- الإعلانات -

افغانستان!ماضی،حال مستقبل

گزشتہ سے پیوستہ
افغانی اب تک حالت جنگ میں ہیں مگر زندہ ہیں ۔تاریخ گواہ ہے کہ افغان کبھی بھی محکوم نہیں رہے۔ کیونکہ کہسار باقی… افغان باقی ۔اس فتح میں کلیدی کردار جہاد فی سبیل اللہ ، مسلمانوں کے اتحاد اور اسٹنگر میزائل نے ادا کیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمانا کے اگر میں ایک گروہ کو دوسرے گروہ سے شکست نہ دیتا رہوں تو یہ دنیا ظلم سے بھر جائے گی۔ اس جنگ میں بہت سے معجزے رو پذیر ہوئے راقم کو ایک واقعہ یاد ہے روس کا ایک حاضر سروس کاجنرل جس کی اسٹوری فوٹو کے ساتھ ایک کراچی کے اخبار نے شائع کی تھی۔ وہ تاشقند کی مسجد میں اذان دے رہا ہے ۔اس سے پوچھا گیا یہ کس طرح ہوا آپ حاضر سروس جنرل ہیں آپ کا کورٹ مارشل ہو سکتا ہے۔ اس نے کہا پرواہ نہیں۔ اسنے اپنے بیان میں کہا کہ میں ایک متعصب عیسائی روسی جنرل تھا۔ میں نے افغانستان میں ہرکت کرنے والی کوئی چیز نہ چھوڑی تھی سب پر بم گراتا تھا ۔ایک دفعہ چند افغان مسلمان قیدی میرے سامنے پیش کیے گئے ۔میں نے سوچا جس طرح عام قیدی ہوتے ہیں اس طرح یہ بھی ہونگے۔ لیکن میں حیران رہ گیا کہ وہ بے خطر مجھے اسلام کی تبلیغ کرنے لگے ۔میرے اندر سے ایک ا نسان جاگ اٹھا اور میں ایمان لے آیا۔ صاحبو! ۔ دنیا نے افغانوں کے خون کی وجہ سے سفید ریچھ سے نجات حاصل کی اس جنگ کے نتیجے میں مشرقی یورپ کی کئی ریاستیں آزاد ہوئیں۔دیوار برلن ٹوٹی اور وہ علاقے جو ترک مسلمانوں سے چھینے گئے تھے چھ اسلامی ریاستوں قازقستان، کرغزستان، اُزبکستان، ترکمانستان، آذربائیجان ، اور تاجکستان کی شکل میں آزاد ہوئیں۔پھردنیا کے چالیس ملکوں کے نیٹو اتحادی ،امریکہ اور پاکستانی لاجسٹک سپورٹ کے ساتھ عرصہ۱۷؍ سال سے افغانستان پر حملہ ہوئے۔ ظلم کی داستان شروع ہو گئی ہے بلگرام اور گوانتا موبے جیل کے قید ی ان ظالموں کی داستا نیں سنا رہے ہیں۔پاکستان کے سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے ایک فون کال پر امریکا کے سارے مطا لبات مان لیے ۔جبکہ امریکی خود اپنی کتابوں میں لکھ رہیں کہ ہم تو سمجھ رہے تھے تین چار مطالبات مانے جائیں گے مگر پاکستانی کمائنڈو جنرل نے سارے کے سارے مطالبات مان لیے۔ امریکہ نے تمام افغانستان کو نیست ونابود کر دیا ہے۔ اب پھرامریکا نے بھارت، شمالی اتحاد اور قوم پرست افغانیوں کو ملا کر پاکستان دشمن اشرف غنی حکومت پر قائم کر دی ہے۔ افغانستان سے پھر پہلے کی طرح پاکستان پر دہشت گرد حملے ہو رہے ہیں۔ ا مریکہ افغانستان سے فرار کے راستے تلاش کر رہا ہے اور اب امریکہ اپنی جنگ کو پاکستان میں لے آیا ہے۔پہلے روس اب امریکا پاکستان کو دھمکی دے رہا ہے۔ڈو مور کی رٹ لگا کر افغان طالبان سے لڑنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ اگر ۴۰؍ ملکوں کی نیٹو اتحادی فوجیں افغان طالبان سے نہیں لڑ سکیں اور ا یک ایک کر افغانستان سے نکل گئیں تو پاکستان کی فوج افغان طالبان سے کیوں لڑے۔ افغان طالبان اپنے ملک پر قابض امریکی فوج سے لڑ رہے جو ان کا حق ہے۔پاکستان غیرجانبدار ہے۔افغان طالبان جانیں اور امریکا جانیں۔پاکستان کی مجبوریوں کے باوجودافغان طالبان پاکستان کے دوست تھے اور اب بھی ہیں۔ دو دن پہلے افغانستان کے علما اتحاد نے پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ امریکا کی افغان جنگ کی وجہ سے ہمارے ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے ڈرون حملے ہوئے۔ خودکش حملے ہو رہے ہیں۔ نیٹو کنٹینرز کی وجہ سے ہماری سڑکیں تباہ ہو رہی ہیں،غیر ملکی جاسوس ہمارے ملک میں انسانیت دشمن کاروائیاں کر تے رہے۔ بلیک واٹر دہشت گرد تنظیم ملک دشمن کاروائیاں کر رہی ہے۔پاکستان کے دفاعی اداروں، ایئر پورٹ، مساجد،امام بارگاہیں، بزرگوں کے مزار، ہمارے بازار، کرکٹ میچ کے مہمان،ہمارے سیاسی لیڈر اور ان کے بچے، ہمارے مذہبی رہنما،ہماری بچیوں کے اسکول، کیاکچھ ہے جو تباہ نہ ہو گیا ہو؟ اس پر بھی صلیبی امریکہ خوش نہیں ہے ڈو مور ڈومور کی رٹ لگا رہے ہیں ۔ہمارے سپہ سالار نے امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی کا صحیح جواب دیا ہے کہ دنیا ہماری قربانیوں کو تسلیم کرے اور اب پاکستان نہیں دنیا ڈو مور کرے۔ ہم افغان جنگ کو پاکستان میں نہیں لا سکتے۔یہ سب کچھ کیوں ہے ؟ اس لیے ہے کہ ہم اللہ کے فرمان کہ یہود و نصارا مسلمانوں کے دوست ہرگز نہیں ہو سکتے جب تک مسلمان ان جیسے نہ ہو جائیں ۔اس لیے ہماری درد مندانہ گزارش ہے کہ امریکہ سے دوستی ختم کریں گزشتہ حکومت کی پارلیمنٹ کی قرادا اور دفاعی کمیٹی کی سفار شات اور آل پارٹی کانفرنس کے اعلانیہ پر عمل کریں اور اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کریں ۔ اگرجہادافغان کے ثمرات کی بات کی جائے تونمبر (ا) اس سے چھ اسلامی ریاستیں ، قازقستان، کرغزستان،اُزبکستان، ترکمانستان، آذر بائیجان اور تاجکستان آزاد ہوئیں۔ نمبر (۲) مشرقی یورپ آزاد ہوا۔ دیوار برلن پا ش پاش ہوئی۔ جرمنوں نے دیوار برلن کا ایک ٹکڑا جہاد کے پشتی بان جرنل حمید گل خان کو تحفے کے طور پر بھیجاجو آزاد دنیا کی طرف سے پاکستان کا اعزاز ہے۔ نمبر(۳) روس جس نے پاکستان توڑنے میں اپنی ایٹمی گن بوٹ سے پاکستان کی بحری ناکا بندی کر کے بھارت کا ساتھ دیا اس کا بدلہ ہماری بہادر فوج نے روس کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں حصہ لیکر بدلہ چکا دیا۔(۴)جہاد افغانستان سے تحریک آزادیِ کشمیر نے زور پکڑا۔نمبر (۵) پوری اسلامی دنیا میں امریکی پٹھو حکمرانوں کے خلاف اسلامی نظام حکومت کیلئے جدو جہد تیز ہوئی۔ ( یہ علیحدہ بات ہے کہ امریکا نے جہادی تحریکوں میں اپنے ٹاؤٹ ڈال کر ان کو بدنام کیا) نمبر (۶) ہماری بہادر فوج نے روس کے بانی ایڈورڈ کابلوچستان کے راستے مسلم دنیا کے خلیج کے علاقے تک پہنچنے کے خواب کو چکنا چور کیا۔صاحبو! قوم پرست افغان حکومت نہ ماضی میں پاکستان دوست تھی نہ اس وقت حال میں قوم پرست اشرف غنی افغان حکومت پاکستان کی دوست ہے نہ مستقبل کی قوم پرست حکومت پاکستان کی دوست ہو سکتی ہے۔ہاں طالبان کی اسلامی حکومت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دوست تھی اور انشاء اللہ مستقبل کی طالبان کی اسلامی حکومت ہی پاکستا ن کی دوست ہو گی۔ پاکستان کو امریکی بھارتی چالوں سے خبردار ہو کر افغان طالبان کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ اللہ مثل مدینہ مملکتِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین۔(ختم شد)