- الإعلانات -

پولیس ایکٹ میں اصلاحات کی ضرورت

uzair-column

وفاقی دارالحکومت کے باسیوں کیلئے اتوار کاروز کوئی خوشگوار ثابت نہ ہوا ۔عجیب بے بسی کا عالم ہے ،رات گئے تھانہ سبزی منڈی کی چوکی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی جس سے ایک اہلکارزخمی ہوگیا ۔اس کے ساتھ ہی کراچی میں ایک باپ نے اپنی گیارہ ماہ کی بچی کو ٹھوکریں مار مار کر قتل کردیا۔یہ اتنی اندوہناک خبر ہے کہ جس کو سننے کے بعد دماغ قطعی طور پر ماﺅف ہوجاتا ہے کہ آخر کار اس ننھے معصوم فرشتے کا کیا قصور تھا کس طرح اس ظالم باپ نے اس معصوم بچی کو ٹھوکریں مار مار لب دم کردیا ہوگا اورپھر آخر کار وہ اپنی جان بھی گنوابیٹھی ۔بات اسلام آباد کے حوالے سے ہورہی تھی یہاں ایک ایسا دلخراش وقوعہ رونما ہوا جس کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے قبل زبان گنگ ہوجاتی ہے ۔ایک تیرہ سالہ معصوم بچے کو اغواءکیا گیا اور پھر اغواءکاروں نے مغوی کے بدلے 80لاکھ روپیہ تاوان طلب کیا جب تاوان کے حوالے سے والدین نے کچھ بندوبست کیا وقوعہ کی جگہ پر گئے تو وہاں دیکھا قبرستان میں اس ننھے فرشتے کی نعش پڑی ہوئی تھی جسے دیکھ کر ہر ذی شعور کی آنکھ نم ہوگئی ۔صرف مجرموں نے تاوان ہی نہیں مانگا بلکہ وہ انسانی درندے بھی بن گئے گو کہ پولیس ان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مار رہی ہے مگر آخری اطلاعات آنے تک کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی ۔ابھی گذشتہ دنوں ایک اور ایسا واقعہ درپیش آیا تھا جہاں پر سی ایس ایس کرنے والی طالبہ تیسری منزل سے گر کرجاں بحق ہوگئی ۔بعد میں یہ پتہ چلا کہ وہ اپنے ایک دوست کے ہمراہ سی ایس ایس امتحان کی تیاری کررہی تھی کہ اسی دوران اس کے دوست کے اندر ایک بھیڑیا جاگ اٹھا اور اس نے اسے دھکا دیکر عمارت سے نیچے پھینک دیا جس سے وہ جاں بحق ہوگئی ۔اوپر تلے وفاقی دارالحکومت میں اتنے زیادہ وقوعات کا درپیش آنا انتہائی اہمیت کی حامل بات ہے کہ جہاں پورے ملک کے بارے میں اہم ترین فیصلے ہوتے ہوں ،قانون سازی ہوتی ہو،تمام سیاست کے اسرار ورموز یہیں پر طے پاتے ہوں ،سیکورٹی اتنی سخت ہو کہ کوئی پرندہ پر بھی نہ مار سکے پھر اس طرح کے واقعات ہونا کس بات کی غمازی کرتے ہیں کیا یہ انتظامیہ کی نااہلی ہے یا پولیس اپنے فرائض سے غافل ہوچکی ہے ۔پولیس تو شروع ہی سے بدنام رہی ،چونکہ یہ لوگ اپنے فرائض کی انجام دہی میں کبھی بھی پورے نہیں اترسکے اور جب کوئی الزامات عائد ہوتے ہیں تو پھر یہ اپنی دیگر معاملات کا رونا پیٹنا ڈال دیتے ہیں۔کبھی ان کے پاس اسلحہ نہیں ہوتاتو کبھی ان کے پاس گاڑیاں نہیں ہوتیں،کبھی پٹرول نہیں ہوتا،ایسی ایسی تاویلات پیش کرتے ہیں جس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ محکمہ پولیس ایک محکمہ نہیں بلکہ کوئی یتیم خانہ ہے ۔وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کو چاہیے کہ وہ فی الفور ایسے رونما ہونے والے وقوعات کے بارے میں سخت ایکشن لیں اور یہ احکامات جاری کریں کہ جس بھی تھانیدار کے علاقے میں ایسے ہولناک واقعات درپیش آئیں اس ایس ایچ او کو قرار واقعی سزا دی جائے گی ۔گو کہ کمسن بچے کے قتل کے حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب کے فوری طور پر نوٹس لے لیا ہے مگر ان نوٹسز لینے سے تو مسائل حل نہیں ہوسکتے ۔ان والدین کا پیارا سا بچہ کبھی واپس نہیں آسکتا ۔جو ان کی زندگی میں کمی آچکی ہے اسے پورا نہیں کیا جاسکتا ۔کہیں دور پار سے بیٹھ کر نوٹس لے لینا اور رپورٹ طلب کرلینا ان اقدامات سے تو انصاف نہیں مل سکتا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت پنجاب اس وقوعہ کے بعد فوری طور پر ایک ڈائریکٹو نکالتی اور آئی جی کو طلب کرکے یہ کہتی کہ چوبیس گھنٹے کے اندر اندرملزمان درکار ہیں ۔ورنہ آپ کی پیٹی اورٹوپی اتار دی جائے گی اور پھر آئی جی صاحب متعلقہ سی پی او طلب کرتے ،سی پی او ایس پی کو طلب کرتا،ایس پی ڈی ایس پی کو طلب کرتا اور پھر ڈی ایس پی ایس ایچ او کو پابند کرتا کہ انتہائی سخت احکامات آئے ہیں اگر ملزمان نہ پکڑے گئے تو ہم سب فارغ ہوجائیں گے پھر دیکھا جاتا کہ یہ کس طرح ملزمان کو تلاش کرتے کیونکہ انہیں معلوم ہوتا کہ اگر اس میں کوئی تاخیر برتی گئی تو ان کی نوکریاں اورپینشن ضبط کرلی جائے گی یا کم از کم حکومت پنجاب اوروفاق ایک ایسا قانون پاس کرے جس کے ذریعے اگر کسی بھی تھانیدار کے علاقے میں کوئی ایسا ہولناک واقعہ پیش آئے تو اس کو کم از کم سزا اور پینشن ضبطگی ہوجائے ۔پھر علاقوں میں جرائم خود بخود ختم ہوجائیں گے ۔مگر یہاں کا تو نظام ہی نرالا ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق غریب کیلئے کوئی ایسا دروازہ نہیں جس کو وہ کھٹکھٹائے اور اس کی آواز کو سنا جاسکے ۔اگر اسی طرح کے حالات رہے تو قوم تنگ آمد بجنگ آمد ہوجائے گی ۔آئے دن کے جرائم کی وجہ سے عوام اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرنا شروع ہوگئی ہے لہذا انہیں تحفظ فراہم کرنے کیلئے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہونگے ۔