- الإعلانات -

جنیوامیں سی پیک کیخلاف سازشیں

مسلم دنیا کو بالخصوص اور پاکستان کو خاص طور پر اِس وقت اپنی حساس قومی سلامتی کے حوالے سے اور اپنی اندرونی امن و امان کے حوالے سنگین نوعیت کے کئی نوع کے خطرات لاحق ہیں’ جن کا تذکرہ سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی کئی بارکیا ہے اور اپنی قوم کو جزوی طور پر آگاہ بھی کردیا ہے، انہوں نے گو ابھی تک پاکستان کولاحق خطرات کے ممکنہ خدشات کی مکمل تفصیلات و جزئیات تو نہیں بتائیں لیکن قوم آج اِتنی باشعور اور اتنی سیاسی دانشمند ضرور ہوچکی ہے وہ اپنے دشمنوں کے عزائم سے لاپرواہ کیسے ہو سکتی ہے؟ قوم جانتی بخوبی ہے ہمارے ازلی و ابدی دشمنوں کی نظروں میں ہمارے لئے وہ کون سے بے پناہ قیمتی اور ہماری قیمتی جانوں سے زیادہ اہمیت رکھنے والے ہمارے قومی ‘ٹارگٹ’ ہیں، جنہیں ہمارے ازلی دشمن تباہ کرنے کی ہمہ وقت منصوبہ بندی کرنے میں منہک ہوسکتے ہیں؟ پہلی بات تویہ بالکل نہ بھلائی جائے کہ پاکستان کبھی بھی اپنی معاشی و اقتصادی ترقی کے بارے میں کسی عالمی اور مغربی ملک یا امریکی دھمکیوں کے دباو میں کسی قسم کا کوئی ‘کمپرومائز’ کرے گا، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اب تو خود پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دنیا پر واضح کردیا ہے کہ پاکستان کو امریکی امداد کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے امریکا اپنی ‘مونگ پھلیاں’ اب اپنے پاس ہی رکھے، امریکا پر گزشتہ70 برسوں سے لگاتار بھروسہ کرکے پاکستان نے جتنا نقصان اٹھانا تھا، اٹھا چکا، اب دنیا کو اپنے مفادات دیکھنے ہیں کہ انہوں نے اب پاکستان کیلئے ڈومور کرنا ہے، آج کا پاکستان’ آج کی پاکستانی فوج کا پاکستان’ آج کی ترقی یافتہ جدید ٹیکنالوجی سے بہرہ ور کرڑوں عوام کا پاکستان عالمی تجارت اور عالمی معیشت کی ضروریات کے لئے اب مغرب اور امریکا پر بالکل انحصار نہیں کرنا چاہتا اِس کی تاریخی وجوہات ہیں امریکا نے ہمیشہ پاکستان کا دوست بن کر پاکستان کی پیٹھ میں چھرا ہی گھونپا ہے پاکستان کی اسٹرٹیجک اہمیت و افادیت کو امریکا نے ہمیشہ شکوک شبہات کی نظرسے دیکھا اور پرلے درجے کے زہریلے شکوک شبہات کے نتیجے میں ہمیشہ امریکا نے خطہ میں پاکستان پر بھارت کو فوقیت دی، جبکہ اسے بخوبی علم تھا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہِ کشمیر سمیت دیگر سرحدی تنازعات اتنے سنگین موڑ پر جاپہنچے ہیں جسے پرامن طور پر حل کیئے بنا پاکستان اور بھارت کے دفاعی اخراجات کسی طور پر کم نہیں ہو رہے، اب امریکا اور بھارت نے پاکستان اور چین کے خلاف باہم ایکا کرلیا افغانستان میں جہاں بھارت کی کوئی سرحد لگتی ہی نہیں وہاں امریکا نے بھارت پر پاکستان سے زیادہ بھروسہ کرکے افغانستان کے مسائل اور زیادہ گھمبیر کر دئیے، بات ہورہی تھی پاکستان کی اقتصادی اورمعاشی ترقی کے پہیہ کو مزید تیز رفتار کرنے کی تو پاکستان نے اپنے پڑوسی ملک دنیا کی مستقبل کی ابھرتی ہوئی عظیم سپرپاور چین کے ساتھ باہم مل کر بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر سے کاشغر تک ایک عظیم الشان اقتصادی راہداری کے منصوبے تعمیر کرنے کو عملی جامہ پہنانے کا جونہی کام شروع کیا تو بھارت سمیت امریکا بھی تلملا اٹھا یقیناًپاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ایشیا کی ترقی ‘حیران کن اور متعجب خوشگوار ترقی’ کا تاریخی منصوبہ ہے، ابھی یہ صرف شروع ہوا ہے ابھی تو چین کے ساتھ عظیم ملک روس نے بھی اِس عظیم الشان منصوبے میں شریک ہونے کا عندیہ دیا ہے اور سن لیجئے مشرق بعید سمیت ایران اور ترکی جیسے اہم مسلمان ممالک بھی وقت کے ساتھ ساتھ ‘سی پیک’ میں شامل ہوتے چلے جائیں گے یوں چین اور پاکستان کا زمینی راستہ وسطی ایشیائی ریاستوں تک جڑ جائے گا پاکستان کی تجارتی ترقی کا یہ نہ رکنے والا سفر بھارت سمیت امریکا سے ہضم نہیں ہورہا اب امریکی سی آئی اے اور بھارتی خفیہ ایجنسی را نے پہلے تو بلوچستان میں جہاں گوادر پورٹ چینی انجینئروں اور تکنیکی ماہرین کی نگرانی میں تقریبا پائیہِ تکمیل کو پہنچنے والی ہے، را اور سی آئی اے نے کئی مرتبہ کی ناکامی کے بعد نہایت بے شرمی اور ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چند بکاو قسم کے بھگوڑے بلوچ نوجوانوں کو’ چند سندھی ذیلی قوم پرست بلکہ اگر یوں کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا کہ ‘چند زرپرست ڈالر پرست’ آوارہ منش نوجوانوں کو اپنے ساتھ ملاکر مغربی ممالک میں اپنے سفارت خانوں میں انہیں ‘شراب و کباب’ کی لت میں مبتلا کرکے پاکستان کے خلاف زہریلی ‘پراکسی وار’ شروع کی ہوئی ہے، جس کا احوال کچھ یوں ہے کہ بھارتی خفیہ یجنسی ‘را اورامریکن سی آئی اے’ نے مشترکہ طورپردنیا کے دوآزاد وخود مختارملکوں پاکستان اورچین کے خلاف جینوا میں 12 سے 14 جون2017 تک دو روزہ 35 ویں سیشن کا انعقاد چند ماہ پیشتر ‘عالمی انسانی حقوق’ کے عالمی تحفظ کے نام پرمنعقد کیا تھا ‘جس پاکستان کے متفقہ آئین مخالف سرکش لسانی سندھی ذیلی قوم پرستوں کواکٹھا کرکے پاکستان اورچین کے خلاف خوب دل کھول کرہرزہ سرائی کی گئی ‘سی پیک کے خلاف منصوبہ بندی / خطے میں پاک چین کے اقتصادی راہداری کے مفادات کو انسانیت کے خلاف ایک سازش سے تشبہیہ دی گئی پاکستان مخالفت میں بدنامِ زمانہ شہرت رکھنے والے سندھی لیڈر مہران مری نے کانفرنس میں شرکت کی اورخطاب کیا پاکستان پر لعن و طعن سے بھرپور اس کا یہ متنازعہ خطاب بھارتی خفیہ ایجنسی’را’ اور امریکی سی آئی اے نے مبینہ طورپر خود تیار کیا تھا’سی پیک منصوبہ’ کو ٹارگٹ کر کے بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں کے کمزور طبقات کی ترقی کے لئے بننے والے عظیم الشان میگا منصوبہ کو ‘استحصالی’ منصوبہ قرار دیا گیا؟ اور بلوچ نسل کشی کے الزام کے ساتھ بلوچی ثقافت کے خلاف بھی اِس اقتصادی راہداری منصوبے کوبلوچوں کے خلاف ایک سازش قراردیتے ہوئے پاکستان اورچین پر الزام تراشی کا گھٹیا اور بے سروپا جواز گھڑ لیا گیا، بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کی سرپرستی میں قائم ‘عالمی سندھ کانگریس’ نے جن میں بھارتی ہندووں کی بڑی تعداد ہے، شامل ہو کر عالمی سطح پریہ تاثر نمایاں کرنے کی انتہائی بھونڈی کوشش کی کہ یہ سبھی سندھی پاکستان سے شرکت کیلئے اِس سیمینارمیں شامل ہوئے ہیں؟بلکہ ان کے نمائندوں نے بھی اِس سیمینارمیں شرکت کی ہے’سی آئی اے اور را’ کی ملی بھگت سے’یوغور نسل’ کے منحرف چند چینی باشندوں کو بھی بہلا پھسلا کر جینوا میں منعقدہ اِسی ‘متذکرہ متنازعہ کانفرنس میں سینکیا نگ میں انسانی حقوق کی غیرفعالیت کے گمراہ کن دعووں پر گفتگو کرنے کیلئے مدعو کیا تھا، جس سے عوامی جمہوریہ چین کو کوئی فرق نہیں پڑتا، اصل میں یہ سب دولت کی ریل پیل کا کھیل ہے، سی آئی ے اوررا کے پاس اپنے ازلی دشمن ملکوں کوعدم استحکام کرنے کیلئے کبھی دولت کی کمی محسوس نہیں ہوئی ‘یہ سب مکروہ دھندے را اور سی آئی اے کے آزمودہ لیکن انتہائی بھونڈے مشکوک اور مشتبہ ہتھکنڈے ہیں امریکا کی تو چھوڑئیے ہم صرف بھارت کے ہوش مند اور دیش بھگتی باشندوں کو ہشیار کردینا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ ہوش کریں اور بھارت میں امریکن سی آئی اے اور موساد کے بڑھتے ہوئے قدموں اور ان کے مبینہ مذموم عزائم کو وقت سے قبل سمجھنے کی کوشش کریں ورنہ بعد میں ہندوؤں کی نسلوں کو بہت پچھتانا پڑے گا۔
****