- الإعلانات -

تباہی کا ذمہ داربھارت

کابل کے بین الااقوامی ‘حامد کرزئی ائیر پورٹ’ پرجولائی کے آخری ہفتے کے آخری دنوں میں بھارتی ضد اورہٹ دھرمی کی بدولت پچاس ٹن کے قریب قیمتی تازہ پھل سڑ گئے’جس کی بناء پر پھولوں کے سینکڑوں افغان تاجروں کولاکھوں ڈالروں کا نقصان اْٹھا نا پڑا، تفصیلات کے مطابق افغانستان بھرسے کابل ائیرپورٹ کے ذریعے بھارت نے’ارینا افغان ائیرلائنز’کو’افغان بھارت ایگریمنٹ‘ کے تحت بروقت مطلوبہ کارگو جہازمہیا کرنے سے عین وقت پر اپنی معذوری ظاہر کی اورمسلسل تاخیرکی بناء پر قیمتی تازہ ترین پھل کارٹنوں میں پڑے پڑے سڑگئے، جس کی تمام ترذمہ داری پھلوں کے افغان تاجروں نے بھارت پرعائد کرتے ہوئے اپنی حکومت پرزوردیا ہے کہ وہ (افغان حکومت) بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا ازسرنوجائزہ لے اوراْن کے حالیہ نقصان کا معاوضہ اْنہیں بھارت سے دلوائے’اندر کی کہانی جاننے والوں کا یہ کہنا ہے کہ بھارت جان بوجھ کرمختلف حیلے بہانوں کی آڑ میں افغانستان کی کمزورانتظامیہ پردباؤ ڈالنے کی پالیسی اختیار کیئے ہوئے ہے’ اور وہ پالیسی یہ ہے کہ کابل انتظامیہ جیسے نیٹو اورامریکی فو ج کے اعلیٰ حکام کوافغانستان کی اندرونی اور بیرونی سلامتی کے حساس ایشوز پراہمیت دیتی ہے و یسے ہی نئی دہلی کی خواہش ہے کہ بھارت کوبھی افغانستان کی سلامتی کے نازک معاملات میں اْتنی ہی اہمیت کا اور خصوصیت کا درجہ دیا جائے؟’افغانستان کی اعلیٰ سطحی انتظامیہ بھارت کی اِس بے تکی اور غیر ضروری خواہش کوکسی خاطر میں لانے پر بالکل تیار نہیں ‘چونکہ افغانستان کے باشعوراوراہل الرائے بااثرحلقے سمجھتے ہیں کہ ‘بھارت افغانستان تجارتی معاہدات’ ایک الگ چیزہے’جبکہ افغانستان کی مجموعی قومی سلامتی کے حساس ترین معاملات کے براہِ راست تعلقات پاکستان کو الگ رکھ کرسلجھائے نہیں جاسکتے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ بھارت افغانستان اورپاکستان کے باہمی تعلقات کومزید بگاڑ اورالجھاؤ کی طرف تو لے جاسکتا ہے بہتری کی طرف نہیں’لہٰذاء اب بھارت نے افغان انتظامیہ پراپنی اِسی ضد اور ہٹ دھرمی کومزید پریشراوردباؤ ڈالنے کیلئے گھٹیا اوراحمقانہ حربوں کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا ہے، یہاں پر یہ سوچنا اْن حلقوں کیلئے بڑی فکرمندی کا باعث ہونا چاہیئے ،جنہوں نے افغانستان میں ضرورت سے زیادہ بھارت پر اعتماد اور بھروسہ کرنے کی پالیسی اختیار کی اْنہوں نے خطہ میں بھارت کے نہایت ہی بھیانک سفارتی ٹریک ریکارڈ پر ایک سرسری جائزہ تک لینا گوارا نہیں کیا۔ یقیناًاہلِ پاکستان کو ہرقیمت پر افغانستان میں مستقل اور دیرپا امن کی بڑی اشد ضرورت ہے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کے گھروں کے صحن باہم ملحق ہیں دونوں جوانب کے سرحدی قبائل صدیوں سے ایک ہی مہذب کے ماننے والے’ ایک ہی الٰہی کتاب قرآنِ حکیم کے پیروکار، باہم ملی اخوت کے رشتوں میں بندھے ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی سانجھی ہیں ،عالمی طاقتوں کے مفادات اپنی جگہ لیکن سامراجی مذموم عزائم ‘اکھنڈ بھارت’کے بے سروپا اور من گھڑت از خود گھڑے تصورات رکھنے والے ملک بھارت کے سینگوں کو امریکا نے صرف اور صرف مسلم دشمنی کی ایماء پرافغانستان میں پھنسا یا ضرور ہے دیکھنا یہ ہے کہ غیور اور غیرت مند افغان عوام بھارت کو کیسے اْس کی حدود میں رکھنے میں کامیاب ہوپاتے بھی ہیں یا نہیں ؟چونکہ بھارت کا ماضی بتاتا ہے کہ وہ عرب صحراؤں کے اْس اونٹ کی مانند ہے جوپہلے اپنا سرکسی خیمے کے اندرگھسیڑتا ہے پھرآہستہ آہستہ وہ اْونٹ اْس خیمے کے اندر جا گھستا ہے اورخیمہ کے اندر بیٹھے ہو ئے سارے خاندان کواپنا بچاؤ کرنے کی خاطر اپنے خیمے سے باہر نکلنا پڑجاتا ہے‘قدیم افغانی مسلم فاتحین کی قابل صدافتخارتاریخ خصوصاًبرصغیرمیں مسلمانوں کی نشاۃ الثانیہ کی فاتحانہ عظمتوں کی ایک قابلِ رشک تاریخ ہے’جس پرغیرمنقسم ہند کا ‘تاریخ شناس ہرمسلمان’ بجا طورفخرکرسکتاہے’فاتحِ سومنات کے محمودغزنوی سے اوّلین مغل مسلمان فاتحِ ہند شنہشاہ بابرتک’جنہوں نے کابل سمیت ہند کے ایک سر ے دوسرے تک تاریخ ساز حکمرانی کی ایسی بے مثال روایات قائم کیں’جس کی اور کوئی مثال شائد ہی دنیا میں کہیں مل سکے’نئی دہلی کے موجودہ بھارتی قائدین میں چھپا ہوا مسلمانوں کے خلاف یہی تو ایسا پرانا بغض وعناد ہے جس بغض وعناد کے نسل در نسل زخموں کی کسک کو صدیاں گزرنے کے باجود تاحال وہ نہیں بھلاپائے‘ بھارت کے نزدیک 11/9 کا ‘سانحہ نیویارک’ یوں سمجھیں جیسے’بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا’امریکا نے افغانستان اور عراق پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا کیا جھوٹا الزام عائد کیا؟ بھارت نے یہی موقع غنیمت سمجھافورااْس نے بھی کشمیرمیں جاری کشمیریوں کی جائز انسانی آزادی کی جدوجہد کو ‘دہشت گردی’ کہنا شروع کردیا ،جب سے آرایس ایس کی کارسیوک تنظیموں بشمول بی جے پی نے نئی دہلی کا اقتدار سنبھالا اْس نے ‘اکھنڈ بھارت’ کے اپنے صدیوں پرانے خواب کی تعبیریں بنگلہ دیش’سری لنکا’نیپال’ پاکستان’افغانستان اورایران جیسی خود مختار ریاستوں کو بھارت کا حصہ بنانے میں ڈھونڈنی شروع کردیں بھارت کا امریکی کندھوں کا استعمال کرکے افغانستان میں مستقلا بیٹھنا اِسی سازش کی ایک کڑی سمجھیں جو شائد کچھ جذباتی افغانیوں کی فی الحال سمجھ میں نہیں آرہی ہوگی ،افغانستان کے پھلوں کے تاجروں کے کروڑوں ڈالروں کے نقصان کے پیچھے ایسی مبینہ فرسودہ سوچوں کی کارفرمائی ہے افغانستان کی سرزمین غیرملکی حملہ آوروں کے لئے ہمیشہ سے ناقابلِ شکست سرزمین رہی ہے، لہذاء ناقابلِ شکست ملکوں اورقوموں کواپناغلام بنانے کی سامراج دنیا کی جدید سائنس کا پہلا اصول یہی ہے کہ اْسے نام نہاد دوستی کے لارے لپے دئیے جائیں، اْس کیلئے دکھاوے کی ہمدردیاں جتائی جائیں، جس کے کئی راستے عالمی تباہ کاروں نے ایجاد کررکھے ہیں ذرا تاریخ کی جھاڑ پھٹک تو کریں مغل شہنشاہوں کے ادوار میں انگریز کس روپ میں ہند کے ساحل پر اترے تھے ‘تاجربن کر’ بالکل یہی تاریخی داؤ پیج بھارت نے امریکی شہ پر افغانستان میں آزمائے’ کرزئی جیسے احمق افغانی نئی دہلی کے چانکیائی چکمہ کا شکار ہوئے وعدہ کرکے وعدوں کو پورا نہ کرنا اْوپری ذات کے ہندوؤں کا پہلا اور آخری حربہ ہمیشہ سے رہا بحیثیتِ پاکستانی ہمیں اپنے انتہائی پڑوس میں اپنے ہی ہم مذہب افغانی مسلمان بھائیوں کے ساتھ جتنا لگاؤ اور انسیت ہے، اِس کا عملی اظہار پاکستانی قوم اب بھی باقاعدہ مستقل مزاجی کے ساتھ نبھا رہی ہے یہاں یہ کہنا بالکل قرینِ قیاس نہ ہوگا کہ افغانستان میں امن کے قیام کویقینی بنانے کے سوال پرنئی دہلی کے’پوائنٹ آف ویوو’کی اپروچ بھی بالکل ویسی ہی ہوگی جیسے کہ کوئی ایک اہم دردمند افغانی عہدبدار کی ہے ‘یقیناًنہیں’ چونکہ افغانستان کا امن دنیا میں سب سے زیادہ پاکستان کیلئے اہمیت وافادیت رکھتا ہے پْرامن افغانستان’ترقیِ یافتہ اور خوشحال افغانستان پاکستان کی اولین ضرورت ہے۔ ظاہر ہے جو بات پاکستان کیلئے بڑی اہمیت رکھتی ہے وہ بھارت کیلئے کیسے قابلِ قبول ہوسکتی ہے؟پست سے پست تر اندرونی خلفشارکی منہ بولتی تصویر والا افغانستان جہاں پر لاء اینڈ آرڈر کی ابتر صورتحال ہو’ایسا افغانستان بھارت کو ‘سوٹ’ کرتا ہے، جبھی تو امریکا کو ہمیشہ بھارت ہی مجبور کرتا ہے کہ وہ افغانستان سے واپس نہ جائے اور بھارت امریکی پشت پر سوار ہوکر افغانستان کا معاشی استحصال کرتا رہے یہ صورتحال کوئی تبدیل نہیں