- الإعلانات -

جنیوا میں پاکستان مخالف مہم پر سوئس حکام سے احتجاج

ہر سال ماہ ستمبر میں اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کو موقع غنیمت جانتے ہوئے بھارت کے ایما پر بعض نام نہاد بلوچ تنظیموں کے مٹھی بھر کارکن یو این بلڈنگ اور جنیوا میں پاکستان مخالف مظاہرہ کرکے پاکستان کی ساکھ کو بٹہ لگانے کی اپنے تئیں ناکام کوشش کرتے ہیں جس میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کا واویلا کیا جاتا ہے۔گزشتہ برس کی طرح اس برس بھی سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)کی طرف سے اشتہاری مہم چلائی گئی ہے۔بی ایل اے کی اس گھناؤنی مہم کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب فرخ عامل نے اسے پاکستان کی سالمیت و خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔اس سلسلے میں انہوں نے سوئس ہم منصب کو مراسلہ بھیج کر اپنے خدشات سے بھی آگاہ کیا ہے۔ جبکہ پاکستان میں نامزد سوئس سفیر تھامس کولی کو دفتر خارجہ طلب کر کے جنیوا میں پاکستان مخالف اشتہاری مہم پر شدید احتجاج کیا گیا۔انہیں باور کرایا گیا کہ پاکستان کیخلاف سوئٹزرلینڈ کی سرزمین کا استعمال عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔سوئس حکام کو بھجوائے گئے اپنے مراسلے میں فرخ عامل کا کہنا تھا کہ ‘بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جسے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں نمائندگی حاصل ہے جبکہ سوئٹزرلینڈ میں آزاد بلوچستان کا نعرہ پاکستان کی سالمیت و خود مختاری پر حملہ ہے۔جگہ جگہ آزاد بلوچستان کے اشتہاروں اور بسوں پر جاری اشتہاری مہم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے اپنے مراسلے میں سوئس حکومت سے شدید احتجاج کیا اور اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔احتجاجی مراسلے میں سوئس حکام کو بتایا گیا کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔برطانیہ اور امریکہ میں بی ایل اے کے کئی نمائندے دہشت گرد قرار دیے جا چکے ہیں اور یہ کالعدم دہشت گرد تنظیم، بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر حملوں میں ملوث ہے۔بی ایل اے کے دہشت گرد بچوں، خواتین، مسیحی برادری اور شیعہ آبادی کے قاتل ہیں۔اقوام متحدہ کا دفتر رکھنے والے پرامن شہر جنیوا میں دہشت گرد سرگرمیاں تشویش کا باعث ہیں جبکہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے دہشت گردوں نے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کے لیے جنیوا کا استعمال کیا۔اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز کے سامنے پاکستان دشمن عزائم کا ہونا انتہائی تشویشناک ہے لہٰذا سوئٹزرلینڈ حکومت پوری قوت اور سنجیدگی سے ان اشتہاروں کے معاملے سے نمٹے۔ جنیوا شہر کے حکام کو کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے اور اس معاملے کی تحقیقات کرکے آئندہ ایسا ہونے سے روکا جائے۔ کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں اور اشتہاری کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مشن اور سفارت کاروں کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے۔پاکستان کو اس بات کا طعنہ دینا کہ دہشت گرد اس کی زمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرتے ہیں, وہ اپنے ہاں بھی جھانکیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔دہشت گردوں کی جانب سے سوئس زمین کا پاکستان مخالف سرگرمیوں کیلئے استعمال ہونا انتہائی تشویشناک ہے،اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے، جنیوا حکام کالعدم بی ایل اے کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا نوٹس لیں اور معاملے کی مکمل تحقیقات کر کے مستقبل میں انہیں روکا جائے۔ پاکستان ایک خود مختار ملک اور اس کا تمام وفاقی اور صوبائی علاقوں پر مکمل کنٹرول ہے.جہاں کے شہری وفاقی اکائی پر کامل یقین رکھتے ہوئے ہرقسم کی جمہوری اور سیاسی سرگرمی میں آزادانہ حصہ لیتے ہیں.بیرون ملک کچھ شر پسندوں کا بلوچستان میں انسانی حقوق کا واویلا بے بنیاد اور پاکستان مخالف لابی کا کیا دھرا ہے.اس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے سوا کچھ نہیں۔دنیا اس سے اچھی طرح باخبر ہے کہ بھارت اپنے ہاں اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جس کی نشاندہی اقوام متحدہ کے ہائی کمشنربرائے انسانی حقوق زید رعد ال حسین نے بھی کی ہے کو چھپانے کے لیے بیرون ملک خود ساختہ جلاوطن نام نہاد بلوچ رہنماوں کی پشت پناہی کررہا ہے۔بھارت اپنے مذموم اور گمراہ کن مقاصد میں نہ پہلے کبھی کامیاب ہوا ہے اور نہ آئندہ کبھی کامیاب ہو گا تاہم جنیوا جیسے پرامن ملک میں دہشت گرد تنظیموں کی ایسی سرگرمیاں ضرور تشویشناک ہیں۔امید ہے کہ سوئس حکام پاکستان کی تشویش کا ضرور ازالہ کریں گے۔
یو این او واقعی ایک ناکام ادارہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کو آئینہ دکھاتے ہوئے درست کہا ہے کہ یو این او اپنا کردار کھو چکی ہے۔جنرل اسمبلی کے 72 ویں سالانہ اجلاس میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے دنیا کی 193 اقوام کی تنظیم کو دنیا بھر میں اپنے مشن کو واضح انداز میں چلانے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام نہیں کر رہا۔ ادارے میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔امریکی صدر نے یو این کو ادارے پر اپنی بھاری سرمایہ کاری کا طعنہ بھی دیا کہ امریکا جن مقاصد کے لیے اقوام متحدہ میں پیسہ لگا رہا ہے اس کے نتائج نظر نہیں آ رہے۔اقوام متحدہ کو بیوروکریسی سے زیادہ لوگوں کے مسائل حل کرنے پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوئٹریس عالمی ادارے کی پالیسیوں میں اصلاحات لائیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 72 واں سالانہ اجلاس 12 ستمبر سے شروع ہو چکا ہے جبکہ 19 ستمبر سے سربراہان مملکت کے خطابات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جبکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی 21ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔امریکی صدر نے اقوام متحدہ میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے ادارے کی جس نااہلی کا ذکر کیا ہے وہ درست ہے کیونکہ یواین او اپنے قیام مقاصد بھلا کر طاقتور ممالک کی باندی بن چکا ہے۔دنیا میں امن کو برقرار رکھنے اور تصفیہ طلب مسائل کو جلد از جلد حل کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتا ہے۔مسئلہ فلسطین ہو یا کشمیر ہر دو جگہ پر اس ادارے کا اثر ورسوخ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔فلسطین پر اسرائیلی مظالم پر ادارے نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں جبکہ کشمیر پر اس کی اپنی قرار دادیں گزشتہ سات عشروں سے اسکا منہ چڑا رہی ہیں۔مسلم ورلڈ ادارے سے مکمل طور مایوس ہے تو اب امریکی صدر نے بھی اس پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ یو این او ایک ناکام ادارہ ہے جن مقاصد کے لیے اس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا وہ قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔امریکی صدر نے ممکن ہے امریکی مفادات کے پس منظر میں اسے ناکام کہا ہو لیکن یہ حقیقت ہے بطور مجموعی اس کی ستر سالہ کارکردگی صفر ہے۔اپنی ناکامی کا اعتراف اس کے نئے سربراہ انتونیو بھی یہ کہتے ہوئے کرتے ہیں کہ انتظامی معاملات میں پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔اس لئے وہ کسی بھی حوالے سے کوئی اقدام اٹھا نہیں سکتے ۔