- الإعلانات -

جل گئے تو کیا ہوا

تصور کریں کہ آپ موٹروے پر سفر کرہے ہیں ، دو بچے بھی آپ کے ساتھ ہیں ، ایک بیٹی اور ایک بیٹا ،فرض کریں کہ بیٹی کانام ایشافاطمہ ہے اور اس کی عمر اڑھائی سال ہے ، بیٹے کانام محمد حسین ہے اور اس کی عمر ایک سال ہے ، بیٹی آپ کی گود میں سر رکھے آرام سے سو رہی ہے اور بیٹاماں کی گود میں ہے،لمبے سفر سے آپ تھک چکے ہیں لیکن بیٹے اوربیٹی کے آرام کی خاطر پہلو بھی نہیں بدلتے،آپ ان کو دیکھتے ہیں اور وہ آپ کو، ان کے ہونٹوں پر معصومانہ سی مسکراہٹ دیکھ کر آپ بھی بے اختیار مسکرا پڑتے ہیں ، تبسم کا یہ تبادلہ اور نظارہ آپ کی تھکان دور کردیتا ہے ، بیٹا ، بیٹی ، تھکان ، مستقبل ، مسکراہٹ اور منزل کی آنکھ مچولی جاری رہتی ہے ، آپ کی نظر روڈکنارے لگے ایک بورڈ پر پڑتی ہے ، بورڈ دیکھ کر پتا چلتا ہے کہ آپ چکری انٹرچینج کے قریب پہنچنے والے ہیں ، آپ شکر کرتے ہیں کہ منزل قریب ہے اور سفر سے نجات ملنے والی ہے ، آپ کی گاڑی سے آگے سیمنٹ سے لدا ایک ٹریلر جارہا ہے ، اچانک آپ محسوس کرتے ہیں کہ گاڑی گولی کی طرح ٹریلر کی طرف جارہی ہے ،ایسا لگ رہا ہے جیسے ڈرائیور اپنا کنٹرول کھوچکا ہے ، گاڑی لمحہ بہ لمحہ ٹریلر کی طرف جا رہی ہے ، مسافروں کو اپنا انجام نظر آنے لگتا ہے ، وہ زور زور سے چیخنے لگتے ہیں ، چیخنے چلانے اور رونے دھونے کی آوازیں سن کر آپ کی بیٹی بھی اٹھ کر رونے لگتی ہے ،آپ اسے سینے سے لگا لیتے ہیں ، دوسری طرف آپ کی بیوی نے بھی بیٹے کو اپنے آنچل میں چھپالیا ہے، گاڑی آگے جانے والے ٹریلر سے ٹکرانے والی ہے ، مارے خوف کے آپ آنکھیں بند کرلیتے ہیں ، اچانک ایک دھماکا (اردو قواعد کے اعتبار سے ’’دھماکہ‘‘ لکھنا غلط ہے)ہوتا ہے ، ایک لمحے کے لیے رونا دھونا چیخناچلانا بند ہوجاتا ہے ، کچھ لوگ بے ہوش ہو چکے ہیں ، لگتا ہے کائنات رک گئی ہے ، لیکن یہ احساس کچھ لمحات کا ہوتا ہے ، اس کے بعد آپ کے احساسات بحال ہوتے ہیں تو پتاچلتاہے کہ گاڑی پچک چکی ہے ، لوگ ادھر ادھر پھنسے ہوئے ہیں ، کسی کی ٹانگ ٹوٹ چکی ہے ، کسی کا بازو اور کسی کی پسلیاں ، نفسا نفسی کا عالم ہے ، جو زندہ ہیں اورہوش میں بھی ہیں وہ باہر نکلنے کی کوشش کرہے ہیں، اسی دوران آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ گاڑی آگ کی لپیٹ میں آچکی ہے ،آگ اور دھویں کی بڑھتی شدت دیکھ کر مسافروں کی چیخیں آسمان کا سینہ چیر رہی ہیں ، انہی چیخوں میں دو آوازیں منفرد سی لگ رہی ہیں ، آپ غورکرتے ہیں تو محسوس ہوتے ہیں کہ یہ تو آپ کی ایشا اور حسین کی آوازیں ہیں ، جب گاڑی ٹکرائی تھی تو جھٹکا اتنی شدت کا تھا کہ وہ دونوں آپ کو گودوں سے نکل کر کہیں گرگئے تھے ، ماں بیہوشی کے عالم میں بے سدھ سیٹ پر پڑی ہے ، آپ بچوں کو بچانے کے لیے اٹھنے کی کوشش کرتے ہیں توپتا چلتا ہے کہ ٹانگیں سیٹوں کے درمیان بری طرح پھنس چکی ہیں ، اپنی جگہ سے ہلناجلنا ناممکن ہے ، اب آگ ساری گاڑی کولپیٹ میں لے چکی ہے ، لوگ آگ میں جلنا شروع ہو چکے ہیں ، گوشت کی سڑانڈ واضح طورپر محسوس کی جاسکتی ہے ، آپ کی ایشااورحسین آپ کی نظروں کے سامنے جل رہے ہیں ، ننھی کلیاں ، ان کا جلنا ، ان کی چیخیں ، ماں باپ کو تلاشتی نظریں ، معصوم وجودوں کا تپش سے پگھل کر بہنا،آپ کی بے بسی ، اوپر سے خود کو لگی آگ ، بس یہ سب کچھ برداشت سے باہرہے ،پھر ذہن پر اندھیراچھاجاتا ہے اورآپ ہر ایک احساس سے آزاد ہوجاتے ہیں۔
یہ تصوراتی منظر نہیں بلکہ ایک حقیقی حادثہ ہے جو اسی ہفتے جھنگ سے راولپنڈی آنے والی گاڑی نمبرLZT-12MMکے ساتھ پیش آیا ،مسافر زندہ جل گئے لیکن ہماری بے حسی دیکھیں کہ ان کی لاشیں حدودکے تعین میں ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال رُلتی رہیں،اس چیز نے ہماری انسانیت کا پول کھول دیا ہے ، تھانوں کی حدودمیں ذلیل ہوتی لاشوں کا سنا تھا لیکن کیا ایک ڈاکٹر اور تھانیدار میں کوئی فرق نہیں ؟اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم اتنے کاہل اور سست واقع ہوئے ہیں کہ لاشوں کے سلسلے میں ایک گھنٹے کی کاغذی کارروائی کرکے لاشیں ورثاء کے حوالے کرنا بھی ہمیں بوجھ لگتا ہے ،قوم نے اسے ایک خبر کے طور پر سنا ،دیکھا،افسوس کیا اور بس ، لیکن یہ سب کچھ اگر آپ کے ساتھ ہواہوتا تو آپ کے احساسات کیا ہوتے ؟ ایسے کتنے ہی واقعات ہوئے لیکن دودن کی خبر اور پانچ دن کے افسوس کے سوا کچھ نہ ہوا، یہاں کچھ کام حکومت کے کرنے کے ہیں اور کچھ عوام کے ، اگردونوں اپنااپنا کام کرلیں تو روڈحادثات کی کمی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ، اطلاعات کے مطابق اس بدقسمت وین کا ڈرائیور بھی سوگیا تھا ،ڈرائیور حضرات اس لیے سوجاتے ہیں کیونکہ اوورورکنگ کی وجہ ان کی نیند پوری نہیں ہوتی ، گاڑی مالکان نے عموما ایک ہی ڈرائیور رکھا ہوتا ہے ،وہ اسی سے دن رات کام لیتے ہیں ، روٹ پر آنا، جانااورپھربے وقتی بکنگ ، اس سب سے ان کی نیند پوری نہیں ہوتی اوریوں حادثے مقدربن جاتے ہیں ، حکومت کو چاہیے کہ لمبے روٹ والی والی گاڑیوں کودوڈرائیورز کا پابندکیا جائے ،Up کے لیے الگ اور Down کے لیے الگ تاکہ ان کی نیند پوری ہو ، موٹروے پر انٹری کے دوران ہر گاڑی کو ہفتہ وار مینٹی نینس کلیرنس سرٹیفکیٹ دکھانے کا پابند کیا جائے ،روڈ پر مناسب فاصلہ دے کر ایمرجینسی اورریسکیو سنٹر قائم کردیے جائیں تا کہ جائے حادثہ پر جانے میں زیادہ وقت نہ لگے ،ڈرائیورحضرات کے لیے مہینا(مہینہ لکھنا غلط ہے) وارمیڈیکل چیک اپ لازمی قراردیا جائے ، گاڑی، بالخصوص فرنٹ سیٹ پر سونے سے گریزکرنا چاہیے ، مسافروں اورخصوصافرنٹ سیٹ بیٹھے بندے کوڈرائیورپر نظر رکھنی چاہیے ،اگر اس پر نیند غالب ہورہی ہو توگاڑی رکوا دینی چاہیے ،حکومت سے شکوہ بجا لیکن ہم اپنے کرنے کے معمولی کام بھی نہیں کرسکتے ، گاڑی میں بیٹھتے ہیں،سوجاتے ہیں یا کانوں میں ایئرفون لگاکرگانے سننے میں مدہوش ہوجاتے ہیں اورہوش تب آتاہے جب مائیں بہنیں بین کررہی ہوتی ہیں ۔