- الإعلانات -

کون ذمہ دار ۔۔؟

uzair-column

ابھی اغواءبرائے تاوان میں قتل ہونیوالے تیرہ سالہ معصوم بچے کا دکھ جوں کا توںموجود تھا کہ راولپنڈی میں بینظیر ہسپتال کے نرسنگ ہاسٹل میں ایک نرس کی ہلاکت کی خبر نے پھر سے سسٹم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔معلوم نہیں کہ وہ قتل ہوئی یا طبعی موت مری یہ فیصلہ تو پوسٹمارٹم کے بعد ہی ہوگا اورپوسٹمارٹم کرنیوالے بھی ہسپتال کے ڈاکٹر ہی ہیں ۔ایم ایس نے تو یہ کہا ہے کہ جاں بحق ہونیوالی نرس مرگی کی مریض تھی اور اس کو اکثر دورے پڑتے رہتے تھے اور گذشتہ روز بھی کوئی ایسا ہی دورہ اس کیلئے جان لیوا ثابت ہوا جبکہ مرحومہ کے بھائی نے کہا ہے کہ میری بہن کو کسی قسم کی کوئی بیماری نہیں تھی ۔تاہم بینظیر ہسپتال سے یہ اطلاعات بھی آرہی ہیں کہ مرحومہ نرس کو مرنے سے قبل موبائل فون کے استعمال کرنے پر شاید مبینہ طور پر کوئی آدھا گھنٹے تک اس کی سینئر نے بہت شدید لیکچر دیا تھا اور اسے ڈانٹ ڈپٹ بھی کی تھی ۔جس کے بعد وہ کمرے میں گئی اور پھر انتہائی تشویشناک حالت میں اسے ایمرجنسی میں لایا گیا تو وہ جانبرنہ ہوسکی ۔اب اس میں کتنی حقیقت ہے یا صرف افواہ یہ تو وقت ہی ثابت کرے گا یا پھر جو میڈیکل رپورٹ آئیگی اس میں پتہ چلے گا چونکہ ہسپتال کے ایم ایس صاحب نے فرمان صادر کردیا ہے کہ مرحومہ کی موت مرگی کی بیماری کی وجہ سے ہوئی ہے تو ظاہر ہے کہ ان کے نیچے جو جونیئر ہیں انہوں نے بھی اپنی نوکریاں کرنی ہیں وہ کیونکر کوئی ایسی رپورٹ دے سکیں گے جس سے کہ اس نرس کے مرنے کی وجوہات عوام کے سامنے آئیں ۔یہ مسیحا جن سے قوم مسیحائی کی امید رکھتی ہے جب ان کے ہی ہاسٹلز یا ہسپتالوں میں ایسے وقوعات رونما ہونا شروع ہوجائیں تو پھر لوگ کہاں جائیں گے ،کس سے علاج کرائیں گے ،کون دوا دے گا اورکون دلاسہ دے گا۔جس طرح کہ راقم نے گذشتہ روز تحریر کیا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے تیرہ سالہ معصوم محسن صغیر کی ہلاکت کا فی الفور نوٹس لیا اور انہوں نے رپورٹ طلب کرلی مگر اس رپورٹ کے بعد کیا ہوا کہ اسی شہر میں ایک اور ایسا اندوہناک واقعہ پیش آگیا جو کہ بیان کرنے کے قابل نہیں ہے اسی وجہ سے راقم نے اس جانب توجہ مبذول کرائی تھی کہ صرف رپورٹ طلب کرلینے سے مسائل حل نہیں ہوتے ۔وزیراعلیٰ صاحب پنجاب اسمبلی سے پولیس ایکٹ کے حوالے سے کوئی قانون پاس کرائیں جس میں متعلقہ علاقے کا پولیس انچارج ذمہ دار ہو اس کو قرار واقعی سزا ملے ۔اگر ایسا کوئی اقدام اٹھالیا جاتا ہے تو پھر آنیوالے وقتوں میں شاید ایسے واقعات درپیش نہ آئیں ۔مگر چونکہ جمہوریت ہے ،سیاسی ماحول گرم ہے ،بلدیاتی انتخابات ہورہے ہیں ،شاید اس وجہ سے حکمرانوں کو کچھ مجبوریاں درپیش ہوں کہ چلو خیر ہے دو ،چار جانیں چلی جائیں مگر ووٹ نہ خراب ہوں ۔بھلا پھر مرنے کا بھی کس کو احساس ہوتا ہے ۔اب پھر نرس کی ہلاکت کے بعد شاید خادم اعلیٰ پنجاب اس جانب متوجہ ہوں کہ لگاتار دوسرے دن کیوں ایسا واقعہ درپیش آیا ۔اس سے قبل ایک سی ایس ایس کی تیاری کرنے والی طالبہ بھی تیسری منزل سے گر کر ہلاک ہوگئی ۔اس کے قتل کے الزام میں بھی اس کے دوست کو گرفتار کرلیا گیا ۔مگر ہمارے یہاں تو قانون ہی غریب کیلئے ہے جو امیر اوربااختیار ہو اس پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا وہ لڑکی تو مر گئی مگر خبریں یہ بتارہی ہیں کہ جس لڑکے پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس کو وی آئی پی پروٹوکول دیا جارہاہے ۔ہمارے ملک تو ماشاءاللہ نظام ہی نرالا ہے ۔زندہ تو لوگ ظاہر ہے کسی طرح نرغے میں آنہیں سکتے اگر کسی نے جان چھڑانی ہو تو مرنیوالے کو مورد الزام ٹھہرا کر فائل بند کردی جاتی ہے ۔اب بھلا تفتیش کرنیوالے قبر میں جاکر تو سوال کرنے سے رہے ۔اس کی واضح مثال ہے کہ وزیرآباد کے قریب ریلوے ٹرین کا ایک اندوہناک حادثہ پیش آیا تھا جس میں انتہائی قیمتی جانیں ضائع ہوگئی تھیں کیونکہ وہ جانیں اتنی اہم تھیں جس کے شکنجے میں بہت سے لوگوں کی گردنیں پھنس سکتی تھیں جب کوئی راستہ نہ ملا تو مرنے والے ڈرائیور پر الزام عائد کرکے اس کیس کو ہمیشہ کیلئے داخل دفتر کردیا گیا ۔اسی طرح کا ایک اورحادثہ گذشتہ دنوں جعفرایکسپریس کو درپیش آیا جس میں متعدد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں ،تحقیقات کا آغاز ہوا ،جب دیکھا کہ کسی کروٹ اونٹ نہیں بیٹھ رہا تو پھر جاں بحق ہونیوالے ڈرائیور کی گردن تو حاضر ہی تھی ۔ظاہر ہے کہ وہ دوبارہ زندہ ہوکر کسی بات کی تردید تو نہیں کرسکتا ۔وزیرموصوف نے کہہ دیا کہ ڈرائیور تیز رفتاری کا مرتکب ہوا اور یہی وجہ حادثے کی وجہ بنی اس نے بریکس لگانی کی کوشش کی مگر سپیڈ پر کنٹرول نہ کرسکا ۔حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ تیار ہوچکی ہے اور اس کے سامنے آنے سے قبل وزیر موصوف نے کہا کہ وہ کچھ نہیں کہہ سکتے ۔مصداق اس کے کہ ”کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے ….کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے “ظاہر ہے اگر سارا کچھ جناب وزیر صاحب فرما دیتے تو پھر رپورٹ کہاں جاتی ۔ہونا تو یہ چاہیے کہ سپریم کورٹ ایسے واقعات پر از خود نوٹس لے جس میں خصوصی طور پر مرنے والوں کو ذمہ دار ٹھہرا کر فائل بند کردی جاتی ہے ۔دیکھنے اورسوچنے کی بات تو یہ ہے کہ آخر یہ حادثات کیوں پیش آرہے ہیں ،کہیں نہ کہیں تو کوئی ایسی ٹیکنیکل خرابی ہے جو ان حادثات کو روکنے میں رکاوٹ بن رہی ہے ۔۔