- الإعلانات -

حلقہ120

لاہور میاں محمد نوازشریف کی نااہلی کی وجہ سے خالی ہونے والی سیٹ پر الیکشن ہواسابق خاتون اول اپنے شوہر کی خالی ہونے والی سیٹ پر امیدوار تھیں جبکہ ان کے مقابلہ میں ڈاکٹر یاسمین راشد بھی اپنے آبائی حلقہ سے امیدوار میدان میں آئیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کو سابق وزیراعظم نے شکست سے دوچار کیاتھا! ۔مگر ڈاکٹر یا سمین راشد کا سابق وزیر اعظم سے مقابلہ کرنا ان کی دلیری کی زندہ مثال ہے۔ حلقہ 120 لاہور میں بیمار کلثوم نواز امیدوار بنتے ہی ملک سے باہر چلی گئیں اور ان کی انتخابی مہم ان کی صاحبزادی مریم صفدرچلا کر اپنے آپ کو مسلم لیگی لیڈر بنانے بلکہ نواز شریف کی جانشین بنانے میں کامیاب ہوتی دکھائی دی ۔ لاہورکا حلقہ 120 میں الیکشن ضرور بیگم کلثوم نواز کو جانتاہے ۔ اولاً ان کا آبائی حلقہ ہے دوئم اس سیٹ پر کلثوم کا شوہر نواز شریف 2013 کے الیکشن میں پچاس ہزار کی برتری سے جیتا تھا سوم لاہور میں مسلم لیگ اور حکومت کا کنٹرول ہے یہاں ترقیاتی کام مقامی لوگوں کو ملازمتیں اور رعاتیں بھی حکومت وقت دیکر ان کو حاصل کرتی ہے شہباز شریف کی حکومت پنجاب کی حمایت بھی کلثوم نواز کو حاصل تھی ۔ پنجم مریم نواز سابق وزیراعظم کی بیٹی پہلے کبھی اس قدر عوام کے قریب نہ آئی تھی! اب گلی گلی اور محلہ محلہ سلام کر رہی ہے۔ ششم ڈاکٹر یاسمین راشد بزرگ خاتون ہیں ان کا مقابلہ کرنا ہی ان کی جیت ہے مریم باپ کی نااہلی کی فریاد کررہی ہے ماں کی بیماری کا دکھ بیان کر رہی ہے اور جوان بھائیوں کی حلقہ میں عدم دلچسپی کا غم بھی وہ کبھی کبھار بیان کرتی رہی! مریم شہزادی نے ماحول افسوس اور غم کا بنا لیا ہے اس کا فائدہ بھی اسے پہنچنا ۔ہرزوایہ سے الیکشن مریم نواز کی جیت کی خبر دیتا رہا یقیناًمرکز اور صوبہ میں جن لوگوں کی حکومت ہو ان کے حلقہ میں ضمنی الیکشن ہو۔ وہاں ضرورترقیاتی کام بھی ہوئے ہونگے علاقے کے لوگوں کو نوازابھی گیا ہوگا۔ یہ سب کچھ اس بات کی عکاسی کرتا رہا کہ حلقہ 120 سے حکومتی امیدوار بیمار بیگم کلثوم نواز ہر صورت فتح سے ہمکنار ہوں گی۔ سناہے کہ مولانا عبدالستار خان نیازی جس نے عمران خان کو سیاست مین حصہ لینے کیلئے تیار کیاتھا۔ ان کی جماعت نے پیر اعجاز کی قیادت میں مریم نواز کی مہم کا حصہ بنی اور کلثوم نواز کی جیت کیلئے حصہ ڈالا۔ حالانکہ مولانا عبدالستار خان نیازی زندہ ہوتے تو وہ کسی بھی صورت عمران خان کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھاتے اور سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر خزانہ اسحق ڈار پر الزامات لگائے کہ وہ عدلیہ کے خلاف مہم چلا کر عدالت کو بدنام کررہے ہیں اور جیسا کروگے ویسا بھروگے کا بیان دیکر عدالت عظمیٰ میں شریف خاندان کے خلاف کیسوں کی لائن لگنے والی ہے ۔ حلقہ 120 میں اپوزیشن پارٹیوں نے اتفاق سے امیدوار نہ لاکر حکومت کیلئے آسانی پیدا کی! اگر حکومت کے مقابلے میں اتحاد کا امیدوار لایا ہوتا تو حکومت کیلئے یہ سخت مقابلہ ہوتا۔ اگر لاہور کے جوانوں حق پرستوں ، مظلوموں اور محروموں نے حکومت وقت کے خلاف عمران خان کی پر لیبک کرتے ہوئے میدان میں اترنے کا فیصلہ کرتے توحکومت کی بیمار امیدوار مشکل سے دوچار ہوسکتی تھیں عمران خان جلسے نہ کرتے ۔ جلوس نہ نکالتے صرف حلقہ کے لوگوں کے پاس گلی گلی چکر لگالیتے ووٹ نہ مانگتے صرف ملاقاتیں کرتے تو ڈاکٹر یاسمین راشد کے حق میں استوار ہو جاتی ! مگر عمران خان کے حواری اس کے پاس بیٹھے ا فراد کی تربیت کون کرے۔
*****