- الإعلانات -

پاکستان اور اپنوں پرایوں کی پالیسیاں

کہتے ہیں کہ ضعیفی مرگ مفاجات کو دعوت دیتی اگر ہم بحیثیت قوم یکمشت ہو کر کھڑے ہو جائیں اور اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے اپنے لئے مواقع پیدا کریں کسی سے نہ مانگیں تو کسی کی جرات نہیں کہ ہمیں کوئی حکم دے اور ڈومور کا مطالبہ کرے ہمارے حکمرانوں کی کمزوری ہی نقدی رہی ہے تو اپنے وسائل بروئے کار لانے انہیں ترقی دینیکی بجائے نقد امداد بطور قرض لے لیتے ہیں تو جو قرض دیتے ہیں اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ آپ مستقل بھکاری ہی رہیں ہمارے قائد اعظم اور قائد ملت کے بعد جو بھی آیا اس نے خود کو انگریز کی طرح حاکم مطلق سمجھا اور باقی عوام کو رعایہ اور بس، جب تک رہا صرف اور صرف حکومت کی اور خود کو بادشاہ سمجھا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے کسی ایک حکمران نے بھی اس ملک کو اپنا اور اپنے بچوں کا ملک نہیں سمجھا اگر ملک میں کچھ ترقیاتی کام کروائے بھی تو محض قرضوں کی خاطر تاکہ رج کے کمیشن کھایا جائے اور اسے اپنی آئندہ نسلوں کیلئے بیرون ملک محفوظ کر دیا جائے باقی پروٹوکول ہٹو بچو اور زندگی کا لطف لیا جائے رہی قوم تو جائے بھاڑ میں حکمرانوں کا وطیرہ رہا ہے کہ یہ ملک شکار گاہ ہے آؤ شکار کرو اور پھوٹ لو جب تک چلتا ہے چلائی رکھو ہمیں ایک مشہور کہانی یاد آرہی ہے کہ کسی ملک کا بادشاہ مر گیا جس کی کوئی اولاد نہیں تھی اب مشکل یہ پیش آئی کہ اگلا بادشاہ کون ہوگا فیصلہ ہوا کہ صبح جب شہر کی فصیل کا دروازہ کھولیں گے جو بھی پہلا شخص شہر میں داخل ہوگا وہی ہمارا بادشاہ ہوگا صبح دروازہ کھلا تو پہلا شخص داخل ہوا وہ بندر نچا کر روزی کمانے والا بھکاری تھا لوگوں نے کندھوں پر اٹھا لیا بادشاہ سلامت زندہ باد کی صدائین بلند ہوئیں بھکاری کو بتایا گیا کہ آج کے بعد آپ ہمارے بادشاہ ہیں اس نے کہا کہ پھر میرا پہلا حکم ہے کہ میرا بندر لباس اور زنبیل سنبھال کر رکھی جائے پڑوس کی ریاست کو پہلے بادشاہ کی وفات اور بھکاری بادشاہ کے تقرر کا علم ہوا ہے تو انہوں اس ریاست پر حملے کیلئے لشکر روانہ کردیا جاسوسوں نے اس کی اطلاع بادشاہ کو پہنچائی بادشاہ/بھکاری نے کہا حلوہ پکاؤ عمل ہوا اگلے روز دشمن فوج قلعے کے باہر خیمہ زن ہوگئی تاکہ صبح حملہ کیا جائے بادشاہ کو اطلاع کی گئی حکم ہوا حلوہ پکاؤ صبح حملہ ہوا تو کہا حلوہ پکاؤ جب قلعے کادروازہ ٹوٹا دشمن فوج اندر داخل ہوئی بادشاہ کو اطلاع ہوئی تو کہا کہاں ہے میرا بندر اور ڈگڈگی اور لباس، پیش کیا گیا تو بادشاہ نے کہابھائی ہم آئے تھے حلوہ کھانے کھا لیا اب تم جانو اور تمہارا ملک یہی کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے دنیا ہماری کمزوریوں کے سبب ہمارا وجود مٹانے کے درپے ہے اور ہم صرف پانامہ اور اثاثے بچانے کے چکر میں ہیں ہم میں سے کچھ لوگ دشمنوں کے ہاتھ میں مہرے بنے ہوئے ہیں اور اپنے وطن اور قوم کے خلاف سازشوں میں شریک ہو کراپنی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں مبینہ طور پرآج کل جنیوا میں تقریباً ہر ٹرین ٹیکسی بس پر ایک اشتہار چل رہا ہے کہ بلوچستان کو بچاؤ بلوچوں کو آزادی دلاؤ اور یہ انگریزی میں ہے جبکہ سوئٹزرلینڈ میں جرمن بولی جاتی ہے اگر یہ بات درست ہے کہ جنیوا میں اشتہار بازی ہو رہی ہے تو ہمارا جنیوا میں موجود سفارتخانہ کیا کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ برہمداغ بگٹی کو بھی سویز حکومت نے پناہ دے رکھی تھی کیا ہم سے ڈو مور کہنے والوں سے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے ملک میں فساد اور تخریب کاری کروانے والے برہمداغ بگٹی خان قلات کے پوتے سلیمان داود ہر بیار مری الطاف حسین اور دیگر ملک دشمن عناصر کو کیوں پناہ دے رکھی ہے چند روز قبل الطاف کی ملاقات سلیمان داؤد اورامریکی سینیٹر ڈانا رہرا بیکر سے ہوئی جو 4 گھنٹے پر محیط تھی۔ یاد رہے کہ امریکی سینیٹر ڈانا روہرابیکر اسٹیو کنگ اور لوئی گوہمرٹ امریکی سینیٹ میں ایک بل پیش کر چکے ہیں جس میں بلوچوں اور مہاجروں پر نام نہاد مظالم کی بات کی گئی ہے الطاف امریکی سینیٹر اور سلیمان داؤد کی ملاقات کے بعد ایم کیو ایم اور نون لیگ میں مفاہمت ہو گئی ہے وزیراعظم خاقان عباسی کے انتخاب کے موقع پر ایم کیو ایم کی لیڈرشپ کو 25 ارب روپے دئے گئے جس کا بڑا حصہ لندن پہنچ چکا ہے محمد زبیر کی بطور گورنر تقرری حالانکہ گورنر ہمیشہ ایم کیو ایم ہی کا رہا ہے اور وہ بھی اردو اسپیکنگ لیکن ایم کیو ایم محمد زبیر پر صدقے واری جارہی ہے الطاف اور ایم کیو ایم پاکستان ایک ہی ہیں اگر کسی کو غلط فہمی ہے تو دور کرلے آج کل ایم کیو ایم کا تحریک انصاف کو دانا ڈالنا محض ایک دھوکہ ہے ان کا کوئی اتحاد نہیں ہوگا یہ محض پیپلز پارٹی کیلئے پیغام ہے تاکہ زرداری صاحب میاں صاحب سے مفاہمت کر لیں اور میاں صاحب کو ریسکیو کرنے کیلئے آئینی ترمیم پر راضی ہو جائیں ادھر را کے مستند ایجنٹ الطاف سے میاں صاحب کے رابطے کچھ اور ہی کہانی سنا رہے ہیں چند روز قبل ایک اہم ادارے کے سربراہ سوٹ کیس بھر کر کچھ فائلیں لندن لے کے گئے ہیں جہاں میاں صاحب سے ملاقات ہو چکی ہے کیا کوئی ادارہ اس افسر سے پوچھ سکے گا کہ سرکاری فائلیں جن میں ممکنہ طور پر کلاسیفائیڈ معلومات بھی ہو سکتی ہیں جو کسی ایسے شخص کے ہاتھوں میں پہنچ جائیں جہاں نہیں جانا چاہیئے ہو سکتا ہے کہ آئندہ کچھ دنوں میں پاکستان کے اداروں کے خلاف کوئی گل کھلانے کی کوشش کی جائے ان سب کا اور انڈیا امریکہ اور اسرائیل کا ہدف فوج تھی کیونکہ فوج کی وجہ سے یہ ملک قائم ہے وگرنہ گریٹر پنجاب، پختونستان آزاد بلوچستان اور سندھو دیش بن چکا ہوتا جس کے جواب امریکی تھنک ٹینک دیکھتے بھی رہے ہیں اور دکھائے بھی رہے ہیں اب اس ہدف میں آزاد عدلیہ بھی شامل ہو چکی ہے جسے باقاعدہ ہدف بنایا جا رہا ہے طنز تشنیع کے تیر برسائے جا رہے ہیں محب وطن لوگوں کو اس پر شدید تشویش ہے اور باخبر لوگوں کو ان تمام باتوں کا علم ضرور ہوگا اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے اور روسیاہی ہی وطن دشمنوں کا مقدر ہو اللہ وطن اور اہل وطن کو ہر شر سے محفوظ رکھے ۔آمین