- الإعلانات -

بپھرتی ہوئی آزادی کی تحریکوں کا مرکزبھارت

گزشتہ70 برسوں سے نئی دہلی اسٹبلیشمنٹ کی سمجھ میں یہ نکتہ اپنی جگہ بنانے میں ناکام رہا کیونکرنئی دہلی کے بزرجمہرے ہمیشہ اپنے ہی تعمیر کردہ خیالی محلات میں مقید ہمہ وقت غلط اور گمراہ کن سوچوں کے اسیرچلے آرہے ہیں کہ وہ جب چاہتے ہیں لمحہ بھر میں اپنے لئے نخوت وتکبر کے خیالی محل کھڑا کرلیتے ہیں، مگر وہ حقیقی پْرامن مستقبل کے نام پر یکدم اور یکایک بغلیں جھانکنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں، اِس کی اصل وجوہ یہ ہے کہ نئی دہلی والے تصوراتی بلادستی کے زعم میں رہنے کے تقریباً عادی ہوچکے ہیں ‘رواں برس 2017 کے ماہ جون سے ماہ اگست کے دوران بھارتی قبضے سے اپنی جانیں چھڑانے والی ‘سیون سسٹرز ریاستوں’ میں کتنے بڑے بڑے المناک واقعات عالمی میڈیا میں اب تک رپورٹ ہوچکے، مگر نئی دہلی کی مقبوضہ جموں وکشمیر کی طرح سے ‘میں نہ مانوں’ کی رَٹ ہے جو یہاں بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ،نئی دہلی کے تخت نشین سمجھ رہے ہیں کہ دنیا کو کیا معلوم کہ دارجلنگ میں کیا ہورہا ہے؟منی پورمیں کتنے احتجاج ہوچکے ہیں؟ آسام میں اپنی آزادی کے لئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں پر بھارتی فوج اب تک کتنا ظلم وستم ڈھاچکی ہے؟ بوڈولینڈ’گورکھا لینڈ’تامل ناڈو’خالصتان’ہماچل پردیش اورتلینگاجیسی اہم ریاستوں سمیت مقبوضہ جموں کشمیر میں نئی دہلی کی زبردستی کی فوج کشی نے بھارت کو دنیا کے کس نچلے درجے کے مقام پر لاکھڑا کیا ہوا ہے کیا مودی نے اپنی الیکشن مہم کے دوران دار جلنگ گورکھا لینڈ کے عوام سے ووٹ مانگتے ہوئے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آکر گورکھا لینڈ کو مغربی بنگال سے علیحدہ کرکے خود مختار ریاست کا درجہ دینے میں ایک لمحہ نہیں لگائیں گے مگر وہ وعدہ ہی کیا جو نریندرامودی وفا کرئے اِس سے قبل 70 سال پہلے بھارت کے پہلے وزیر اعظم نہرو نے بھی تو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایسا ہی وعدہ کشمیریوں سے بھی کیا تھا؟ یہ ہے بھارتی لیڈروں کی فکری جبریت کی ایک بھیانک تاریخ جو بڑی سختی کے ساتھ اور تسلسل سے بھارتی حکمران کلب کے معاشرتی جبریت کو اپنے پنجے میں جکڑے ہوئے ہے، نریندرامودی کی کیا حیثیت اور اِس کے لارالپوں کے وعدوں کی کیا حیثیت ؟ آج ایک طرف اگر دارجلنگ جل رہا ہے اور وہاں نئی دہلی کی غاصب مرکزیت کوڈیڑھ کروڑ سے زائدعوام تسلیم نہیں کررہے ہیں تو تامل ناڈو’ہماچل پردیش’بوڈولینڈ سمیت بھارت سے مکمل علیحدگی چاہنے والی مزید کئی ریاستوں میں آجکل تواتر کے ساتھ اپنی نسلی آزادی کے لئے اب لوگوں نے نئی دہلی کے خلاف ہتھیار اْٹھانا شروع کردئیے ہیں، ایٹمی ڈیٹرنس کے حامل عالمی ممالک کی تنظیم کی رکنیت حاصل کرنے میں مرے جارہے بھارت کو پہلے اپنے آپ کو ‘ انسانی برداشت اور عالمی معروف جمہوری انصاف کے معیار پر ہرصورت لانا ہی ہوگا تبھی کہیں جاکر دنیا بھارت کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں آسکتی ہیں ؟ مگر یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ مسئلہِ کشمیر کے حساس اور اہم ایشو کو اگر’سنگین ایشو’ تسلیم ہی نہیں کرتا ،پاکستان کے خلاف اعلانیہ پراکسی سازشیں کرنا نہیں چھوڑتا، اپنے ملک کے بڑے ہونے کے دعوؤں میں نئی دہلی بھارت کے اندر جاری 47 سے زائد چھوٹی بڑی نسلی تحریکوں کی مانگ پر سنجیدگی نہیں دکھاتا توپھر جنابِ والہ! کیسے مان لیا جائے کہ بھارت میں حقیقی معنوں میں کوئی ‘جمہوریت’ رائج ہے ‘عظیم’ ہونا تو دورکی بات ہوئی نا؟دنیا کی نظریں فی الوقت جنوبی ایشیا کے مستقبل امن پربڑی سنجیدگی سے لگی ہوئی ہیں، ہمہ وقت پاکستان پر جھوٹے’بے سروپا اور من گھڑت الزامات لگانے کے عادی بھارت کی موجودہ کمزور’مایوس اور ناگفتہ بہ حالات کا ذرا اندازہ تو لگائیے کل تک نریندرامودی چیخ رہا تھا کہ وہ پاکستان کو دنیا بھر میں تنہا کردئے گا بدخواہی کا زہر بھارتی جنونی قائدین میں شروع دن سے بھرا ہوا ہے، وہ بھولے بیٹھے ہیں کہ’بدخواہی ایک ایسا زہر ہے، جس کا دوتہائی حصہ خود اْسی کو پینا پڑتا ہے جو وہ کسی دوسرے کے لئے اپنے ذہنوں میں پالتا ہے اور پھر بڑا زعم ہے نئی دہلی کوبڑے ملک ہونے کا جنوبی ایشیا میں بڑی طاقت اور بے پناہ اسلحہ رکھنے کا؟ سنا نہیں آپ نے ؟’جھوٹا انسان طاقت کے سامنے فوراً جھک جاتا ہے جبکہ حقیقی سچائی کی شناخت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ‘دلیل’ کے سامنے اپنا سرخم کرتی ہے، مقبوضہ جموں وکشمیر کی تحریکِ آزادی سے بھارت کے مختلف علاقوں میں چلنے والی 47 ریاستوں کی نئی دہلی سے علیحدگی و آزادی کی تحریکوں پر اگر سرسری سا جائزہ ہی ڈال لیا جائے، تو دنیا کو یہ تسلیم کرنے میں دور کی کوڑی لانے کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی کہ جنوبی ایشیا میں مستقل اور ہمیشہ کا امن قائم کرنے کے لئے عالمی طاقتوں کا اب یہ پہلا فر ض بن گیا ہے کہ وہ اپنے دیش کا جغرافیہ جتنا محدود ہوسکے جتنی جلد ممکن ہوسکے کرلے اپنے معززقارئین کو ہم یہاں پر یہ باور کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ بھارتی سیکورٹی اداروں کے تھنک ٹینکس 2017 میں بھی اپنی زندگی یوں بسر کررہے ہیں جیسے وہ 1947 کے عہد میں رہ رہے ہیں کئی نسلیں آئیں اور گزر گئیں پلوں کے نیچے سے کتنا پانی بہہ چکا؟ مگر اْن کا’ اکھنڈ بھارت راگ‘ تاحال جوں کا توں جاری ہے’نئی دہلی آج بھی ‘را’ جیسی کہنہ اور فرسودہ خفیہ ایجنسی کی چانکیائی پالیسیوں کو حرفِ آخر سمجھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر سے مغربی بنگال کے مختلف حصوں میں چلنے والی آزادی کی تحریکوں کو بھارتی فوج کی طاقت سے دبانے کی کوششوں میں آج بھی اپنی عافیت سمجھتی ہے؟ ذرا غور فرمائیں! 18 جون2017 سے تادمِ تحریر دارجلنگ میں ہونے والی زوردار اور کسی حد تک بڑے ہی پْرتشدد مظاہروں کے خوف سے نئی دہلی کے حکم پر مغربی بنگال سے علیحدہ ہونے والی تقریباً تمام ریاستوں میں انٹرنیٹ سروسنز پر پابندی لگی ہوئی ہے، انگریز سامراج کا وہی پرانا گھسا پٹا اور فرسودہ طریقہ نئی دہلی ‘بھارتی مرکز گریز’ علاقوں میں آزما رہی ہے، گورکھا لینڈ تحریک کوآرڈی نیشن کمیٹی کے ممبران کو توڑنے کی ناکام کوششیں’ لالچ دینے کی گھٹیا کوششیں؟ لیکن بھی ہر جگہ ناکامی نئی دہلی کا مقدر بنی ہوئی اْس کا منہ چڑارہی ہے، قارئین کو یہ بھی بتادیں کہ گورکھا لینڈ کی نئی دہلی سے مکمل علیحدگی کی مانگ 1907 ‘ 1929′ 1941’1952’اور1984 سے آج تک اْسی جوش وخروش سے جاری ہے اِس حوالے سے چونکہ اہلِ وطن زیادہ نہیں جانتے لہٰذاء یہی سوچ کر آج اِس اہم معاملے پر حساس ایشو پر ہم نے اپنا قلم اْٹھایا بھارت کے مغرب میں نئی دہلی سے آزادی کی تحریکوں کو تین حصوں میں منقسم کرکے دیکھیں آسام’ کشمیر اورجنوبی ہند کی تحریکیں اور اِدھر خالصتان اِن کی وجوہات خالص انسانی سماجی اور معاشی انصاف کی مانگوں کے’مطالبوں پر رکھی گئی ہیں ماؤنوازتحریک کواورشمال مشرقی ریاستوں میں لسانی اورمذہبی بنیادوں پرآزادانہ نقل وحرکت کی ناکہ بندیوں نے اِن تحریکوں کو مزید بے قابوکرنے میں جلتی پر تیل کا کام کیا ہے’نکسل باڑی تحریک اور ماؤنوازؤں نے توگزشتہ برسوں میں جنونی ہندوتوا کے غنڈوں کی بڑی پٹائی کی تھی یقیناًہمارے قارئین حیران ضرور ہونگے کہ بھارت کے40 فی صد حصے پرنئی دہلی کی آئینی اتھارٹی نام کی کوئی چیز کسی کو دکھائی نہیں دیتی اْن علاقوں پر آجکل ماؤنوازوں کے سرخ پرچم ہر کسی کو لہراتے ہوئے نظرآئیں گے’سیون سیسٹرز ریاستوں کی آزادی’ آج کے بھارت دیش کا مقبولِ عام عوامی نعرہ بن چکا ہے ہاں مگر کوئی کسی بھول میں نہ رہے وہ اِس لیئے کہ کبھی بھی بھارت میں جاری آزادی کی یہ تحریکیں’متشدد بغاوت’کا روپ دھار سکتی ہیں، پھرامریکا اور اسرائیل بھی بھارت دیش کی’نام نہاد یونین شپ’کو بچا نہیں پائیں گے۔