- الإعلانات -

پانامہ کیس۔۔۔نظرثانی درخواستیں مسترد

سپریم کورٹ نے پانامہ کیس میں اپنے 28 جولائی کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے شریف خاندان،کیپٹن صفدر اور اسحاق ڈار کی طرف سے فیصلہ کیخلاف دائر نظرثانی کی تمام درخواستیں مسترد کردی ہیں جبکہ حدیبیہ پیپر ملز کیس اوپن کرنے کے حوالے سے شیخ رشید کی درخواست نیب کی یقین دہانی پر نمٹا دی گئی ہے۔ فیصلہ کی وجوہات بعد میں تفصیلی فیصلہ میں جاری کی جائیں گی۔ نظرثانی درخواستیں سابق وزیر اعظم نواز شریف، انکے بچوں مریم نواز شریف، حسن نواز، حسین نواز ، سابق وزیر اعظم کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اور وزیر خزانہ اسحاق ڈارکی جانب سے دائر کی گئی تھیں جس کے بارے میں فیصلہ پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے پڑھ کر سنایا۔ عدالت نے شریف خاندان کی جانب سے پانامہ کیس پر اٹھائے گئے تمام اعتراضات مسترد کر دیئے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں پانامہ فیصلے کے خلاف شریف خاندان کی نظر ثانی درخواستوں پر سماعت مسلسل تیسرے روز ہوئی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے ان اپیلوں کی سماعت کی۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا پانامہ کیس کی سماعت کے دوران الزام تھا عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات جعلی ہیں لیکن عدالت نے اس حوالے سے کوئی ریمارکس نہیں دیئے جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ براہ راست ریفرنس سے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ عدالت نے اپنے فیصلے میں ہر دستاویز پر کھل کر رائے دی ہے حتی کہ دفاع میں جو گواہ پیش کرنے تھے ان پر بھی رائے دی گئی۔ اس ضمن میں صرف جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز افضل خان نے رائے نہیں دی جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے برجستہ کہا کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم دونوں بھی کھل کر رائے دیں۔ دوران سماعت جسٹس آصف کھوسہ نے بے نظیر بھٹو کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ بے نظیر بھٹو کیس میں بھی عدالت نے رائے دی لیکن ٹرائل پر اثر انداز نہیں ہوئی۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاکہ فیئر ٹرائل اور بنیادی حقوق پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، اس طرح ضمانت کے مقدمات میں لکھتے ہیں کہ ٹرائل کورٹ آزادانہ کام کرے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا جعلی دستاویزات کے معاملے پر عدالت نے کوئی رائے نہیں دی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اس ضمن میں ہم تو نظرثانی کی دوسرے فریق سے امید کررہے تھے آپ ہم پر اعتبار کیوں نہیں کرتے؟ ہم نے بنیادی حقوق اور آئین کے تحفظ کا حلف لے رکھا ہے۔ کیا آپ کو بیان حلفی دیں تو آپ یقین کرینگے۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ ٹرائل کورٹ شواہد کی بنیاد پر ٹرائل کریگی اور آپ جے آئی ٹی پر جیسے چاہیں جرح کریں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے فیصلہ لکھنے میں کافی احتیاط سے کام لیا ہے۔ واضح رہے کہ 28جولائی کو عدالت عظمیٰ نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے کرپشن کیس کاحتمی فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعیدکھوسہ ،جسٹس اعجازالاحسن ،جسٹس گلزاراحمد،جسٹس افصل خان اورجسٹس شیخ عظمت سعید پرمشتمل پانچ رکنی لارجر بنچ کے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کرنے سے قبل ہی عدلیہ کو شدید حرف تنقید بنایاگیا اورسابق وزیراعظم نے جلسے ،جلوسوں اور ریلیوں کے ذریعے عدالت کو سرنگوں کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی یہ کاوش کامیاب قرار نہیں پائی گوکہ بعدازاں انہوں نے نظرثانی میں جانے کافیصلہ کیا وہ سب بے نتیجہ رہا۔ نوازشریف سپریم کورٹ کے فیصلے کو صدق دل سے قبول کرتے تو آج منظرنامہ کچھ اور ہوتا۔ عدالت جو بھی فیصلہ دیتی ہے وہ آئین اور قانون کے تناظر میں دیتی ہے لیکن صدافسوس کہ عدلیہ سے تصادم کی راہ اختیار کی گئی اور سابق وزیراعظم کے نادان مشیروں اور وزیروں نے معاملات کو سلجھانے میں کوئی لمحہ فروگزاشت نہیں کیا جس سے اداروں سے تصادم کی راہ خود ان کیلئے مشکلات کاباعث بنتی چلی گئی۔اب نظرثانی کی اپیلیں مسترد کردی گئی ہیں نوازشریف کو چاہیے کہ وہ اداروں سے تصادم کی بجائے احتساب عدالت کاسامنا کریں اور ان میں پیش ہوکر اپناقانونی دفاع کریں۔ اب احتساب عدالت کے پاس بھی موقع ہے کہ وہ اپنی جانبدارانہ روش کو دور کرنے کیلئے غیرجانبدارانہ رویہ اپنائے اورمیرٹ پرریفرنسز کو آگے بڑھائے اور عدالت عظمیٰ کے حکم کی پرعملدرآمد کو یقینی بنائے۔ نظرثانی کی اپیلیں مسترد ہونے کے بعد نوازشریف خاندان کیلئے مشکلات بڑھ گئی ہیں اب ان کو سیاسی تدبر، بصیرت اور دور اندیشی کاعملی مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ۔اداروں سے تصادم کسی بھی لحاظ سے جمہوریت اوران کیلئے درست نہیں ہے۔ عدالتی فیصلہ تسلیم کرلینا ہی بہتر قرارپاتا ہے اور یہی وقت کی ضرورت ہے احتساب سے بالاترکوئی نہیں بلاامتیاز احتسابی عمل ہی ملک سے کرپشن کاخاتمہ کرسکتاہے۔
پاکستان نے آزادی کپ اپنے نام کرلیا
پاکستان نے ورلڈ الیون کو آزادی کپ کے فیصلہ کن معرکے میں 33 رنز سے شکست دیکر سیریز دو ایک سے جیت لی۔ میزبان پاکستان ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 183 رنز سکور کیے تھے جواب میں مہمان ورلڈ الیون ٹیم8 وکٹوں پر 150 رنز بنا سکی۔ پاکستان کے احمد شہزاد کو فائنل میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ جیت کی خوشی میں لوگوں نے بھنگڑے ڈالے اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ آزادی کپ کے فائنل میچ کے دوران سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے۔پاک فوج، رینجرز اور پولیس نے میچ شروع ہونے سے کئی گھنٹے قبل گراونڈ کے اندر اور باہر پوزیشنیں سنبھال لی تھیں۔ پولیس کے25ایس پیز، 55ڈی ایس پیز، 120ایس ایچ اوز، 90ایلیٹ ٹیمیں اور 11ہزار پولیس اہلکارحفاظتی ڈیوٹی پر تعینات تھے۔ فضائی نگرانی بھی کی گئی۔ شائقین ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے رہے۔ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی پر پوری قوم خوش ہے۔پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں جس نے یہ ثابت کردیا ہے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے جہاں کھیل کے فروغ میں حکومت عملی طورپر کوشاں ہے۔حالیہ آزادی کپ کی جیت ہمارے لئے خوشی کاباعث ہے پاکستانی قوم اس جیت پر جہاں شادمان ہے وہاں کھلاڑیوں کی بہترین کارکردگی پر ان کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہے اور یہ توقع رکھتی ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم آئندہ بھی اس کامیابی کو برقرار رکھ کرپاکستان کے وقار اورعزت کو بلند کرنے میں کامیاب قرارپائے گی۔ورلڈکے کامیاب دورے سے دنیابھرمیں ایک اچھا پیغام گیا ہے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اس میں کسی قسم کی کوئی دہشت گردی نہیں اورانٹرنیشنل کھلاڑیوں کے جان ومال کی حفاظت کے خاطر خواہ انتظامات ہیں ۔دورے سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اب دیگرممالک کی ٹیمیں بھی پاکستان کا دورہ کرینگی کیونکہ پاکستان میں سیکیورٹی کے فعال انتظامات ہیں اور بیرونی کھلاڑیوں کو کسی قسم کاکوئی خطرہ لاحق نہیں ہے تمام خدشات حکومتی اقدامات سے دور کردیئے گئے ہیں جس کاواضح ثبوت حالیہ آزادی کپ کاانعقاد ہے۔