- الإعلانات -

مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی بین الاقوامی کوششیں اور بھارت کا انکار

مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر کم و بیش ستر سال سے موجود ہے۔ یہ دو ممالک کے مابین کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے۔ اسکے سبب تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ مزید جنگوں کے خدشات کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ مسئلہ کشمیر بھارت نے پیدا کیا، وہی اسکے حل کیلئے اقوام متحدہ گیا اور وہی اس کو لٹکا رہا ہے۔ اب تو وہ اسے مسئلہ ہی نہیں سمجھتا ‘کہتا ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے۔ چین نے پاکستان بھارت تعلقات کی بحالی میں تعمیری کردار ادا کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کشمیر کی خطرناک صورت حال نے بین الاقوامی برادری کی توجہ اپنی طرف مرکوز کی ہے لہٰذا بیجنگ کشمیر کی موجودہ صورت حال کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ کنٹرول لائن پر جو سرحدی کشیدگی بڑھ رہی ہے وہ نہ صرف پاکستان اور بھارت کے امن کو برباد کر رہی ہے بلکہ پڑوسی ممالک بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔چین نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاک بھارت کو اپنی ثالثی کی پیشکش بھی کی۔صرف چین ہی نہیں بلکہ ایران، امریکہ، روس اور اقوام متحدہ نے بھی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنے کردار ادا کرنے کیلئے کوشش کی تو بھارت نے بری طرح ٹھکرا دیا۔پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست کا کہنا ہے کہ ایران پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کیلئے خصوصی تعلقات استعمال کرسکتا ہے۔ پاک بھارت کشیدگی خطے کے دیگر ممالک پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ خطے کی معاشی ترقی کیلئے پاک بھارت کشیدگی کا خاتمہ ضروری ہے۔ اس لیے ایرانی حکومت علاقائی امن و سلامتی کیلئے تعاون کوتیار ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان کے نائب نے کہاکہ دنیا کے دیگر تنازعات کی طرح ہمارے دفاتر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔لہٰذا پاکستان اور بھارت کی جانب سے درخواست کی ضرورت ہے۔ اگر دونوں پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں درخواست دیں تو موجودہ صورتحال میں اقوام متحدہ مسئلہ کے حل کیلئے ثالثی پر تیار ہے۔ اقوام متحدہ کے اہلکار فریقین کو امن کی طرف راغب کرنے، سیاسی اور فوجی جھگڑوں سے بچاؤ میں مدد دینگے۔ لیکن بھارت ہمیشہ سے پاکستان کے ساتھ کشمیر ایشو پر اقوام متحدہ کی مداخلت کو مسترد کرتا آیا ہے جبکہ پاکستان اقوام متحدہ کی ثالثی اور قراردادوں کے مطابق حل چاہتا ہے۔کچھ عرصہ قبل روسی صدر پیوٹن نے بھی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کی تھی۔ روس کی دونوں ممالک میں کشیدگی کم کرانے کی کوششیں اور ثالثی کی پیشکش قابل قدر ہے۔ روس اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کیلئے بھارت کو آمادہ کرے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل ہی مسئلہ کشمیر کا بہترین حل ہے۔ ہٹ دھرم بھارت کو اس پر قائل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ امریکہ نے پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کیلئے پیشکش کر کے دونوں ممالک کومذاکرات اور مفاہمت کی فضا باہم مسائل حل کرنے اور کشیدگی میں کمی لانے کا موقع فراہم کیا ہے اس کو معمول کی پیشکش اس لئے قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھی اس ضمن میں ممکنہ طور پر کردار کا عندیہ دیا گیا ہے۔ پاکستان نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا ہے مگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے امریکہ کی جانب سے کی گئی ثالثی پیشکش کو بھارت نے ایک بار پھر مسترد کردیا ہے۔ بھارت نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر چین کی ثالثی کی پیشکش مسترد کردی۔بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت سے مسئلہ کشمیر سے حل کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ مذاکرات میں کسی تیسرے ملک کی ثالثی بھارت کو قبول نہیں ہے سشما سوراج کا کہنا تھا کہ معاہدوں کے تحت مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ دونوں ممالک مل کر حل کریں گے۔پاکستان بین الاقوامی ثالثی کو خوش آئند قرار دیتا ہے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے مختلف فورمز پر اٹھاتا رہتا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے اسلام آبادامریکہ یا اقوام متحدہ کی مدد کو بھی سراہتا رہا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں بہتری کی را ہ میں بنیادی رکاوٹ یہ ہے کہ بھارت اصل معاملہ اور تنازعہ کشمیر کو ایک طرف رکھ کر مذاکرات کا خواہاں ہے۔ جبکہ پاکستان مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل پر مذاکرات کا خواہاں ہے۔ دوسری رکاوٹ بھارت کی طرف سے یہ ہے کہ بھارت اپنی شرائط اور نکات پر مسائل پر بات چیت کیلئے بضد ہے اور وہ پیشگی شرائط کے ساتھ مذاکرات کا خواہاں ہے جوپاکستان کو منظور نہیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان اعتماد کی فضا کا نہ ہو نا بھی ایک بڑا اور بنیادی مسئلہ ہے نیز مقبوضہ کشمیر میں بھارت سب سے زیادہ فوج لمبے عرصے سے تعینات کرنے کے باوجود بھی حالات سے نمٹنے میں ناکامی پر سخت دباؤ کا شکار ہے جس کا ذمہ دار وہ اپنی پالیسیوں اور مظالم کی بجائے پاکستان کو گردانتا ہے۔ اس فضا میں مذاکرات کی توقع ہی عبث ہے اور اگر مذاکرات ہوتے بھی ہیں تو ان کا حسب سابق لاحاصل ہونا نوشتہ دیوار ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ سمیت اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو اس ضمن میں کردار ضرور ادا کرنا چاہیئے۔