- الإعلانات -

اداروں سے تصادم جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں

وزیرداخلہ احسن اقبال کی پریس کانفرنس نے ایک بار پھر سیاسی افق پر ہلچل مچادی ہے اوراس کی تہلکہ خیزی کا یہ عالم ہے کہ یہ ہرکس وناکس کیلئے بحث موضوع بنی ہوئی ہے۔اس پریس کانفرنس میں اداروں پرمداخلت اوردباؤ کاالزام عائد کیاگیا ہے اور کہاگیا ہے کہ نیب کو کسی جگہ بلاکربااثرلوگوں کی طرف سے حدیبیہ کیس کھولنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا چیف جسٹس آف پاکستان اس کانوٹس لیں۔وزیرداخلہ نے کہاکہ آئین میں ہر ادارے کی اپنی حدود ہیں اس وقت پاکستان کو بین الاقوامی سازشوں کا سامنا ہے، نواز شریف کو ایک سازش کے تحت ہٹایا گیا ہے۔ ایک ایسے وقت جب ہم نے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ہے، کراچی سکون کی طرف بڑھ رہا ہے، بلوچستان کی صورت حال آپ کے سامنے ہے، ترقیاتی منصوبے تکمیل کی طرف بڑھ رہے ہیں، زر مبادلہ کے ذخائر 22 ارب ڈالر ہو چکے ہیں۔ سی پیک جیسا منصوبہ تکمیل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس میں نواز شریف کو شاباش ملنی چاہئے لیکن انہیں ایک سازش کے تحت ہٹایا گیا۔ چار سال پہلے 20گھنٹے بجلی نہیں آتی تھی آج 20گھنٹے آ رہی ہے چار سال میں10ہزار میگا واٹ بجلی کا بندوبست کیا گیا جو بچوں کا کھیل نہیں تھا۔ نوازشریف کی قیادت میں ان کی کابینہ نے نا ممکن کو ممکن کر دکھایا۔ بجلی میں اضافے سے پیداوار بڑھی اور ہمارا جی ڈی پی پانچ اعشاریہ تین حاصل ہوا۔ یہ صدی سیاست کی صدی نہیں بلکہ اقتصادیات کی صدی ہے اب یہاں جی سیون اور جی ٹونٹی بلاک ہیں۔ مضبوط معیشت کے لئے سیاسی استحکام آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے۔ نواز شریف کے پاکستان کو ترقی کے راستے پر ڈالنے سے دشمن نالاں تھے ۔ وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان امداد لینے والے ملک سے امداد دینے والا ملک بن جائے۔ سوویت یونین کسی جنگ کے نتیجے میں نہیں ٹوٹا بلکہ اندرونی عدم استحکام نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کیا۔پاکستان کے خلاف بھی یہی سازش کی جا رہی ہے تا کہ عدم استحکام پیدا کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئین کے مطابق اداروں کی مضبوطی پر یقین رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے ہم نے عدلیہ بحالی کی تحریک چلائی۔ اب جبکہ ہمارے خلاف جیسے بھی فیصلے آئے ہم نے قبول کئے لیکن ہمارے تحفظات موجود ہیں۔ صرف ہمارے ہی تحفظات نہیں ہیں ان فیصلوں پر چوٹی کے آئینی قانونی ماہرین اور عوام کو بھی تحفظات ہیں۔ لاکھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 10اے ہر شہری کو حق دیتا ہے کہ اس کا فیئر ٹرائل ہو گا، ڈیو پراسس اس کا حق ہے۔ اپیل بنیادی حق ہے لیکن منتخب وزیراعظم کو ایسی شق کے تحت بر طرف کیا گیا جس میں اپیل کا حق بھی نہیں ہے۔ ملک میں مارشل لاتو نہیں ہے آئین کی حکمرانی ہے۔ ہم اس ادارے پر ایسی بات نہیں کر سکتے جو ادب و احترام سے باہر ہو تا تمیزالدین کیس، بھٹو کیس، نصرت بھٹو کیس، ظفر علی کیس سپریم کورٹ کے ایسے فیصلے ہیں جن کی نظیر آج کی سپریم کورٹ بھی دیتے ہوئے ہچکچاتی ہے۔ ہمارا گمان ہے کہ نواز شریف والا کیس ان ہی کیسوں کی صف میں شامل ہو گیا ہے۔ نواز شریف کیس کے بارے میں تاریخ مختلف نقطہ نظر دے گی۔ ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں، آئین کے تحت عدلیہ کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پندرہ سولہ سال پچھلے کیسوں کو کھولنے کی روایت سے عوام انار کی کی طرف بڑھیں گے۔ پھر کوئی قانون نہیں ہو گا کوئی سزا سزا نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا پاکستان کی پارلیمنٹ یتیم ادارہ نہیں 20کروڑ عوام کے اعتماد کی مظہر ہے۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ پارلیمنٹ کو بے وقعت کیا جا رہا ہے ان اداروں کو پارلیمان میں زیر بحث لائیں گے۔ پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت جس میں عوام کی حاکمیت کو بالا دست تصور کیا گیا ہے اس کو چیلنج کیا جائے گا تو جمہوریت کی بنیاد کمزور ہو گی یہ ہمارے لئے قابل قبول نہیں۔ ایک طرف وہ شخص ہے جو قانون کے ساتھ تعاون کر رہا ہے نہ صرف خود عدالت میں پیش ہوا بلکہ تین نسلوں کو حساب کے لئے پیش کیا۔ کرپٹ حکمرانوں کے ہاتھوں ملک کے خزانے خالی ہوتے ہیں بھرے نہیں ہوتے۔ پاکستان کے منتخب وزیر اعظم کو اپیل کا حق نہیں دیا گیا۔ سب نے دیکھا وزیر اعظم کے ساتھ کیا ہوا؟۔ ایسا تو مارشل لاکے ادوار میں بھی نہیں ہوا۔ اس فیصلے نے نئی نظیر قائم کی ہے۔جے آئی ٹی ارکان کا انتخاب بھی تنازع کا شکار رہا۔ پہلی بار عدالتی کاموں کیلئے واٹس ایپ کالز کا استعمال کیا گیا۔ پاکستان ایک پارلیمنٹری جمہوریت ہے۔ پارلیمنٹ کو بے وقعت کیا جا رہا ہے۔یہ عدالتی فیصلہ پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین فیصلہ ہے 1400 سے 1600 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ کچھ ادارے پارلیمنٹ کا حق غصب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔وزیرداخلہ کی پریس کانفرنس دور اندیشی اورتدبر کا آئینہ دار دکھائی نہیں دیتی اگر وہ وضاحت کردیتے کہ وہ بااثر شخصیات کونسی ہیں اور کون سازش کررہاہے توعدالت عظمیٰ کو انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں آسانی رہتی۔ لیکن صد افسوس کہ نوازشریف کیخلاف پانامہ کیس کافیصلہ اور بعدازاں اپیلوں کااخراج (ن)لیگ پرگراں گزرا ہے اور وہ ابھی تک عدالت عظمیٰ اور دیگر اداروں کو حرف تنقید بنائے ہوئے ہے۔اداروں سے تصادم کسی لحاظ سے بھی جمہوریت کیلئے نیک شگون قرارنہیں پاتا۔نواز شریف خاندان کوچاہیے کہ وہ خود کو نیب عدالت میں پیش کریں اور قانون وآئین کی پاسداری کریں کیونکہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں عدالتیں آئین کی روشنی میں فیصلہ کرتی ہیں ان کو قبول کرلینا ہی وسیع النظری ہے۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اداروں سے تصادم کا راستہ اختیارکرناہی سیاسی کامیابی گردانتے ہیں حالانکہ یہ راستہ کانٹے دار ہے اورجمہوریت کیلئے نقصان دہ ہے۔اب بھی وقت ہے کہ موجودہ حکومت نوازشریف کی پالیسیوں کو جاری رکھے لیکن اداروں پراس طرح کے الزام عائد نہ کرے۔
بھارت سند ھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرے
پاکستان اوربھارت کے درمیان آبی تنازعہ پرمذاکرات کی ناکامی دونوں ملکوں کیلئے نیک شگون نہیں بھارتی جارحیت اورہٹ دھرمی ہربار مسائل کے ادراک میں رکاوٹ کاباعث بنتی ہے۔ واشنگٹن ڈیسی میں ورلڈ بنک ہیڈ کوارٹرز میں پاکستان اور بھارت کے وفود کی ملاقات ہوئی دو روزہ مذاکرات میں بھارت کشن گنگا، راتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کی تعمیر پر پاکستان کے تحفظات دور نہ کرسکا۔ پاکستان نے معاہدے کے تحت عالمی بینک سے ثالثی کورٹ کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری واٹر ریسورس ڈویژن عارف احمد نے کی۔ بھارت ہٹ دھرمی سے باز نہ آیا اور آبی تنازعہ حل کرنے کیلئے پیش کئے گئے ایک بھی آپشن پر اتفاق نہیں کیا ۔ عالمی ادارہ اس لئے لگاتار اس معاملے میں ثالثی کررہا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ اس معاہدے میں کوئی کمزوری آئے۔دونوں ممالک میں یکم اگست کو مذاکرات کا دور ہوا تھا۔ اس موقع پر جبکہ عالمی بینک نے واضح کیا تھا کہ وہ کسی بھی قسم کے متنازع منصوبے پر سرمایہ کاری نہیں کر رہا۔آبی مذاکرات کے بعد عالمی بینک کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ ورلڈ بنک معاملے کے دوستانہ حل کیلئے دونوں ملکوں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔ اعلامیے میں عالمی بنک نے دونوں ملکوں کے مذاکرات کو سراہا اور سندھ طاس معاہدے کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ورلڈ بنک مکمل غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے مطابق ذمہ داری نبھانے کا عزم کئے ہوئے ہے۔بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی سے بازرہے بھارتی آبی جارحیت سے خطے میں تناؤپیدا ہورہاہے۔عالمی بنک کو چاہیے کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کیلئے بھارت پراپنادباؤ بڑھائے تاکہ دونوں ملکوں میں آبی تنازع پرامن طریقے سے حل ہوپائے