- الإعلانات -

انتخابی معرکے میں ن لیگ کی جیت

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 کا بڑا انتخابی معرکہ مسلم لیگ (ن) کی امیدوار کلثوم نواز نے سرکرلیا،کلثوم نواز کو61256 جبکہ تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد کو47066ووٹ ملے۔ کلثوم نواز14190 ووٹوں کی برتری سے الیکشن جیت گئیں۔ ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار یعقوب شیخ نے 4174 ووٹ حاصل کیے جبکہ پیپلز پارٹی کے فیصل میر2520 ووٹ لیکر چوتھے نمبر پر رہے۔ حلقے میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 3لاکھ21ہزار746 ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 79ہزار6سو 42 ہے اور خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 42 ہزار 144 ہے۔ اس انتخابی معرکے میں کل 44 امیدوار ایک دوسرے کے مد مقابل تھے ۔ الیکشن کمیشن نے 220 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے۔2013ء کے انتخابی معرکے میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے 91683 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ان کے مد مقابل پی ٹی آئی کی ڈاکٹر یاسمین راشد نے 52354 ووٹ حاصل کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی تھی اور نواز شریف کو39329ووٹوں کی برتری رہی تھی جبکہ2017ء کے ضمنی الیکشن میں کلثوم نواز صرف 14188 ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کرپائیں جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو ضمنی الیکشن میں کم ووٹ پڑے ہیں اور پی ٹی آئی کا بنک ووٹ بڑھا ہے۔ چونکہ یہ حلقہ شریف خاندان کا آبائی حلقہ ہے اور اس میں ان کے امیدوار کو مات دینا مشکل ہے تاہم حلقے کے ووٹروں نے اس بار اپنے حق رائے دہی کا صحیح استعمال کیا۔ نواز شریف نے حالیہ الیکشن پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے لوگوں کو غائب کیا گیا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ29ہزارووٹوں کا سایہ ہے الیکشن کمیشن کیخلاف عدالت جائیں گے۔سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی 28 جولائی کو نااہلی سے خالی ہونیوالی قومی اسمبلی کی نشست این اے 120 پر ضمنی الیکشن میں کلثوم نواز نے کانٹے کے مقابلے کے بعد تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد کو ہرا کر کامیابی حاصل کرلی۔ پولنگ سٹیشنوں کے اندر اور باہر فوج تعینات کی گئی تھی جبکہ پولیس کی ڈیوٹی پولنگ سٹیشنوں کے باہر لگائی گئی تھی۔ امیدواروں کے کیمپ پولنگ سٹیشنوں سے فاصلے پر لگائے گئے تھے۔چیف پولنگ ایجنٹ خواجہ احمد حسان، پی ٹی آئی کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد، پیپلز پارٹی کے امیدوار فیصل میر، پیپلز پارٹی ورکرز کی امیدوار ساجدہ میر، جماعت اسلامی کے امیدوار ضیاالدین ایڈووکیٹ، آزاد امیدوار محمد یعقوب شیخ سمیت دیگر امیدواروں نے مختلف پولنگ سٹیشنوں کے دورے کئے۔ مسلم لیگ (ن)، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی اور دیگر عہدیداروں نے بھی سارا دن پولنگ سٹیشنوں کے باہر اپنے اپنے کارکنوں کے حوصلے بڑھائے۔ کامیابی پر مسلم لیگی کارکنوں نے شہر کے مختلف مقامات پر جشن منایا۔ آتش بازی کے مظاہرے اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کئے گئے اور منوں مٹھائی تقسیم کی گئی۔ کارکنوں کی بہت بڑی تعداد نے الیکشن میں کامیابی پر سجدہ شکر بجا لاتے ہوئے شکرانے کے نوافل ادا کئے۔ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ نواز شریف کے خلاف سازشیں ہو رہی تھیں جو آج بھی ہو رہی ہیں، این اے 120 کے عوام نے انہیں ناکام بنا دیا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ ملک میں اب عوام کی حکمرانی چلے گی اور وہی قانون ہو گا جس کے پیچھے آپ عوام کھڑے ہونگے۔ ہماری رائے ہے کہ انتخابی نتائج کو تسلیم کیا جائے۔ الیکشن میں ہار جیت ہوا کرتی ہے ہربار دھاندلی دھاندلی کی آوازیں آنا سمجھ سے بالاتر ہے نتائج کو تسلیم کرنا چاہیے اور آئندہ عام انتخابات کیلئے سیاسی امیدواروں کو تیاری کرنی چاہیے۔ دھاندلی دھاندلی کی رٹ کا خاتمہ ہی جمہوریت کیلئے نیک شگون ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو اپنی اس کامیابی پر فتح کا جشن منانے کی بجائے اپنے گرتے گراف کو بلند کرنے پر توجہ دینی چاہیے اور اداروں کے ساتھ تصادم سے گریز کرنا چاہیے۔ سیاست میں رواداری اور برداشت کا جمہوری کلچر ضروری ہے۔ اس کے بغیر جمہوریت پھل پھول نہیں سکتی۔
باجوڑ ایجنسی ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ
باجوڑ ایجنسی کی دور ا فتادہ تحصیل لوئی ماموند کے علاقے تنگی گڑیگال میں تحصیلدار فواد علی شاہ کی گاڑی کوریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے نشانہ بنایاگیا۔ تحصیلدار فواد علی شاہ ایک اطلاع پر لیوی اہلکاروں کے ہمراہ تنگی گڑیگال کے علاقے میں سرچ آپریشن کررہے تھے کہ اس دوران ان کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ۔دھماکے میں تحصیلداراور پانچ لیویز اہلکاروں سمیت سات افرادجاں بحق اوردواہلکارزخمی ہوگئے جبکہ تحصیلدار کی گاڑی مکمل طورپر تباہ ہوگئی ۔ دھماکے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیااورامدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں ۔ دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مقامی انتظامیہ پر ہونے والا حالیہ حملہ گذشتہ کچھ عرصہ میں ہونے والا بڑا واقعہ قرار دیا جارہا ہے ان واقعات کی ذمہ داری وقتا فوقتا کالعدم تنظیمیں قبول کرتی رہی ہے۔ دو روز قبل پاک افغان سرحد پر طورخم کے مقام پر نصب گیٹ کے قرین ایک سیکیورٹی چیک پوسٹ پر گرنیڈ حملہ ہوا تھا جس میں 6 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت9 افراد زخمی ہوگئے تھے۔واقعے کے بعد طورخم سرحد کو ہر قسم کی آمد و رفت کیلئے بند کردیا گیا تھا تاہم اگلے روز پاکستان اور افغانستان کے عسکری اور سول حکام کے درمیان ہونے والی فلیگ میٹنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان طورخم کے مقام پر بند سرحد کو دوبارہ کھول دیا گیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیرداخلہ احسن اقبال نے بم حملے کی مذمت کی اورحکام سے رپورٹ طلب کر لی گئی۔ باجوڑ میں بم دھماکے نے ایک بار پھر عوام میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، دہشت گردی کے ان واقعات کو روکنے کیلئے آپریشنز کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردوں کو جہاں کہیں بھی موقع ملتا ہے وہ اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے وار کرجاتے ہیں۔ انسانیت کے دشمنوں کے وار کو ناکام بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی عسکریت پسندانہ سوچ
وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی عسکریت پسندانہ سوچ ناکام پالیسی کی عکاس ہے، جنگ سے تباہ حال ملک افغانستان میں قیام امن کیلئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت ہے۔مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ امریکی فوج اس وقت افغانستان میں کیسے کامیاب ہوسکتی ہے جو اوبامہ انتظامیہ کے دور میں8گنا زیادہ طاقت کے ساتھ وہاں پر موجود تھی مگرکامیابی حاصل نہ کرسکی ۔ وہ اقوام متحدہ کے ممبروں کو بتائیں گے کہ اس علاقے میں امن واپس آنا چاہئے۔ افغان جنگجووں کیلئے فوجی حل قابل قبول نہیں ہے، اس کوسیاسی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔ افغانستان میں سیاسی حل کیلئے ضروری ہے کہ موجودہ حالات میں وہاں پر سرمایہ کاری کی جائے۔ وزیر خارجہ نے بجا فرمایا ہے پاکستان افغانستان کو مستحکم دیکھنا چاہتا ہے اور خطے میں امن کی بحالی کیلئے اس کی کاوشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ افغان حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ دہشت گردوں کی آماجگاہوں اور پناہ گاہوں کا خاتمہ کرے اور بھارت کا آلہ کار بننے کی بجائے پاکستان کیساتھ اپنے تعلقات کو خوشگوار بنائے یہی وقت کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں امن قائم ہو پائے