- الإعلانات -

این سے 120 بڑا سیاسی معرکہ

پاکستان مسلم لیگ نون نے لاہور کے حلقے این اے 120 کا معرکہ مار لیا سو نون لیگ والوں کو مبارک ہو یہ انتخاب جو سابق وزیراعظم میاں محمد شریف کی خالی کی گئی نشست پر ہوا گو یہ ایک عام سا روٹین انتخاب ہونا چاہئے تھا لیکن نون لیگ اور تحریک انصاف نے اسے حق و باطل کے معرکے کے طور پر لیا عمومی روایت یہ رہی ہے کہ کوئی بھی ضمنی انتخاب ہو ہمیشہ مقتدر پارٹی ہی جیتا کرتی ہے اور یہی متوقع بھی تھا ویسے تو اس انتخاب میں درجن بھر سے زیادہ امیدوار مد مقابل تھے لیکن اصل مقابلہ نون لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان تھا محترمہ کلثوم نواز شریف اور پنجاب کی مشہور سماجی کارکن ڈاکٹر یاسمین راشد مد مقابل تھیں اس انتخابی مہم میں محترمہ مریم نواز پورے پروٹوکول کے ساتھ اور وزرا اور قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کی فوج لئے مختلف سماجی گروپوں سے ملاقاتیں کرکے لوگوں سے والدہ کے لئے ووٹ کی اپیل کرتی رہیں مبینہ طور پر اس دوران الیکشن کمیشن کے وضع کردہ قوانین اور اور رہنما اصولوں کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں الیکشن کے دن بھی حلقے میں ترقیاتی کام ہوتے رہے سڑکوں کی استرکاری ہوتی رہی وہ بھی اس قدر عجلت میں کہ سڑک پرکھڑی گاڑی کو ہٹانے کے بجائے اس کے اطراف میں سڑک پر کولتار بچھا کر ٹھیک کردیا گیا مخالفین لیگی لیڈروں پر حلقے ووٹروں میں رقوم کی تقسیم سرکاری نوکریوں کی تقرری کے پروانے تقسیم کرنے کے الزامات لگاتے ہیں بقول ڈاکٹر یاسمین راشد انہوں نے الیکشن کمیشن کو آدھے درجن کے قریب شکایات بھیجیں الیکشن کمیشن نے ہماری شکایات سنی ان سنی کردیں اس ضمن میں الیکشن کمیشن نے کوئی قدم نہیں اٹھایا سب ہمارے پاس سوائے عدالت جانے کے کوئی اور آپشن نہیں رہ گیا یہ تمام شکایات لے کر ہم ہائیکورٹ جارہے ہیں ڈاکٹر صاحبہ نے ان 29 ہزار ووٹوں کی بات بھی کی جن کی تصدیق نہیں کی جاسکی ان ووٹر لسٹوں میں ووٹر کا شناختی کارڈ نمبر تک درج نہیں اور یہ فہرستیں غیر مصدقہ لگ رہی ہیں لیکن مبینہ طور ہر یہ الیکشن کمیشن کی فراہم کردہ ہیں کئی لوگوں نے شکایت کی کہ ہمارے ووٹ کسی اور علاقے میں منتقل کر دئے گئے ہیں جب ہم اسی جگہ دہائیوں سے مقیم ہیں محترمہ کلثوم نواز کی کامیابی کے اعلان کے بعد محترمہ مریم نواز شریف نے بھی ایک عوامی اجتماع سے پرجوش خطاب کیا جس میں انہوں نے مرئی اور غیر مرئی قوتوں پر تبرا بھیجا الزام بھی لگایا کہ ہمارے لوگوں کو منہ پر کپڑا ڈال کر اٹھا لیا گیا جو تاحال برآمد نہیں ہو سکے ایک اخباری تحقیق کے مطابق جن کا ذکر مریم بی بی نے کیا ان تینوں افراد کو جو اپنے اپنے علاقے کے گلو بٹ ہیں اور لوگوں سے زیادتی اور دھونس دھاندلی کی شہرت رکھتے ہیں انہیں پولیس نے تھانے بلوا کر ان سے لکھوا کر پابند کیاگیا تھا کہ عام لوگوں کی جانب سے اگر ان کے خلاف کوئی شکایت موصول ہوئی تو ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی یہ وارننگ دیکر انہیں جانے کی اجازت دے دی گئی تھی لیکن مریم بی بی کی انگشت نمائی فوج اور اس کی ایجنسیوں کی جانب تھی جنہیں انہوں نے آڑے ہاتھوں لیا جب کہ فوج نے بارہا سیاسی عمل میں فوج کی جانب سے کسی عمل دخل کی سختی سے تردید کی الیکشن کمیشن کی جانب سے فوج کو الیکشن کے دن امن و امان کو یقینی بنانے کیلئے بلایا گیا آئینی طور پر تمام ادارے الیکشن کمیشن کی جانب سے بلانے پر مدد کے پابند ہیں کسی بھی پارٹی کی جانب سے دھاندلی یا غلط ووٹ ڈالنے کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی جو اداروں کی غیر جانب داری کا ثبوت ہے لیکن مریم بی بی بظاہر اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی نہیں بھولیں اور مسلسل طعن و تشنیع کے تیر برساتی رہیں نہ جانے ان کا ہدف پنجاب کے مقتدر باپ بیٹا تھے جو منظر سے غائب تھے یا دیگر ادارے لیکن مبصرین کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی ان کا ہدف رشتہ داروں کے علاوہ عدلیہ اور فوج اور اس کے ادارے تھے جن کو اشاروں کنایوں سے نشانہ بنایا گیا حق گوئی کا تقاضہ تو یہ تھا کہ وہ یہ بھی بتا دیتیں کہ کس قدر ریاستی مشینری ان کے تصرف میں تھی زکات کمیٹیوں کے کتنے لوگ ان کے ہم رکاب تھے جس کا الزام مخالف پارٹیاں لگا رہی ہیں الیکشن کے اختتام کے اگلے روز ہی مریم بی بی اور ان کے شوہر ریٹائرڈ کیپٹن صفدر لندن پدھار گئے جب کہ انہیں علم تھا کہ اگلے دن نیب عدالت نے انہیں اور ان کے والد شوہر اور بھائیوں کو بلا رکھا ہے لندن پہنچ جانے کے بعد انہوں نے ٹویٹ کیا ہے کہ ان کے والد کو عدالتی کارروائی میں حصہ نہیں لینا چاہیے یعنی ہم اس قدر طاقتور ہیں کہ ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہمارے خلاف تمام مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں توکیا مے فیئر کے وہ فلیٹ جن کا انکشاف پانامہ میں ہوا اور ان کی ملکیت کا اعتراف میاں صاحب اور ان کے صاحبزادے کرچکے ہیں اسی کی کا منی ٹریک تو عدالت نے مانگا تھا جو آپ اور آپ کا خاندان نہیں دے سکے کیا یہ بھی آپ کے خلاف سازش ہے دو ججوں نے تو میاں صاحب کو پہلے ہی اس لئے فارغ کردیا تھا کہ جو سچ میاں صاحب نے قومی اسمبلی کے فلور پر بولا تھا اس عدالت میں ثابت نہیں کر سکے اسے سیاسی بیان قرار دے دیا تو یہ کیس سیاسی کیسے ہوا آج بھی ملک میں مسلم لیگ کی حکومت ہے وزیراعظم اور مرکزی کابینہ مسلم لیگ کی پنجاب حکومت بھی آپ کی چیئر مین نیب نے ہمیشہ آپ کے خاندان کو ریلیف دیا جو ریکارڈ پر ہے اگر آپ واقعی سمجھتی ہیں کہ یہ سیاسی مقدمات ہیں تو کہتے ہیں سچ کو آنچ نہیں جو لوگ آپ کی والدہ کی غیر موجودگی کے باوجود الیکشن میں ہرا نہیں سکے تو آئندہ بھی کچھ نہیں کر سکیں گے تو ثابت ہوا کہ آپ کی سیاسی اور اخلاقی قوت اس قدر ہے کہ پاکستان میں موجود کوئی بڑی سے بڑی طاقت آپ کی راہ میں مزاحم نہیں ہو سکتی تو پھر ڈر کاہے کا بسم اللہ کیجئے آپ کے لئے بہت مناسب وقت ہے نیب عدالت کا سامنا کیجئے سیاسی کیس کی دھجیاں اڑا دیجئے اور سرخرو ہو جائیے یقین کریں یہ قوم لج پال قوم ہے دہائیوں آپ کو سر پر بٹھا کر رکھے گی اور اگر آپ نے دروغ گوئی سے کام لیا اس عوام کے اعتماد کو دھوکہ دیا ہے جس نے آپ کو گمنامی سے نکال کر سر آنکھوں پر بٹھایا تو پھر تاریخ کا کوڑے دان ہی آپ کا مقدر ہے اب انتخاب آپ کا یہ دنیا مستقل ٹھکانہ نہیں اصل ٹھکانہ تو جنت یا دوزخ ہے مرنے کے بعد سب کچھ یہیں رہ جائے گا اور کفن کی جیبوں بھی نہیں ہوتیں اللہ ہم سب کو سچ بولنے مال حرام اور چوری چکاری سے اجتناب کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین