- الإعلانات -

وزیراعظم کا دورہ امریکہ

ہمارے وزیراعظم صاحب جو فرماتے ہیں کہ میرے وزیراعظم میاں صاحب ہیں جو دلوں کے وزیراعظم ہیں اگر انہوں نے اپنے موقف میں کوئی لچک پیدا کی ہے کیونکہ بھری اسمبلی نے انہیں بذریعہ ووٹ یقین دلانے کی کوشش کی تھی کہ آپ منتخب وزیراعظم ہیں اور اس یقین دہانی کے بعد اگر خود کو وزیراعظم سمجھنے لگ گئے ہیں تو ان سے مخاطب ہوا جا سکتا ہے خاص طور پر جب وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے جارہے ہیں ہماری اطلاع یہ ہے کہ ان کا خطاب میاں صاحب کے جنرل اسمبلی میں خطاب سے مختلف ہوگا اللہ کرے یہ سچ ہو اور شاید اس میں اٹھائے جانے والے نکات بھی قوم کی امنگوں کے مطابق ہوں جب امریکہ یاترا ہو گی تو امریکی حکام سے ملاقاتیں بھی ضرور ہوں گی اور کئی ہفتوں بعد اس سطح کا پہلا رابطہ ہوگا اس میں داخلی سلامتی کے علاوہ خارجہ تعلقات بھی اہم موضوع ہوگا جو موجودہ وقت میں نہایت اہمیت کا حامل ہے امریکہ اور پاکستان کے باہمی تعلقات بہت حد تک تناؤ کا شکار ہو چکے ہیں میاں صاحب کے ذاتی دوست مودی اس پر مزید تیل چھڑکنے میں مصروف ہیں موجودہ حالات میں پاکستان کے قومی مفادات کے تحفظ کے لئے منجھے ہوئے سفارت کاروں کی با معنی معاونت کی انتہائی شدید ضرورت ہے کیا موجودہ وزیر خارجہ کو خارجہ امور کی نزاکتوں کا تجربہ ہے؟ یا کم ازکم اس کی اہمیت کا انہیں کوئی ادراک ہے جو پہلے ہی ایسا بیان داغ چکے ہیں جو قوم کی امنگوں کے مطابق نہیں صدر ٹرمپ کے پالیسی بیان کے بعد جس میں انہوں نے پاکستان پر دہشتگردوں کی پاکستان کے اندر پناہ گاہوں اور انہیں ریاستی سطح پر تحفظ دینے کی بات کی ہے جس پر ریاست پاکستان نے بجا طور پر اپنے شدید ردعمل اور تحفظات کا اظہار کیا تھا سپہ سالار نے کھلے لفظوں میں کہا کہ ہم نے بہت ڈو مور کر لیا اب دوسروں کی باری ہے کہ وہ ڈو مور کریں پاکستان کی قربانیوں کے اعتراف کی بجائے اس طرح کے بیانات کے ذریعے ان کی بے قدری کی جارہی ہے اگر پاکستان نے کچھ نہیں کیا تو پھر کسی نے کچھ نہیں کیا سپہ سالار نے مزید کہا کہ امریکہ سے امداد نہیں اعتماد چاہتے ہیں ہماری قربانیوں کو تسلیم کیا جائے جس کا پاکستان بجا طور پر مستحق ہے ہم امریکہ سے تصادم نہیں چاہتے بلکہ امریکہ سے اپنے قومی وقار کے ساتھ برابری کی بنیاد پر اچھے دوستوں کی طرح معمول کے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں تعلقات میں بگاڑ کسی کے حق میں بہتر نتائج نہیں دے سکے گا دوسرے اب دنیا بہت بدل چکی ہے دنیا کے طاقت کے مراکز بدلنے لگے ہیں روس سے ہمارے تعلقات دن بدن بہتر ہو رہے ہیں چین سے ہمارے بہترین تعلقات ہیں پاکستان کے ساتھ کی گئی بے وفائیوں کے سبب پاکستان بھی اپنے قومی مفادات کے تناظر میں خود کو reposition کر رہا ہے یہ سیٹو سینٹو کازمانہ نہیں جس میں پاکستان کو یکطرفہ طور کچھ دئیے بغیر استعمال کیا گیا جب بھی پاکستان کو ضرورت پڑی ہمیں بدلے میں دھوکے ہی ملے جس امداد کا ذکر ہو رہا ہے اس کے بدلے میں پاکستان سے کیا کچھ نہیں لیا گیا بلکہ امریکی حرکتوں کی وجہ سے ہماری سالمیت تک داؤ پر لگ گئی تھی جب روس نے امریکہ کا یو ٹو جاسوس طیارہ گرا لیا تھا اور روسیوں نے بڈابیر پر سرخ دائرہ لگا کر پاکستان کو براہ راست بڈا بیر اڑا دینے کی دھمکی دی تھی چین اور امریکہ میں دوستی کرانے کا احسان کیا کم تھا جس سے امریکہ نے کھربوں کا فائدہ اٹھایا پھر بھی چھوٹی چھوٹی چیزوں کا احسان جتایا جاتا ہے امریکہ کے علم میں بخوبی ہوگا کہ ہمارا تعاون عالمی امن اور علاقائی استحکام کے لئے نہایت ضروری ہے پاکستان کے تعاون اور اسے آن بورڈ لئے بغیر افغانستان کا مسئلہ حل ممکن ہی نہیں ہو سکتا انڈیا کو افغانستان مین کوئی رول دینا غیر فطری ہے اس کا اس خطے میں کوئی رول نہیں بنتاپاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور اس ضمن میں اسے اپنی ذمہ داریوں کا پورا احساس ہے وزیر اعظم نے ٹرمپ کے بیان کے بعد جس طرح کے اقدامات کئے وہ قومی وقار کے عین مطابق تھے جس میں غیر ملکی وفود کو وہی مقام دیے جانے کے احکامات جاری کردئے جتنی اہمیت ان ملکوں میں ہمارے سفارت کاروں اور وفود کے ارکان کو دی جاتی ہے پچھلے 4 سال میں خطے کے نازک حالات کے باوجود وزیرخارجہ تک نہیں لگایا گیا جس سے خارجہ پالیسی اس حال کو پہنچی ہے ادھر ہمارے وزیرخارجہ نے بلا سوچے سمجھے ایک بیان داغ دیا کہ ہمیں اپنا گھر درست کرنا چاہئے کل وزیراعظم کی میاں صاحب کے دربار میں حاضری کے بعد ان کا بیانیہ بھی بدل گیا اور انہوں نے بھی وزیر خارجہ کی تائید کردی یہ دراصل میاں صاحب کا وژن ہے جسے وہ کئی سالوں سے تکرار بیان کرتے پھر رہے ہیں اور اس بیانیہ کے پیچھے کیا قومی مفاد ہے یہ تو میاں صاحب ہی بتا سکتے ہیں لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ 4 سال سے زیادہ عرصے مقتدر رہے تو اب تک کیا بھاڑ جھونکی گئی ریاست پاکستان نے ہزاروں فوجی اور سولین شہیدوں کی قربانیوں کے بعد سوات ضرب عضب سے لیکر خیبر فور تک دہشت گردی کی کمر توڑ دی جس کی دنیا معترف ہے کے پی کے میں دھماکے روز کا معمول تھا جہاں اب امن ہے فاٹا خیبر بلوچستان میں لوگ معمول کی زندگی گزار رہے ہیں یہ الگ بات ہے کہ سول انتظامیہ نے ان شورش زدہ علاقوں میں اپنی رٹ بحال کرنے میں دل چسپی نہیں دکھائی تو ہمارا وزیر خارجہ اور وزیراعظم سے سوال ہے کہ وہ مزید کیا کرنا چاہ رہے ہیں اور کس نے آپ کے ہاتھ باندھ رکھے تھے کہ آپ کچھ نہ کریں ادھر ریاست اپنے بقا کے لئے مصروف پیکار تھی حکومت پانامہ بچانے کی تگ و دو میں لگی ہوئی تھی اسے کسی اور کام کی فرصت ہی نہیں تھی آج آپ اپنے کپڑے گندے کرکے دنیا کو دکھا کر نیویارک میں دھو کر کس کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں یہ تو انڈیا اور امریکہ کی لائن ہے جسے میاں صاحب بلا سمجھے سوچے سالوں سے ٹو کرتے رہے ہیں کیا ریاست پاکستان سے زیادہ قربانیاں کسی نے دی ہیں کیا یہی بات آپ دنیا کے سامنے نہیں رکھ سکتے کہ یہ ہماری قربانیاں اور کامیابیاں ہیں ہم جو کر سکتے تھے اس سے بڑھ کر کیا ہم جتنی کسی کی قربانیاں نہیں ہیں یا پھر آپ دانستہ ایسا نہیں چاہتے کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کامیابی کا کریڈٹ فوج کے جائے گی لیکن سچ بھی تو یہی ہے بہرحال یہ ملک آپ کا بھی ہے جس کے صدقے آپ کو فرش سے عرش تک پہنچا دیا گیا حب وطن کا تقاضہ ہے کہ وطن اور اہل وطن کے مفادات کا تحفظ آپ کی اولیت ہونی چاہئے ملک ہے تو ہم ہیں آپ کے دورے کی کامیابی کیلئے پوری قوم آپ کی پشت پر ہے اور آپ کی کامیابی کے لئے دعا گو ہے اللہ آپ کو صدق دل سے قومی مفادات کے تحفظ کی توفیق عطا فرمائے اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ۔آمین
*****

گلے۔۔۔ شوق موسوی
وہ ایک فاصلہ ہر اِک کے ساتھ رکھتے ہیں
تمام کانٹے ہیں اپنے کو گُل سمجھتے ہیں
میاں نے قابل غور اُن کے مشورے نہ لئے
اگرچہ خود کو وہ اِک عقلِ کُل سمجھتے ہیں