- الإعلانات -

ہسپتال میں پرتشدد واقعات کے خاتمے کا قانون

ہسپتالوں میں بعض ڈاکٹروں اور بعض اوقات مریضوں کے لواحقین کے جارحانہ رویئے کی وجہ سے احتجاج اب معمول کی بات بن کر رہ گئی ہے۔ مریضوں کے لواحقین اور عملے کے درمیان آئے روز لڑائی جھگڑے کے واقعات بڑھتے ہی جا رہے ہیں کہ جس پر ڈاکٹروں نے کئی دفعہ احتجاج بھی کیا لیکن حکومت اس حوالے سے کوئی لائحہ عمل نہ طے کر سکی۔ اب ینگ ڈاکٹرز کے بھر پور احتجا ج اور سیکورٹی خدشات کے پیش نظرنئی پالیسی ترتیب دی ہے۔جس کے مطابق وارڈز میں داخل مریض سے ایک وقت میں ایک ہی لواحق موجود ہو گا۔ ہسپتال انتظامیہ اس حوالے سے ہر وارڈ کے لیے الگ سے خصوصی کارڈز جاری کرے گی اور لواحقین کو یہ کارڈز فراہم کیے جائیں گے۔محکمہ صحت نے تمام ہسپتالوں کے ایم ایس صاحبان کو اس نئی پالیسی پر عمل درآمد کے حوالے سے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔
ہسپتالوں میں لڑائی جھگڑے اور تشدد کے واقعات کے سدباب کیلئے پروٹیکشن اگینسٹ وائلنس ایکٹ 2017 کے مسودہ قانون پر تبادلہ خیال کیلئے مشاورتی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر برائے سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئراینڈ میڈیکل ایجوکیشن خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ ہاسپیٹل ایکٹ 2017کے تحت قانون سازی کے لئے ڈرافٹ ایکٹ تیار کرلیا گیا ہے جس میں جرم کی نوعیت کے مطابق سزائیں تجویز کی گئی ہیں اور اس کا مقدمہ کسی مجسٹریٹ کے بجائے سیشن جج کے پاس لگے گا۔ ہسپتالوں کو جائے امن بنانے کے لئے قانون سازی کے ساتھ شعبہ صحت سے وابستہ افراد اور مریضوں و لواحقین کو اپنے رویے میں تبدیلی لا کر ڈاکٹرز اور نرسز کو احترام دینا ہوگا۔
مجوزہ مسودہ قانون پر سب سٹیک ہولڈرز کی آراء لینے کے بعد اسے متعلقہ سٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے گا پھر اسمبلی میں قانون سازی ہوگی۔ خواجہ عمران نذیر اور نجم احمد شاہ نے کہا کہ ہسپتالوں میں عدم تحفظ کو ختم کرنے اور پرامن ماحول فراہم کرنے کے سلسلہ میں قانون سازی ڈاکٹرز کمیونٹی کا مطالبہ تھا جو پورا ہونے جارہا ہے۔
ہسپتالوں میں تشدد کے واقعات عموماً مریضوں کے لواحقین کی طرف سے دیکھنے میں آتے ہیں۔ لواحقین ہر صورت میں زندگی چاہتے ہیں۔ انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ مریض کی حالت کیسی ہے اور اس کے بچنے کے چانسز کتنے ہیں۔ جب یہ انہونی ہو جاتی ہے تو شدت غم سے پاگل ہو جاتے ہیں۔ پہلا ردعمل یہ ہوتا ہے کہ طبی عملہ نے لاپرواہی کی ہے اور جان بوجھ کر ان کے پیارے کو مار دیا ہے۔ ایسے میں وہ کسی کی نہیں سنتے اور اکثر اوقات پہلا شکار وہی اہلکار ہوتا ہے جو خبر دیتا ہے۔لواحقین بالعموم مرض کی پیچیدگی اور شدت سے آگاہ نہیں ہوتے اور بعض معاملات کو تو بہت معمولی سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر ڈیلیوری کیسز میں خوشی خوشی ہسپتال جاتے ہیں کہ نئے مہمان کے ساتھ واپس آئیں گے۔ اس دوران اگر خاتون کے ساتھ کچھ مسئلہ ہو جائے اور دوران زچگی مرجائے تو کہتے ہیں کہ انہوں نے تو ایک اچھی بھلی صحت مند خاتون عملہ کے حوالے کی تھی۔پیچیدگی سے ناآشنا ہونے کے سبب طبی عملہ کے گلے پڑ جاتے ہیں۔
بعض ڈاکٹرز بھی ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو ڈانٹ پلاتے ہیں اور گالم گلوچ کرتے ہیں نہ ہی مریض کو چیک کرتے ہیں اور نہ ہی صحیح علاج معالجہ وقت کی پابندی بھی نہیں کرتے ہیں۔
ڈاکٹرز کے ساتھ ساتھ تیمارداروں پر بھی کچھ اخلاقی ذمے داریاں لاگو ہوتی ہیں کہ ایک مریض کے ساتھ دس دس لوگوں کی بجائے ایک یا دو فرد ہونے چاہئیں تا کہ ایمرجنسی یا کسی اور وارڈ میں بلا وجہ کا رش نہ ہو تا کہ ڈاکٹر اور دیگر طبی عملے کو علاج کرنے میں دْشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ طبی عملے کے ساتھ اخلاقی طور پر پیش آئیں کیوں کہ وہ ہمارے لئے مسیحا کا درجہ رکھتے ہیں۔بلاوجہ چھوٹے بچوں کو اپنے ساتھ ہسپتالوں میں لے جانے سے گریز کیا جائے تا کہ بچوں کی چیخ و پْکار سے مریض اور معالج کو کوفت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یوں ہم اِن تمام باتوں پر اگر عمل کریں تو یقین کریں کہ ڈاکٹر، طبی عملہ اور تیمارداروں کے درمیان جو اختلافات اور لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں وہ انشاء اللہ ختم ہو جائیں گے۔
اس کے ساتھ ڈاکٹر حضرات ،نرسز اور دوسرے عملے کو تیمارداروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہئے تاکہ کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔لواحقین کا بھی فرض ہے کہ ہسپتال کے عملے سے تعاون کریں تاکہ آپ کے مریض کا بہتر علاج کیا جا سکے۔پہلے کی نسبت آج کل ہسپتالوں میں مریضوں اور ان کے لواحقین کیلئے بہتر سہولتیں موجود ہیں۔