیا کہہ رہا ہے کہ یہ ہماری تہذیب ، ثقافت ، طرز زندگی اور روح پر حملہ ہے۔پوپ فرانس اسے تیسری عالم جنگ کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ کیا داعش کے خالقوں کو اپنے مقاصد کے حصول کیلئے تیسری جنگ کی ضرورت آن پڑی ہے جو وہ القاعدہ اور طالبان کے خلاف دس سالہ جنگ سے حاصل نہ کرسکے۔ یورپ بھر میں نسل پرستانہ ، قوم پرستانہ ، اسلام اور مسلمان مخالف جذبات پہلے ہی عروج پر تھے ، فرانس میں حجاب پر پابندی ، مساجد کے میناروںکے خلاف تحریک اور توہین اسلام جیسے وہ ایشوز ہیں جو اس واقعہ کے بعد مزید دو آتشہ ہوسکتے ہیں۔ فرانس ویٹو پاور والا ملک اور سلامتی کونسل کارکن ہے لہذا اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ اقوام متحدہ میں یہ معاملہ پوری شدت سے اٹھایا جائے اگر ایسا ہوا تو پھرعالم اسلام کے خلاف داعش کی آڑ میں نیا محاذ کھل جائے گا ۔ داعش عراق میں تباہی اور بربادی پھیلانے کے بعد شام کی طرف رخ کرچکی ہے لیکن شام میں روس کے داعش کےخلاف کود پڑنے سے اس کے خالقوں کو یقینی مشکلات کا سامنا ہے۔ روس شام میں کیوں کودا شاید اس نے خطرے کی بُو بروقت محسوس کرلی تھی۔حالیہ دنوں روس کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پیرس حملوںکا تعلق ”علامتی قتل عام“ سے ہوسکتا ہے اور اس کیلئے ہدایات فری میسنز کے خفیہ کارکنوںنے دی تھی جو اس وقت امریکہ کی سی آئی اے ، فرانس کی ڈی جی ایس ای ،برطانیہ کی ایم آئی سکس ، اسرائیل کی ڈی ایم آئی اور ویٹی کن میں با اختیار عہدوں پر ہیں۔روس کی وزارت دفاع کی رپورٹ کے مطابق مرکزی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ(جی آریو)نے جمعہ13 نومبر کے اس ممکنہ منصوبے کے بارے میں 15 روز قبل یعنی 27 اکتوبر کو وزارت دفاع کو آگاہ کر دیاتھا۔ اس روز واشنگٹن ڈی سی میں ایک انتہائی خفیہ اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن، ڈی جی ایس اے کے ڈائریکٹر برنارڈ بایولیت، ایم آئی 6 کے سابق سربراہ جان ساوورز اور ڈی ایم آئی کے سابق سربراہ اور اسرائیل کے موجودہ قومی سلامتی مشیر یاکوو آمیدور نے شرکت کی۔ رپورٹ کے مطابق مغرب کے ان سرفہرست انٹیلی جنس اذہان کے اس انتہائی غیر معمولی اجلاس کا بظاہر مقصد تو ایک عوامی مذاکرہ تھا لیکن اصل مقصد کچھ اور تھا۔ کانفرنس کے بعد ان شخصیات نے امریکی نائب صدر جوزف بائیڈن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ بائیڈن رومن کیتھولک یسوعی ہیں یعنی سوسائٹی آف جیسس کے رکن ہیں جو امریکا میں آج بھی طاقت رکھتی ہے۔ اس ملاقات کی صدارت سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن نے کی جو نائب صدر بائیڈن کی طرح یسوعی تربیت یافتہ انٹیلی جنس تجزیہ کار ہیں اور صرف جنگ کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔مغرب کے ان جاسوس سرداروں کی جوزف بائیڈن کے ساتھ 27 اکتوبر کے ہونے والی ملاقات کے بعد جی آر یو نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں روسی وزارت دفاع کو خبردار کیا تھا کہ یسوعی فری میسن گٹھ جوڑ کی 13 نومبر کو روس کے خلاف کسی معاندانہ کارروائی کا خدشہ رد نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ خفیہ تنظیمیں ہمیشہ کسی نہ کسی "اہم” تاریخ پر قتل عام کرتی ہیں۔اجلاس کے بعد جی آر یو نے روس کی وزارت دفاع کو خبردار کیا کہ فری میسن 11 اور 13 کے جادوئی نمبروں سے کھیلیں گے اور بالکل اسی طرح جیسا کہ جی آر یو نے خبردار کیا تھا، 13 نومبر کو "علامتی قتل عام” کے لیے پیرس کا انتخاب کیا گیا تاکہ دنیا کو اپنے نظریے پر لایا جا سکے۔مذکورہ رپورٹ کے مطابق فری میسن یسوعی منصوبہ سازوں کا پیرس قتل عام دراصل 13 اکتوبر 1307ءکو اس خفیہ تنظیم پر لگنے والی پابندی کا بدلہ ہے۔جی آر یو نے 2013ءمیں بھی خبردار کیا تھا کہ فری میسن یسوعی پاپائے روم کے انتخاب کے بعد گرینڈ ماسٹر کے قتل کا بدلہ لیں گے۔پوپ فرانسس گرجے کی تاریخ میں اس منصب تک پہنچنے والے پہلے یسوعی ہیں اور ان کا انتخاب 13 مارچ 2013ءکو ہوا تھا ۔ پیرس حملے کے بعد انہوں نے جو پہلی بات کی وہ یہی تھی کہ یہ تیسری جنگ عظیم کا پیش خیمہ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یسوعی فری میسنز نے تیسری جنگ عظیم کے آغاز کے لیے پیرس کو ہدف بنایا۔ادھر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اب فرانس کی جانب سے اعلانِ جنگ ہونے ہی والا ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ نیٹو کے آرٹیکل پانچ کو نافذ کردے۔ جو 1966ءمیں نیٹو چھوڑ دینے کے بعد 2009ءمیں اس میں دوبارہ شامل ہوا ہے۔ اگر فرانس نے آرٹیکل 5 نافذ کیا تو یہ امریکا پر نائن الیون حملوں کے بعد 12 ستمبر 2001ءکے بعد تاریخ میں اس دفعہ کا دوسری بار اطلاق ہوگا۔القاعدہ اور طالبان کے بعدداعش کو مغرب ہی نے ایک مافوق الفطرت قوت بنا کر پیش کیا ہے۔ ایک ایسی طاقت جو بیک وقت شام، عراق، لبنان، ایران اور روس کے خلاف تو جنگ کر ہی رہی ہے، لیکن عین اسی وقت یورپ کے قلب میں ایک بڑے شہر پر اتنا بڑا حملہ بھی کرگئی ہے۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس گروہ کو بڑے پیمانے پر کئی ریاستوں کی مدد حاصل ہے۔ روس نے جی ٹوئنٹی کے حالیہ اجلاس کے بعد دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ داعش کو یہی ممالک سپورٹ کررہے ہیں۔یہ صورتحال مسلم ممالک کے لئے تشویش کا باعث ہے کیونکہ اس سے قبل نائین الیون کے بعد طرح طرح کے افسانے گھڑے گئے تھے۔ عراق میں خطرناک ہتھیاروں کے” سچ“ تلے سے زمین پہلے ہی ٹونی بلیرکھینچ چکے ہیں۔کل اگر دس سال بعد پھر کسی ٹونی بلیئرکا اقبال جرم سامنے آتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا مسلم ورلڈ ےا امریکہ اور ےورپ۔بہت ہوگئی القائدہ ،طالبان اورداعش کے پشت پناہوں کو اس دنیا پر رحم کرنا چاہیے۔