- الإعلانات -

پیرس دھماکے ، صیہونی لابی اور دہشت گرد عناصر

rana-baqi

قارئین کرام! پیرس بم دھماکوں کے بعد جس کی ذمہ داری داعش تشدد پسند تنظیم نے قبول کی ہے حیران کن ہے اِس لئے بھی کیونکہ دھماکے میں خودکش حملہ آور کےساتھ ہر چیز کے تباہ ہو جانے کے بعد ملبے کے اُوپر دہشت گرد کا پاسپورٹ صحیح سلامت پایا گیا ہے جسے اب کہا جا رہا ہے کہ وہ جعلی ہے ۔ چنانچہ پیرس دھماکوں کی مکمل تحقیق و جستجو کئے بغیر دنیائے اسلام کو کلی طور پر دہشت گردی میں ملوث کرنے کی کوششیں ناقابل فہم ہیں جبکہ القاعدہ ، داعش اور طالبان کے حوالے سے یہ خبریں تواتر سے سامنے آ رہی ہیں کہ اِن تنظیموں میں نہ صرف بھارت اور اسرائیل نے اپنے مخصوص مفادت کی تکمیل کےلئے اپنے ایجنٹ داخل کر دئیے ہیں بلکہ اِن تنظیموں کے بیشتر منحرفین اب کرایہ کے دہشت گرد قاتلوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اِن دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہے اور وہ محض مالی مفادات کےلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔حیرت ہے کہ پیرس دھماکوں میں اسلام کو بدنام کرنے کی تو ہر ممکن کوشش کی گئی جبکہ اُس مسلمان گارڈ کا تذکرہ کرنے سے گریز کیا گیا ہے جس نے نہ صرف اپنی جان پر کھیل کر دہشت گردوں کو اسٹیڈیم میں داخل ہونے سے روک دیا بلکہ چند فرانسیسی خواتین کی جان بچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اِس اَمر کونظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ اگر داعش، القاعدہ ، طالبان ، شعیہ یا سنی کے نام سے اسلامی تعلیمات کے برخلاف بے گناہ شہریوں کے قتل عام میں شریک ہوتے ہیں تو اُنہیں اسلام کی بنیادی تعلیمات کے برخلاف ایسے کسی بھی اقدام میں شریک ہونے پر کس طرح بھی مسلمان قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ القاعدہ ، داعش اور طالبان کی دہشت گردی کے پس منظر میں یہ ضرور دیکھا جانا چاہیے کہ اِن دہشت گرد گروپوں کو حساس اسلحہ اور مالی وسائل کہاں سے مہیا کئے جا رہے ہیں ۔ ایک حالیہ رپورٹ میں شواہد کےساتھ دعویٰ کیا گیا ہے کہ نائین الیون کے ماسٹر مائینڈ کو رقومات بھارت سے منتقل کی گئی تھیں ۔روسی صدر پیوٹن متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ وہ خلائی تصاویر لیک کرکے نائین الیو ن کے اصل حقائق سے پردہ اُٹھا سکتے ہیں ۔ جہاں تک داعش کا تعلق ہے تو شام اور عراق میں اُن کی مہم جوئی صرف اسرائیل کے مخصوص مفادات کے تحفظ کو ہی ممکن بنا رہی ہے جبکہ پیرس دھماکوں کی آڑ میں بھی اسرئیلی پشت پناہی میں تہذیبوں کے تصادم کی پالیسی کو مہمیز دی جا رہی ہے ۔
حقیقت یہی ہے کہ مسئلہ فلسطین سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے ہی اسرائیلی پالیسی کا بنیادی ہدف ہے ۔ کینیڈا میں لبرل حکومت کا قیام اور گذشتہ اگست میں فرانسیسی اور فلسطینی خارجہ امور کے ماہرین کے اجلاس میں فلسطینی ریاست کو بین اقوامی طور پر تسلیم کئے جانے اور اقوام متحدہ میں نئی قراداد پیش کئے جانے پر گفتگو اسرائیل کےلئے ایک لمحہ فکریہ تھی چنانچہ اسرائیل کے اہم اخبار یروشلم پوسٹ میں ڈھکے چھپے لفظوں میں فلسطینی اور فرانسیسی نمائندوں کی ملاقات کو اسرئیل کے بارے میں فرانسیسی حکومت کی پالیسی میں تبدیلی سے تعبیر کیا گیا۔ کیا پیرس دھماکوں کے ذریعے یہ جواب داعش میں اسرائیلی ایجنٹوں کی جانب سے دیا گیا ہے ؟ اِس پر غور و فکر کیا جانا چاہیے ۔ماضی میں صیہونی لابی کی پس پردہ حمایت سے فلسطین میں یہودیوں کا قومی گھر بنائے جانے کے اعلان کے فوراً بعد آسولڈ سپینگر کی” مغرب کا زوال” نامی کتاب کے ذریعے مغربی ممالک میں اسلام کے خلاف تصادم کی لہر کو مہمیز دی گئی۔ اِسی طرح افغان جہاد کے نتیجے میں سوویت یونین کے خاتمے پر مشرق وسطیٰ میں فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششوں کو نئی جہت ملی تو نوے کی دھائی میں صیہونی لابی کے پس پردہ اثرات کے تحت مغرب اور اسلام کے مابین تہذیبی ٹکراﺅ کو ہوا دینے کےلئے یکے بعد دیگرے برنارڈ لیوس کی تصنیف ” مسلم برہمی کی جڑیں” اور ” تہذیبی تصادم ” کے عنوان سے سیموئل ہٹنگٹن کی دو نئی کتابیں سامنے آئیں ۔ مقصد ایک ہی تھا کہ مغرب ملکوں اور اسلامی ملکوں کے درمیان تہذیبی تصادم کی فکر کو مہمیز دیکر مسئلہ فلسطین سے مغربی ملکوں کی توجہ ہٹائی جائے ۔
سوال یہ بھی ہے کہ مسئلہ فلسطین کیا ہے ؟مسئلہ فلسطین کی بنیاد پہلی جنگ عظیم کے دوران رکھی گئی جب برطانیہ نے جنگ عظیم شروع ہونے پر ایک طرف تو عرب مقتدر قوتوں کو خلافت عثمانیہ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے پر عرب ملکوں کو آزادی دینے کا وعدہ کیا تو منافقانہ ڈپلومیسی کے تحت دوسری جانب فرانس اور برطانیہ نے سائیکی پیِکٹ خفیہ معاہدے کے تحت جنگ کے اختتام پر عرب اور افریقی ملکوں کی آپس میں بندر بانٹ کر لی۔برطانوی ڈپلومیسی کو داد دینی چاہیے کیونکہ اِس منافقانہ حکمت عملی کا تیسرا پہلو ، جنگ عظیم میں یہودیوں کی مالی امداد کے عوض فلسطین میںیہودیوں کا قومی گھر بنانے کا خفیہ معا ہدہ تھا جس کا تذکرہ فلسطین پر برطانوی قبضے کے بعد 2 نومبر 1917ءمیں اعلانِ بل فور کے ذریعے کیا گیا۔ 1917ءسے 1948ءتک برطانوی فوجیں فلسطین پر قابض رہیں اور اس دوران فلسطینی عرب غیر معمولی ظلم و ستم کا شکار رہے۔ برطانوی فوجیں فلسطین میں داخل ہوئیں تو اُس وقت فلسطین میں یہودیوں کی کل تعداد آبادی کا صرف آٹھ فی صد تھی اور جب 1948ءمیں برطانوی فوجوں نے فلسطین سے واپسی اختیار کی تو اُس وقت تک یورپ اور روس سے لا کر بسائے جانے والے یہودیوںکے باعث یہ تعداد فلسطین کی کل آبادی کا 33 فی صد ہو چکی تھی البتہ برطانوی حمایت سے فوجی و تجارتی پیمانے پر یہودی آبادکار، اکثریتی فلسطینی عرب آبادی پر غالب آچکے تھے۔ 1948ءمیں اینگلو امریکن دباﺅ کے تحت اقوام متحدہ نے فلسطین کو دو ریاستی فارمولے کے تحت یہودیوں اور عربوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا تو اسرائیل نے طاقت کے بل بوتے پر فلسطین کے بقایا اہم علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا چنانچہ فلسطینی مقبوضہ علاقوں پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کے باعث فلسطینیوں پر مظالم کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے وہ آج تک جاری و ساری ہے۔ ماضی میں مسلم انڈیا اور آزادی کے بعد حکومتِ پاکستان نے فلسطین پر اسرائیلی موقف کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔” قائد اعظم محمد علی جناح نے برطانوی حکومت ہند کے دور حکومت میں 1937ءسے 1946ءتک متعدد مواقع پر مسئلہ فلسطین پر برطانوی انتداب کے جانبدارانہ رویہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی پالیسی شروع سے آخر تک عربوں کو دھوکہ دینے کی رہی ہے۔ برطانیہ نے پہلی جنگ عظیم کے دوران عربوں سے کئے گئے اُس وعدے کو پورا نہیں کیا جس میں عربوں کو مکمل آزادی کی گارنٹی دی گئی تھی۔ عربوں کے ساتھ جھوٹے وعدے کر کے برطانیہ نے بد نام زمانہ اعلانِ بل فور کے ذریعے دنیا بھر سے لائے گئے یہودیوں کو عربوں پر مسلط کر دیا ہے اور یہودیوں کے لئے ایک قومی وطن بنانے کی پالیسی کے بعد برطانیہ رائل کمیشن کی سفارشات کے ذریعے فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے جس کے سبب عربوں کی اپنے وطن میں ہی آزادی کی تمام آرزﺅں اور تمناﺅں کا خون ہوجائیگا اور ایسا ہی ہوا۔ 19 دسمبر 1947ءمیں گورنر جنرل پاکستان کی حیثیت سے قائد اعظم نے بی بی سی کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے مسلہ فلسطین پر اقوا م متحدہ کے یکطرفہ فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔ عرب لیڈروں کے نام ایک ٹیلی گرافک پیغام میں قائد اعظم نے اُنہیں یقین دلایا کہ پاکستان اپنے عرب بھائیوں کے ساتھ ہے اور انکی ہر ممکن حمایت کریگا” ۔ اندریں حالات ، اسلام کے خلاف اسرائیل اور بھارت کی موجودہ منفی مہم جس میں پیرس دھماکوں کے بعد غیرمعمولی تیزی دیکھنے میں آئی ہے نے یورپی عوام کے کچھ حلقوں کو بھی جذباتی بنا دیا ہے چنانچہ یہ اَمر اور بھی ضروری ہے کہ پیرس دھماکوں کے اصل ماسٹر مائنڈ تک پہنچا جائے جس کا رُخ بھارت اسرائیلی پروپیگنڈے کی آڑ میں اسلام کے خلاف اُبھارا جا رہا ہے ۔