- الإعلانات -

ایل او سی پر جعلی مقابلے۔ ایک اور ہولناک داستان

مقبوضہ کشمیر کے سانحات اورالمیوں کاجب بھی کوئی دردمند حساس قلمکارتذکرہ کرنیکا صرف’ خیال’ہی کرنے بیٹھ جائے تونہ چاہتے ہوئے بھی اْس کی آنکھیں نم ضرورہونے لگیں گی’بھیگتی ہوئی پْرنم آنکھوں سے بھارتی زیرکنٹرول کشمیرکاخیال ہی انسانی دلوں کی دھڑکنوں کوبے ترتیب کرنے کیلئے بہت کافی ہے’مقبوضہ وادی میں قانون نام کی کوئی چیزنہیں’بھارتی سیکورٹی فورسنزکے اہلکارجب چاہیں کسی بھی کشمیری خاندان کے گھرمیں بلا اجازت داخل ہوسکتے ہیں’کشمیریوں کے کاروبار ِ زندگی میں جب اْن کادل چاہتا ہے وہ بے دھڑک مداخلت کرسکتے ہیں’کشمیری نوجوان لڑکوں کورات کی تاریکی میں اْن کے گھروں سے بھارتی سیکورٹی فورسنز گزشتہ 20۔15 برسوں سے زبردستی تفتیش کے نام پراْٹھاتی چلی آرہی ہیں،’نجانے انسانی حقوق کی پائمالیوں اورلاپتہ کشمیری بچوں کی بازیابی کے لئے سرگرم تنظیمیں کہاں پر ‘سرگرم’ ہیں؟اْن کی کارکردگی ہمیں مقبوضہ وادی میں کہیں’سرگرم’دکھائی نہیں دیتیں،یہ ایک دوروزکا رونا نہیں‘ بلکہ برسوں پرمحیط المیوں اورنوحوں کا ایک سلسلہ ہے’جس کی چیخ وپکاراگردنیا بھرمیں کہیں سنائی نہیں دے رہی تووہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل ہے’جہاں مظلوم اورمقہور قوموں کے فیصلے ہونے کی نوید دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا اوردنیا کی دیگر بڑی طاقتوں نے سنائی تھی’اہلِ کشمیر’عالمی ضامنوں’ کی آس پرآج بھی ‘عالمی اداروں’پرتکیہ کیئے بیٹھے ہیں؟مقبوضہ جموں وکشمیر میں ایک دو نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ایسے ‘لاپتہ’گمشدہ اور مغوی کشمیری بچوں کی مائیں’اْن کے والدین اور لواحقین اِسی انتظار میں اپنی نگاہیں جمائے بیٹھے ہوئے ہیں’شاید آج یا ابھی یا کل یا کبھی نہ کبھی اْن کا لاپتہ بیٹا خود بخود بھولا بھٹکا گھرواپس آجائے؟ لیکن وائے افسوس! ایسا ہوتا کشمیر میں دکھائی نہیں دیتا ،ہاں مگر، یقین کیجئے کہ سالوں گزرجانے کے بعد میڈیا کے توسط سے اِس حالت میں اْن کے لاپتہ یا گمشدہ بچوں کا پتہ چلتا ہے جب اْن کے بچوں کی تصویریں میڈیا پر اچانک دکھائی جانے لگتی ہیں، ساتھ ہی یہ بھی بتایا جا تا ہے کہ 2010 یا 2009 میں کبھی اْن کاجوان بیٹاجب لاپتہ ہوا تھا یا اْسے ریاستی سیکورٹی اداروں نے اغواء کیا ہوگا تووہ عسکریت پسندوں میں شامل ہوگیا تھا؟آج مقبوضہ وادی کی جانب کی کسی لائن آف کنٹرول میں بھارتی فوج کے ساتھ مقابلہ میں وہ ہلاک(شہید) ہوگیا اوراْس کی لاش بھارتی سیکورٹی فورسنز کے کسی کیمپ سے حاصل کی جاسکتی ہے یہ ہے وہ المیہ وہ افسوس ناک سانحہ’جوکشمیرکا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مقدربن چکاہے’آئیے ہم آپ کولیئے چلتے ہیں 29 اور30 اپریل2010 کی درمیانی شب کوکپواڑہ کی تحصیل رفیع آباد کے قریب جہاں بھارتی فوج اورنیم سیکورٹی اداروں کی مشترکہ کارروائیوں کے نتیجے میں نادیہال گاؤں کے قریبی جنگلات کے مچال سیکٹرکی لائن آف کنٹرول پرجہاں تین کشمیری نوجوانوں کو بھارتی فوج نے عسکریت پسندوں کا مددگار ہونے کے شبہ میں بلا تفتیش ہلاک کرکے پہلے اْنہیں میڈیا کودھکایا اور پھر لاوارث قرار دے کرقریبی قبرستان میں بلاکفن دفنادیا تھا جنہیں بعد میں مقبوضہ وادی کے کشمیری خاندانوں نے شناخت کرکے اْنہیں اپنا ‘لاپتہ’ بچہ قرار دیا،کیا کہیں گے وہ حلقے’جن کے حلق بھارتیوں کے قصیدے پڑھتے تر مگرنہیں ہوتے؟ ہاں ہماری آنکھیں اب اورزیادہ روئیں گی ہمارے آنسواب تھمیں گے نہیں اورروانی سے ہماری آنکھوں سے ہمارے آنسو بہیں گے، تین بیگناہ معصوم کشمیری نوجوانوں کو بھارتی فوج نے نہایت بیدردی کے ساتھ شہید کیا جس کی اطلاعات کئی برسوں کے بعداب کہیں جاکرمیڈیا کے ذریعے اْن کے لواحقین تک پہنچیں جواِن معصوموں اوربے گناہ بچوں کولاپتہ قراردے کرریاستی حکام سے آج تک انصاف کی امید لگائے بیٹھے تھے’ یقیناًہمیں یہ کبھی نہیں بھولناچاہیئے تھا کہ بھارتی مقبوضہ علاقے کے کنٹرول لائن پرتعینات بھارتی فوجیوں میں جبراً اورعادتاً انسانیت کشی کا قصابنما ذوق اب اْن کے مزاج کا ایسا بہیمانہ روپ اختیارچکا ہے’ اْنہیں جب تک کسی زندہ انسان کو سورج کی روشنی میں اپنے سامنے کھڑا کرکے موت کے گھاٹ اترتے ہوئے دیکھنے کا موقع نہیں ملتا وہ بے چینی کے کرب کا شکار رہتے ہیں’اصل میں قصہ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے ‘بندوبستی’علاقوں سے کشمیری مسلمان نوجوانوں کی کھیپ کی کھیپ اپنی فوجی بکتربند گاڑیوں میں بھرکراْن کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر اْنہیں لائن آف کنٹرول کے پاس چھوڑدیا جاتا ہے’ بس پھرجس بھارتی پلٹن کاجی چاہتا ہے’وہ اِن کشمیری نوجوانوں کوبھیڑبکریوں کی مانند ہانک کر اْنہیں اپنے کیمپوں میں قید کرلیتے ہیں پھر اْنہیں اپنی مرضی کی جگہ پرعین پاکستانی سرحدوں کے قریب لیجاکر ہلاک کردیتے ہیں’ پھرمنصوبے کے مطابق اگراْن کا دل چاہے تواْنہیں پاکستانی عسکریت پسند قرار دے کراْن کی تصویریں اپنے میڈیا میں جاری کردیتے ہیں’اِن بے گناہ مارے جانے والوں میں اکثرکم عمربچے بھی ہوتے ہیں’آج سے پانچ چھ برس قبل 2010 میں ایک ایسے ہی معصوم کشمیری بچے کوجس کے چہرے پرابھی داڑھی کے آثارنمودار بھی نہیں ہوئے تھے اْن میں ایک کا نام ‘شفیع لون’ تھاجسے اِن ظالموں نے گولیاں مارمار کراْس کا چہرہ ہی بے شناخت کردیا جسے اْس شہید بچے کے والدین نے اْس کے پیروں سے پہچانا’ایسے تینوں ‘لاپتہ’ بچوں کی گمشدگی کی باقاعدہ ایف آئی آرمتعلقہ تھانوں میں درج تھی جن پر’جعلی فورسنز’مقابلہ میں پاکستان دہشت گرد ہونے کا الزام لگادیاگیا جب بات میڈیا تک پہنچی توظالموں نے اْنہیں مچال قبرستان میں دفن تک کردیا تھا جہاں سے اْن کی مدفون نعشیں نکالی گئیں اس ‘جعلی تصادم’ کی خبریں عام ہوتے ہی پوری وادیِ کشمیر میں بڑے پیمانے پراحتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے جس کے بعد ایک اعلی سطحی انکوائری کمیشن نے تحقیقات کا حکم دے دیا اِسی سے ملتی جلتی ہمیں اورآپ کے دلوں کولہو رلا دینے والا واقعہ 4 سالہ بشیر لون کا ہے’ ملاحظہ کیجئے 4 سالہ بچہ بھارتی فورسنز نے شورش پسند قراردے کر ظالمانہ طریقے سے شہید کرڈالا یہ غالبا 8 جولائی 2016 سے قبل کا سانحہ ہے ابھی وادی میں مظفراحمد وانی کی قیادت میں ابھرنے والی نئی تحریک شروع نہیں ہوئی’نارمل سچوئیشن’ میں 4 سالہ بشیراحمد لون کیسے اورکیوں کر شورش پسند بن گیا؟ کوئی حیاء نہیں کوئی شرم نام کی چیز نہیں ہے، بھارتی سیکورٹی اداروں کے پاس؟ اِسی طرح سے 27 سالہ شہزاد خان’19 سالہ شفیع لون اور 20 سالہ ریاض لون نامی کشمیری مسلمان نوجوانوں کی پہلے گمشدگی’ پھر اْن کی لاشوں کی بازیابی نے باشعور کشمیریوں کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ ہمارے یہ نوجوان بچے بھارتی فوجی کیمپوں کے نزدیکی علاقوں میں بیدردی کے ساتھ شہید ہوئے توکوئی ہمیں پہلے یہ توبتائے کہ کیسے یہ بچے وہاں پہنچے؟بھارتی سیکورٹی فورسنز کی خفیہ منصوبہ بندی تو ذراملاحظہ فرمائی جائے اِن تینوں کشمیری نوجوانوں کوبھارتی سیکورٹی فورسنز کے چند مسلمان سپائیوں کو لالچ دیکر اْنہیں آمادہ کیا گیا کہ وہ کشمیری مسلمان نوجوانوں کے ساتھ میل ملاپ کرکے اْنہیں پکنک کے بہانے کنٹرولائن کے نزدیکی علاقوں میں لے کر آئیں جہاں باقاعدہ پہلے سے پکنک کیمپ لگوائے گئے کھانے پینے کے مکمل انتظامات کیئے گئے ایک اطلاع ایسی بھی بھارتی میڈیا میں گردش کررہی ہے کہ بھارتی فوج کے مسلمان کیڈر کو ایسے امور کیلئے 50 ہزار فی کس کا لالچ دیا جاتا ہے 30۔29 اپریل2010 کی درمیانی شب کو بھی ایسا ہی ایک ڈرامہ اسٹیج کیا گیا تھا جس کا ڈراپ سین بہت ہی خونریز ہوا جب اِن تینوں کشمیری نوجوانوں کو بھارتی فوج کی مشین گنوں نے بھون کررکھ دیا بدقسمتی ہے یہ اْن مسلمان بھارتی فوج سے تعلق رکھنے والے عباس حسین شاہ اور حمید نامی جوان کی جو خود ہی اپنے ہی مسلمان مظلوم کشمیریوں کو ورغلا کر یہاں تک لائے یاد رہے کہ راجپوتانہ رائفلزپلاٹون نے یہ منصوبہ بنایا اور اِس مذموم اور گھٹیا بہیمانہ منصوبے پر نئی دہلی سرکار سے اگر ‘شاباشی’ پائی تو وہ ‘شاباشی’ راجپوتانہ رائفلز نے پائی اور ساتھ ہی 15 لاکھ روپے کا انعام بھی راجپوتانہ رائفلزکے چند ہندوجوانوں کوملایہ وہ گھٹیااورخفیہ مذموم کارروائیاں ہیں جو مقبوضہ وادی میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج خوداپنی نگرانی میں کرواتی ہے’جبکہ دنیا میں اِن مذموم کارروائیوں کے بعد پاکستان پر دراندازی کے لغو اور جھوٹے الزامات عائد کئے جاتے ہیں متذکرہ بالا حساس واقعہ کی بعد میں اعلیٰ سطحی پیمانے تفتیش میں بھارتی فوج کے مسلمان اہلکار عباس حسین شاہ اور حمید نامی جوان نے جب اْن کا مردہ ضمیر بیدار ہوا تو اْنہوں نے اپنے اعلیٰ افسروں کے سامنے ساری روئیداد بیان کردی جو بھارتی پرنٹ میڈیا کے توسط سے دنیا کے سامنے عیاں ہوئی ہے۔